Saturday, Mar 7 2026 | Time 11:12 Hrs(IST)
National

آئین اور دستور کے خلاف مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی جو روش چل رہی ہے، اس کی زد دوسرے لوگ بھی آئیں گے: مولانا فضل الرحیم مجددی

آئین اور دستور کے خلاف مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی جو روش چل رہی ہے، اس کی زد دوسرے لوگ بھی آئیں گے:  مولانا فضل الرحیم مجددی

نئی دہلی، 23 مارچ (یو این آئی)وقف ترمیمی بل کے منفی اثرات کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے کہاکہ آئین اور دستور کے خلاف مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی جو روش چل رہی ہے، یونفارم سول کوڈ کے ذریعہ آج مسلمانوں کو ان کے مذہب پر عمل کرنے سے روکا جا رہا ہے یا وقف بل کے ذریعہ مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور مذہبی جائداد کو ہڑپنے کی جو کوشش ہو رہی ہے، یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ تمام ہندوستانیوں کا مسئلہ ہے۔
مسلم پرسنل لا بورڈ، بہوجن سماج اور سکھ پرسنل لاء کی طرف سے کولکاتا میں‘دستور اور شہری حقوق‘ کے عنوان سے ایک روزہ ورکشاپ کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جو لوگ ہندوستان کے دستور پر، ہندوستان کے جمہوری اور سیکولر کردار پر یقین رکھتے ہیں، یاد رہے اگر ہم نے آج ان فاشسٹ طاقتوں کو ظلم و زیادتی اور دستور کی پامالی سے نہیں روکا تواگر آج مسلمانوں کا نمبر ہے کل دلتوں کا ہوگا، اس کے بعد آدیواسیوں کا، پھر سکھوں اور عیسائیوں کا اورپھر ایک ایک کرکے تمام لوگوں کا نمبر آئے گا،جب نازی مختلف گروہوں کو نشانہ بنا رہے تھے تو لوگ خاموش رہے اور جب آخر کار ان کا نمبر آیا تو ان کے حق میں بولنے والا کوئی نہیں تھا۔
انہوں نے دعوی کیا کہ ہندوستان کا مسلمان اس وقت تاریخ کے سب سے سنگین دور سے گزر رہا ہے، ہندوستانی مسلمان کے سامنے اپنی جان، مال، عزت و آبرو اور اپنے دین و ایمان کے تحفظ کا مسئلہ در پیش ہے، یکساں سول کوڈ اور وقف بل کے ذریعہ مسلمانوں کو ان کے مذہب اور مذہبی مقامات سے محروم کرنے اور ان کو ان کے دین و ایمان سے الگ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے، آئین ہند کے آرٹیکل ۵۲ سے آرٹیکل ۰۳تک جو ملک کے تمام شہریوں کے لئے مذہبی اور تہذیبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اس کی کھلی مخالفت کی جارہی ہے، ملک کے آئین کو پامال کیا جا رہا ہے، مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ملک کے انصاف پسند شہری بھی اس ظلم اور آئین کی خلاف ورزی کے خلاف خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
انہوں نے دعوی کیا کہہم سب جانتے ہیں کہ اس وقت ملک کے اقتدار پر وہ فاشسٹ طاقتیں قابض ہو چکی ہیں جو جمہوریت اور سیکولرزم پر یقین نہیں رکھتی ہیں، ان کو ملک کی ترقی اور فلاح و بہود سے کوئی مطلب نہیں ہے، یہ طاقتیں ملک کے جمہوری کردار، سیکولر روایات، مذہبی آزادی اور مساوات و برابری کے تصور کو مانتی ہی نہیں ہیں، فرقہ پرستوں کو خوش کرنے اور اپنا اقتدار بچانے کے لئے آئین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، اقلیتوں، دلتوں اور کمزور طبقات کے آئینی و دستوری حقوق کو چھینا جا رہا ہے، ہجومی تشدد (Mob Lynching) کے ذریعہ مسلمانوں اور دلتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، فرضی انکاؤنٹر اور بلڈوزر کے ذریعہ مسلمانوں،دلتوں اوردیگر کمزور طبقات کی جان و مال کو پامال کیا جا رہا ہے، تمام اقلیتیں، دلت، آدیواسی خصوصامسلمان تو آزادی کے بعد سے ہی ظلم وتفریق اور Discriminationکا شکار ہیں، کبھی مسلمانوں کے مذہب میں مداخلت کی کوشش کی گئی، کبھی فسادات کی پشت پناہی کرکے مسلمانوں کی جان و مال، عزت و آبرو کو پامال کیا گیا، مسلم نوجوانوں کو بلا کسی جرم کے سالہا سال جیل میں ڈال کر مسلمانوں کے مستقبل کو سنوارنے سے روکا گیا، اب تو مسلمانوں کی نماز،روزہ اور اذان پر ہنگامہ کرنا معمولی بات بن کے رہ گیا ہے، حکومت کے افراد اور سرکاری ملازمین بھی اعلانیہ مسلم مخالف بیانات اور اقدامات کی نہ صرف تائید کرتے ہیں بلکہ قانون کے رکھوالے خود قانون کا مزاق بناتے رہتے ہیں، اب تو عدالتوں میں بھی ایسے افراد پہنچا دیئے گئے ہیں جو مسلمانوں اور دلتوں کے معاملات میں جانبداری سے کام لیتے ہیں،اقلیتوں خاص کرمسلمانوں، دلتوں اور آدیواسیوں کے مقدمات میں عدالتوں کا رویہ بھی اب محل نظر بنتا جا رہا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ آج اگر اتراکھنڈ کے یو سی سی سے دلتوں اور آدیواسیوں کو الگ رکھا گیا ہے، تو یقین مانیں جس دن وہ مسلمانوں کی شریعت کے خلاف یو سی سی کو نافذ کرنے میں کامیاب ہو گئے، تو زیادہ دن دور نہیں جب وہ آدیوسیوں اور دیگر لوگوں کے رسم و رواج اور تہذیب کو بھی ختم کریں گے، آپ نے بود ھ وہار گیا میں دیکھا کہ کتنی آسانی کے ساتھ بدھسٹوں کے مقدس مقام پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور بدھسٹ احتجاج کر رہے ہیں مگر حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے، مسلمان وقف بل کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں لیکن حکومت پر کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے، آخر کیوں؟ کیوں کہ کہ ہم سب الگ الگ آواز اٹھا رہے ہیں، ہم ظلم کے خلاف متحد نہیں ہو پا رہے ہیں، ہم انصاف کے قیام کو یقینی نہیں بنا پا رہے ہیں،ہم دستور کی حفاظت کے لئے ایک مشترکہ آواز نہیں بن پا رہے ہیں، اگر ہم ظلم کے خلاف متحد نہیں ہوئے، ہم نے ان فاشسٹ طاقتوں کو دستور سے کھلواڑ کرنے سے نہیں روکا تو یقین مانیں آج ہم سے ہمارا وقف چھینا جا رہا ہے، کل دلتوں سے ریزرویشن چھینا جائے گا اور پرسوں سکھوں سے ان کی پہچان چھینی جائے گی، اس لئے ہم سب کو مل کر متحد ہو حکومت کی ظلم و زیادتی اور نا انصافی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنی ہوگی، اس کے لئے جہاں یہ ضروری ہے کہ ہم ملک کے تمام طبقات کو ساتھ لیں اور ایک دوسرے کے مسئلہ کو اپنا مسئلہ سمجھیں، ظلم اگر دلتوں کے خلاف ہو تو مسلمان کی نیند اڑ جائے اور مسلمانوں کا حق چھینا جائے تو دلتوں کا چین کھو جائے، سکھوں کے خلاف ظالمانہ اقدام ہو تو مسلم اور دلت آگے بڑھ کر مقابلہ کریں، یہ ملک ہم سب کا ہے، ہم سب کو مل کر اس ملک کو سنوارنا ہے، یہ ملک تبھی ترقی کرے گا جب یہاں انصاف کا اورقانون کا راج قائم ہوگا۔
انہوں نے اپیل کی کہ ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم ہر ظلم کے خلاف کھڑے ہوں گے انشاء اللہ تعالی، دوسرا کام جو ہم سب کو کرنا ہے وہ ذہن سازی کا کام ہے، ہم سب کو اپنے اپنے حلقہ میں عوام کے شعور کو بیدار کرنا ہے، ان کو ملک کے حالات سے با خبر کرنا ہے، آئین کو لاحق خطرات سے آگاہ کرنا ہے، کیوں کہ حقوق اور آزادی اسی کے چھینے جاتے ہیں جو خواب غفلت میں بے خبر پڑا رہے، لہذا ہم سب کو ایک تو متحد ہو کر اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے آواز بلند کرنا ہے،دوسرے اپنے اپنے حلقہ میں عوام کے اندر بھی بیداری لانا ہے،اور نفرت اور باٹنے کی سیاست کامحبت اور اتحاد سے جواب دینا ہے۔
اس علمی و فکری نشست میں ملک بھر کی مختلف ریاستوں سے ممتاز دانشور، ماہرین قانون، اور مختلف مکاتبِ فکر کے مفکرین شریک ہیں۔ جبکہ اس اہم اجلاس کے کنوینر جناب محمد ابوطالب رحمانی صاحب ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔

خاص خبریں
کسانوں کا جوکھم کم کرنے، آمدنی بڑھانے کے لیے کی گئی پہل کے نتائج نظر آرہے ہیں: مودی

کسانوں کا جوکھم کم کرنے، آمدنی بڑھانے کے لیے کی گئی پہل کے نتائج نظر آرہے ہیں: مودی

نئی دہلی، 6 مارچ (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو کہا کہ ان کی حکومت نے کسانوں کا جوکھم کم کرنے اور ان کی آمدنی بڑھانے کے لیے جو پہل کی ہیں ان کے نتائج نظرآ رہے ہیں مسٹر مودی نے بجٹ کے بعد قومی ویبینار کے سلسلے میں جمعہ کو تیسرے ویبینار کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 10 کروڑ کسانوں کو چار لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی پی ایم کسان سمان ندھی ملی ہے۔

...مزید دیکھیں
فضائیہ کا سخوئی لڑاکا طیارہ گر کر تباہ

فضائیہ کا سخوئی لڑاکا طیارہ گر کر تباہ

نئی دہلی، 6 مارچ (یو این آئی) آسام کے کاربی انگلونگ علاقے میں جمعرات کو فضائیہ کا  سخوئی-30 لڑاکا طیارہ حادثہ کا شکار ہو گیا جمعہ کی علی الصبح حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے فضائیہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ حادثہ جورہاٹ سے 60 کلومیٹر دور پیش آیا پائلٹ کے بارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں مل سکی ہے۔

...مزید دیکھیں
مودی کی سمجھوتہ کرنے والی پالیسیوں نے خارجہ پالیسی کو کمزور کیا: کھڑگے، راہل

مودی کی سمجھوتہ کرنے والی پالیسیوں نے خارجہ پالیسی کو کمزور کیا: کھڑگے، راہل

نئی دہلی، 6 مارچ (یو این آئی) کانگریس کے صدر ملیکارجن کھڑگے اور سابق صدر راہل گاندھی نے مودی حکومت پر امریکی دباؤ میں کام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ دار قوم کے طور پر ہندوستان نے ہمیشہ اپنے فیصلے خود کیے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں جس طرح امریکہ کے اشاروں پر کام ہو رہا ہے، اس سے ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنی سفارتی شاندار روایت کھو رہے ہیں مسٹر کھڑگے نے کہا، ’’ہندوستان کی اسٹریٹیجک خودمختاری اور قومی خودمختاری سنگین خطرے میں ہے کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی کو ایپسٹین فائلز اور آڈانی کیس کے حوالے سے بلیک میل کیا جا رہا ہے۔

...مزید دیکھیں
بے آبرو ہو کر سکسینہ دہلی سے لداخ گئے: عآپ

بے آبرو ہو کر سکسینہ دہلی سے لداخ گئے: عآپ

نئی دہلی، 6 مارچ (یو این آئی) عام آدمی پارٹی نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کو یہاں سے ہٹا کر لداخ بھیجے جانے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر سکسینہ بڑے بے آبرو ہو کر لداخ گئے ہیں عام آدمی پارٹی کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے جمعہ کے روز یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ دہلی سے بڑے بے آبرو ہو کر لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ لداخ چلے گئے۔

...مزید دیکھیں
ریلائنس کنزیومر پروڈکٹس کے ذریعے ہندوستان میں اپنی چاکلیٹ فروخت کرے گی فن لینڈ کی کمپنی فیزر

ریلائنس کنزیومر پروڈکٹس کے ذریعے ہندوستان میں اپنی چاکلیٹ فروخت کرے گی فن لینڈ کی کمپنی فیزر

نئی دہلی، 6 مارچ (یو این آئی) ریلائنس کنزیومر پروڈکٹس لمیٹڈ (آر سی پی ایل) نے فن لینڈ کی صفِ اول کی فوڈ کمپنی 'فیزر' کے ساتھ ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے آر سی پی ایل نے جمعہ کو ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ اس معاہدے کے تحت فیزر ہندوستانی صارفین کے لیے پریمیم چاکلیٹ اور کنفیکشنری مصنوعات پیش کرے گی۔

...مزید دیکھیں
برطانوی وزیراعظم کا عراق جنگ سے سبق سیکھنا اچھی بات: میئر لندن

برطانوی وزیراعظم کا عراق جنگ سے سبق سیکھنا اچھی بات: میئر لندن

لندن، 6 مارچ (یو این آئی) میئر لندن صادق خان نے کہا ہے کہ برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کا جنگ میں شریک نہ ہونا اور عراق جنگ سے سبق سیکھنا اچھی بات ہے جیو نیوز سے گفتگو سے کرتے ہوئے صادق خان نے کہا کہ برطانیہ کی دیگر سیاسی جماعتیں امریکہ کے ساتھ جنگ میں جانا چاہتی ہیں۔

...مزید دیکھیں
ابھشیک شرما کو خود پر یقین رکھنا ہوگا: کپل دیو

ابھشیک شرما کو خود پر یقین رکھنا ہوگا: کپل دیو

نئی دہلی، 06 مارچ (یو این آئی) ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان کپل دیو کا خیال ہے کہ سلامی بلے باز ابھشیک شرما، جو اس وقت خراب فارم سے گزر رہے ہیں، انہیں احمد آباد میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہونے والے فائنل سے قبل بروقت واپسی کے لیے "خود اعتمادی" کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

...مزید دیکھیں

سعودی پرو لیگ: دمک کی الریاض پر بڑی کامیابی، القادسیہ کا میچ پرواز کی منسوخی کے باعث ملتوی

06 Mar 2026 | 11:47 PM

دمام، 6 مارچ، (ّ یو این آئی)مشرقِ وسطیٰ میں جاری علاقائی کشیدگی اور فٹ بال لیگز کے التوا کے باوجود سعودی پرو لیگ کا سلسلہ جاری ہے۔ میچ ڈے 25 کے آغاز پر دمک نے الریاض کو یکطرفہ مقابلے کے بعد شکست دے کر اہم پوائنٹس حاصل کر لیے، جبکہ القادسیہ اور الخلود کے درمیان ہونے والا میچ سفری مسائل کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑا۔ابہا میں کھیلے گئے اس اہم میچ میں دمک اور الریاض، جو پہلے ہی 16، 16 پوائنٹس کے ساتھ برابر تھے، آمنے سامنے تھے۔ دمک نے کھیل کے آغاز سے ہی میچ پر گرفت مضبوط رکھی:.

’دھرندھر‘ کے بعد سولو لیڈ فلم میں کام کریں گے ارجن رامپال

07 Mar 2026 | 11:02 AM

ممبئی، 7 مارچ (یو این آئی) بلاک بسٹر فلم ’دھرندھر‘ کی زبردست کامیابی کے بعد ارجن رامپال ایک طاقتور سولو لیڈ کے ساتھ ایک بار پھر بڑے پردے پر واپسی کر رہے ہیں۔ یہ نئی، فی الحال اَن ٹائٹل فیملی ڈرامہ فلم تفریح کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط سماجی پیغام بھی لے کر آئے گی۔ کہانی زندگی کی سادگی، اپنی جڑوں سے جڑے رہنے اور ان رشتوں کا جشن مناتی ہے جو حقیقت میں اہمیت رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی روایتی مسالہ نہیں، بلکہ دل کو چھو لینے والی اور پورے خاندان کے ساتھ دیکھنے لائق کہانی ہے، جو ہمیں اپنی وراثت اور اپنوں کی قدر کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔.