NationalPosted at: May 13 2026 10:47PM نو منتخب ایم ایل اے کو تحریک اعتماد پر ووٹ دینے سے روکنے کا فیصلہ قابل اعتراض: سپریم کورٹ

نئی دہلی، 13 مئی (یو این آئی) سپریم کورٹ نے بدھ کے روز مدراس ہائی کورٹ کے اس حکم پر روک لگا دی، جس میں نو منتخب تملگا ویٹری کژگم (ٹی وی کے) ایم ایل اے آر سرینواس سیتوپتی کو تمل ناڈو اسمبلی میں کسی بھی تحریک اعتماد پر ووٹ ڈالنے سے روک دیا گیا تھا جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس وجے بشنوئی کی بنچ نے ہائی کورٹ کے حکم اور اس معاملے میں مزید کارروائی پر روک لگاتے ہوئے کہا کہ "یہ حکم کم سے کم الفاظ میں کہیں تو انتہائی قابل اعتراض ہے۔"
مدراس ہائی کورٹ نے یہ حکم شکست خوردہ امیدوار کے آر پیریا کروپن کی جانب سے آئین کی دفعہ 226 کے تحت دائر درخواست پر صادر کیا تھا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ انتخابی نتائج کو صرف 'الیکشن پیٹیشن' کے ذریعے ہی چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ ہائی کورٹ نے خود یہ تسلیم کیا تھا کہ انتخابی عرضی ہی مناسب راستہ ہے، اس کے باوجود اس نے دفعہ 226 کے تحت دائر کارروائی میں ہدایات جاری کر دیں۔
اعلیٰ عدالت نے مسٹر پیریا کروپن کو نوٹس جاری کیا، جو الیکشن میں سرینواس سیتوپتی سے ہار گئے تھے۔
مسٹر پیریا کروپن نے گنتی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک پوسٹل بیلٹ غلطی سے دوسرے حلقہ انتخاب میں بھیج دیا گیا اور بعد میں اسے کالعدم قرار دے دیا گیا۔
ان کے مطابق ضلع سیوا گنگا کے تروپتور حلقہ انتخاب کے لیے جاری کردہ پوسٹل بیلٹ غلطی سے ضلع تروپتور کے تروپتور اسمبلی حلقہ میں بھیج دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے اسے مسترد کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس پوسٹل بیلٹ کو درست حلقہ انتخاب میں شمار کیا جاتا، تو نتیجہ ان کے اور فاتح امیدوار کے درمیان برابری پر ختم ہوتا۔
مسٹر پیریا کروپن نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے ووٹوں کے اعداد و شمار میں بھی مبینہ تضاد پر اعتراض کیا تھا۔
واضح رہے کہ آر سرینواس سیتوپتی نے ضلع سیوا گنگا کی تروپتور اسمبلی سیٹ صرف ایک ووٹ کے فرق سے جیتی تھی۔
یو این آئی۔ این یو۔