InternationalPosted at: Jan 13 2026 4:33PM ٹرمپ کا ایران داؤ: وائٹ ہاؤس کی حکمت عملی جو'حکومت کی تبدیلی' کو نئے دفاعی حربے کے طور پر دیکھتی ہے

تحریر: ٹی این اشوک
واشنگٹن / دبئی، 13 جنوری (یو این آئی) ایسے وقت میں جب ایران دہائیوں کے بدترین کریک ڈاؤن کی لپیٹ میں ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کھلے عام ان فوجی اور غیر فوجی متبادل پر غور کر رہے ہیں جن کے بارے میں اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ یہ آمرانہ حکومتوں کے خلاف امریکہ کے رویے کو نئے سرے سے تشکیل دے سکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ سے لاطینی امریکہ تک جغرافیائی سیاسی نقشہ بدل سکتے ہیں, عوامی سطح پر دھمکیوں اور نپی تلی مبہم گفتگو کے پیچھے ایک گہری تزویراتی (اسٹریٹجک) سوچ چھپی ہے: کیا ایران ’جبرا عدم استحکام‘ کے اس نظریے کے لیے اگلا میدانِ عمل بن سکتا ہے جس کے بارے میں ٹرمپ اور ان کے مشیروں کا خیال ہے کہ یہ وینزویلا میں کامیاب رہا اور اسے دوسری جگہوں پر بھی دہرایا جا سکتا ہے۔
اس کا فوری سبب ایران میں پھیلتی ہوئی بے چینی ہے۔ دسمبر کے آخر میں معاشی تباہی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے (جہاں ریال کی قدر گر کر 1.4 ملین فی ڈالر تک پہنچ چکی ہے) اب ایرانی مذہبی قیادت کے لیے براہ راست چیلنج بن چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا اندازہ ہے کہ کم از کم 540 افراد ہلاک اور 10,600 سے زائد زیر حراست ہیں، تاہم انٹرنیٹ کی مکمل بندش کی وجہ سے ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ناممکن ہے۔
ایک سینئر امریکی اہلکار نے کہا، ’’یہ صرف بے چینی نہیں ہے، یہ حکومت کی قانونی حیثیت کا بحران ہے۔‘‘
اندرونی مشاورت سے باخبر متعدد امریکی حکام کے مطابق، ٹرمپ کو مختلف ردعمل کی ایک فہرست پیش کی گئی ہے، جس میں ایرانی سکیورٹی فورسز کے خلاف سائبر آپریشنز سے لے کر ایسے ٹارگٹڈ فوجی حملے شامل ہیں جن کا مقصد امریکی زمینی افواج کو بھیجے بغیر حکومت کی مظاہرین کو کچلنے کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔
ٹرمپ نے ’ایئر فورس ون‘ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ فوج اس کا جائزہ لے رہی ہے، اور ہم کچھ بہت سخت آپشنز دیکھ رہے ہیں۔‘‘ جب ان سے ایرانی جوابی کارروائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا ’’اگر انہوں نے ایسا کیا، تو ہم ان پر ایساوارکریں گے جس کا انہوں نے پہلے کبھی سامنا نہیں کیا ہوگا۔‘‘
حکام کا کہنا ہے کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، لیکن ٹرمپ کے لہجے اور بریفنگز کی رفتار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کارروائی کے قریب پہنچ رہے ہیں، باوجود اس کے کہ تہران مذاکرات کی خواہش ظاہر کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’ایران نے رابطہ کیا تھا، وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہمیں شاید ملاقات سے پہلے ہی کارروائی کرنی پڑے۔‘‘ ایران نے عوامی سطح پر ایسے کسی رابطے کا اعتراف نہیں کیا ہے۔
ٹرمپ کے مشیروں کا کہنا ہے کہ اس بار صورتحال مختلف اس لیے ہے کیونکہ صدر کو یقین ہے کہ دباؤ کام کرتا ہے۔ انتظامیہ کے اندر ٹرمپ اکثر وینزویلا کو ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ برسوں کی پابندیوں اور سفارتی تنہائی کے بعد، نکولس مادورو کا اقتدار ٹرمپ کے بقول ایک فیصلہ کن امریکی آپریشن کے بعد ختم ہو گیا جس نے قیادت کو بے بس کر کے باہر جانے پر مجبور کر دیا۔
اگرچہ اس کی تفصیلات خفیہ ہیں اور ناقدین وائٹ ہاؤس کے دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہیں، لیکن ٹرمپ اب وینزویلا کو ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھتے ہیں—وہ لمحہ جب دشمنوں نے ان کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینا شروع کیا۔ محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے حال ہی میں کہا، ’’ صدر ٹرمپ کے ساتھ کھیل نہ کھیلیں، جب وہ کچھ کرنے کا کہتے ہیں، تو ان کا مطلب وہی ہوتا ہے۔‘‘
تاہم، خود انتظامیہ کے اندر بھی بے چینی پائی جاتی ہے۔ کچھ حکام نے خبردار کیا ہے کہ فوجی کارروائی، چاہے وہ محدود ہی کیوں نہ ہو، الٹا اثر دکھا سکتی ہے اور ایرانی عوام کو حکومت کے گرد متحد کر سکتی ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ کے ا سپیکر پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر واشنگٹن نے مداخلت کی تو امریکی اڈے اور اسرائیل ’’جائز اہداف‘‘ ہوں گے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، جو اب 86 برس کے ہیں، کئی دنوں سے منظر عام پر نہیں آئے۔ تنازع کو بڑھانے کا کوئی بھی فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہے، جو امریکی منصوبہ سازوں کے لیے ایک غیر یقینی صورتحال ہے۔ ایک سابق انٹیلی جنس اہلکار نے کہا، ’’یہ 2011 کا لیبیا نہیں ہے۔ ایران کے پاس اتحادی، پراکسیز اور ایک طویل یادگار ہے۔‘‘
جس چیز نے سفارت کاروں کو سب سے زیادہ تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے وہ یہ ہے کہ شاید ایران آخری منزل نہیں ہے۔ ٹرمپ دنیا کو ایک بائنری (دو ٹوک) عینک سے دیکھتے ہیں: یا تو حکومتیں امریکہ کے معاشی اور سکیورٹی مطالبات کے ساتھ ہم آہنگ ہوں، یا پھر اس وقت تک بے پناہ دباؤ کا سامنا کریں جب تک کہ وہ ٹوٹ نہ جائیں۔ وائٹ ہاؤس کے اندر اس نقطہ نظر کے لیے جو سخت جملہ استعمال کیا جا رہا ہے وہ ہے: ’’گھٹنے ٹیکو یا مٹ جاؤ‘‘۔
ایران کے ساتھ کسی بھی کشیدگی کا براہ راست اثر چین اورہندوستام کے ساتھ ٹرمپ کے رویے پر بھی پڑے گا۔ چین، جو ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، اب تک تحمل کی تلقین کر رہا ہے۔ لیکن امریکی حکام کا خیال ہے کہ بیجنگ تہران کی خاطر واشنگٹن سے فوجی ٹکراؤ کے لیے تیار نہیں ہے۔
دوسری طرف ہندوستان ایک نازک مقام پر ہے۔ نئی دہلی کے واشنگٹن کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات اور تہران کے ساتھ تاریخی روابط ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ہندوستان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ مغرب کے سے زیادہ قریب ہو—جو کہ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں ہندوستان کی ’’ تزویراتی خودمختاری‘‘ کا امتحان ہوگا۔
یواین آئی۔ایف اے