NationalPosted at: Jan 13 2026 6:37PM آتشی نے گُروؤں کے خلاف بے ادبی کی: مشرا

نئی دہلی، 13 جنوری (یواین آئی) دہلی کے وزیرِ فن و ثقافت کپل مشرا نے کہا کہ اسمبلی کی قائدِ حزبِ اختلاف آتشـی نے سکھ گُروؤں کے بارے میں جو الفاظ استعمال کیے وہ بے ادبی، گناہ اور پاپ ہیں اور ان کا کوئی جواز نہیں تھا مسٹر مشرا نے منگل کو یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ 6 جنوری کو دہلی اسمبلی میں ایک غیر معمولی اور سنگین پاپ ہوا۔ گرو تیغ بہادر جی، بھائی ستی داس جی، بھائی متی داس جی اور بھائی دیالا جی کی شہادت کے 350 سال مکمل ہونے پر جاری بحث کے دوران قابلِ اعتراض زبان استعمال کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آتشـی کے الفاظ بے ادبی، گناہ اور پاپ ہیں اور ان کا کوئی جواز نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ واقعہ کے بعد محترمہ آتشـی مسلسل میڈیا، عوام اور اسمبلی سے غائب رہیں۔ اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا کی بار بار طلبی کے باوجود انہوں نے ایوان میں آکر اپنی وضاحت پیش نہیں کی۔
کابینہ وزیر نے الزام لگایا کہ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کی ہدایت پر اس معاملے کو دبانے کے لیے پنجاب حکومت کے وسائل اور پنجاب پولیس کا غلط استعمال کیا گیا۔ اس معاملے میں جھوٹے مقدمات درج کرائے گئے اور ڈرانے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سیاست کا نہیں بلکہ عقیدت اور ایوان کی عظمت سے جڑا ہوا ہے۔ اس معاملے میں مسٹر کیجریوال کو چاہیے تھا کہ وہ آتشـی سے معافی منگواتے۔ پنجاب پولیس کو اس پورے معاملے سے دور رکھا جانا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ آتشـی کو بھاگنے یا چھپنے کے بجائے میڈیا اور عوام کے سامنے آنا چاہیے۔ انہیں اسمبلی کی خصوصی مراعات کمیٹی اور قانونی عمل کا سامنا کرنا چاہیے۔
مسٹر مشرا نے کہا کہ 7 جنوری کو اسمبلی اسپیکر نے ویڈیو کا لفظ بہ لفظ ایوان میں پڑھا، جس پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ اس کے باوجود باہر جا کر پنجاب پولیس سے جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی گئی۔
انہوں نے پنجاب پولیس سے اپیل کی کہ وہ سیاسی کاموں کے بجائے ریاست کی حفاظت پر توجہ دے۔
یواین آئی۔ ظ ا