NationalPosted at: Jan 22 2026 6:18PM ہند۔ امریکہ "اچھے تجارتی معاہدے" کو حتمی شکل دینے کے لیے کوشاں

خصوصی تحریر:جینت رائے چودھری
نئی دہلی، 22 جنوری (یو این آئی) ہندوستانی حکام اب بھی امریکہ کے ساتھ "اچھے تجارتی معاہدے" پر کام کر رہے ہیں، جس کا وعدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈاؤس میں کیا تھا وزارتِ تجارت کےاعلیٰ سطحی حکام نے کہا ہے کہ معاہدہ "تقریباً مکمل" ہو چکا ہے لیکن زرعی تجارت پر ابھی تک اختلافات برقرار ہیں جو دونوں ممالک کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے اور جس پر سرکاری حکام اور تجارتی ماہرین تندہی سے کام کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا وزیرِ اعظم نریندر مودی کو "اچھا دوست" کہنا اور "اچھے معاہدے" کی پیش گوئی کرنا دونوں جانب سے ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ اعلیٰ سطح پر کسی اہم پیش رفت کا امکان ہے۔
حکام کے مطابق"جس بات نے اس تجارتی معاہدے کو غیر معمولی تحریک بخشی ہے وہ ہے امریکہ کی طرف سے ہندوستان کو اپنے 'پیکس سلیکا' اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت ... ہم اسے ایک اہم سیاسی اشارہ سمجھتے ہیں اور یہ تجارتی معاملات پر اختلافات کو نرم کرنے میں مدد دے سکتا ہے ... مگر یقیناً وہ سخت گیر سوداگر ہیں، تا ہم ہم بات چیت جاری رکھیں گے،"
پیکس سلیکا ایک اسٹریٹجک اتحاد ہے جس کا آغاز گزشتہ دسمبر میں کیا گیا تھا تاکہ عالمی سطح پر سلیکان کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے جو مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور اہم ٹیکنالوجیز کے لیے اہم معدنیات میں سے ایک ہے اور اس کا مقصد چین کی اجارہ داری کو چیلنج کرنا بھی ہے۔ ہندوستان کو اگلے ماہ اس اتحاد میں مکمل رکن کی حیثیت سے شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ کے اقتصادی تعلقات کے سابق سیکریٹری پیناک آر چکرورتی، نے کہا۔"ہم نے کئی امور پر اتفاق کیا ہے لیکن کچھ اختلافات اب بھی باقی ہیں۔"
تجارتی مذاکرات کاروں کا کہنا ہے کہ آٹوموبائلز، الیکٹرانکس، اعلیٰ درجے کی گاڑیوں، الیکٹرانک میڈیکل ڈیوائسز اور متعدد امریکی زرعی مصنوعات پر ٹیکسوں میں کمی کے بارے میں اتفاق رائے ہو چکا ہے۔
ہندوستان نے دفاعی مصنوعات کے لیے مارکیٹ تک رسائی بڑھانے اور امریکہ سے خام تیل کی خریداری میں اضافے کی پیشکش کی ہے جبکہ روس سے خام تیل کی خریداری میں کمی کا اشارہ بھی دیا ہے۔
پروفیسر بسواجیت دھر، جو سابق ہندوستانی تجارتی مذاکرات کے شریک کار رہ چکے ہیں، نے کہا۔
"جہاں ہم رکاوٹ کا شکار ہوئے ہیں وہ زرعی محصولات سے متعلق امور ہیں – وہ ہمارے غذائی اجناس۔ گندم، چاول …کی منڈیوں اور ہمارے دودھ کی صنعتوں میں مداخلت چاہتے ہیں۔ ہم چھوٹے کسانوں کے روزگار کو یقینی بنانا چاہتے ہیں جن کا انحصاران فصلوں اور مصنوعات پر ہے" ۔
ہندوستان نے 2025 میں ٹیکس کی غیر یقینی صورتحال کے باوجود امریکہ کو تقریباً 100 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات برآمد کیں جبکہ 2024 میں یہ رقم 87.34 ارب ڈالر تھی، جیسا کہ امریکی حکومت کے تخمینے اور اقتصادی اعداد و شمار بتاتے ہیں۔ امریکہ کا ہندوستان کے ساتھ تجارتی خسارہ 2024 میں 45 ارب ڈالر سے زائد تھا اور 2025 میں اس کے 50 ارب ڈالر سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
چکرورتی اور دھر کے بشمول مذاکرات میں شامل حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکس میں کمی کے بارے میں جو تجاویز پیش کی گئی ہیں، جن میں دالیں، دودھ اور کچھ زرعی مصنوعات اور دفاعی خریداریوں میں ڈرونز، ہائی ٹیک جیٹ فائٹرز اور راڈار سسٹمز شامل ہیں، وہ " مکمل طور پر تو نہیں" لیکن اس خسارے کو کافی حد تک کم کر دیں گی۔
پچھلے سال اگست میں، امریکہ نے اس معاہدے کورفتار دینے کی کوشش کی تھی اورہندوستان پر روسی تیل کی بڑی مقدار میں خریداری کا الزام لگا کر 50 فیصد ٹیکس عائد کر دیا تھا، جسے مغرب نے یوکرین کی جنگ کے خاتمے کے لیے پابندیوں کا حصہ قرار دیا تھا، حالانکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹیکس میں یہ اضافہ دراصل ہندوستان کو تجارتی معاہدے کی شرائط قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش تھی۔
تاہم تجزیہ کار یہ بھی مانتے ہیں کہ عالمی برتری کے لیے چین اور امریکہ کی مسابقت کے درمیان ہندوستان کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے۔
دونوں بڑی جمہوریتوں کے تعلقات نہ صرف ٹیکس تنازعے کی وجہ سے کشیدہ ہوئے ہیں بلکہ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد صورتحال میں مزید ابتری آئی کہ انہوں نے گزشتہ سال ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرائی جبکہ ہندوستان کا اصرارہے کہ ہندوستانی میزائلوں کے ذریعے کئی ہوائی اڈوں اور اسٹریٹجک بنکروں کو نشانہ بنانے کے بعد پاکستان نے ہوش کے ناخن لیے۔۔
تاہم، جیسا کہ چکرورتی نے کہا، "امریکہ اور ہندوستان دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے اور کسی نہ کسی طریقے سے ان تعلقات میں موجود رکاوٹوں کا حل نکال لیا جائے گا ۔ وہ تعلقات جن کی استواری میں دونوں ممالک گزشتہ پچیس برسوں سے سرگرم رہے ہیں۔"
یو این آئی ۔ ایس وائی