NationalPosted at: Aug 6 2026 2:17PM انڈیا بلاک کا پارلیمنٹ کے باہر ایک بار پھر زبردست احتجاج، رام مندر فنڈز اور طلباء پر لاٹھی چارج پر امت شاہ سے جواب کا مطالبہ

نئی دہلی، 06 اگست (یو این آئی) اپوزیشن جماعتوں کے 'انڈیا' بلاک نے جمعرات کو مرکز کے خلاف اپنے حملوں کو تیز کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے مکر دوار پر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے رام مندر کے چندے میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات اور امتحانات سے متعلق مسائل پر احتجاج کرنے والے طلباء کے خلاف پولیس کی مبینہ زیادتیوں پر جواب دینے کا مطالبہ کیا اس مظاہرے میں کانگریس کے صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے، کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، کانگریس رہنما پرینکا گاندھی واڈرا، سماجوادی پارٹی، ترنمول کانگریس اور دیگر انڈیا بلاک کے اتحادی ارکان نے شرکت کی۔ مکر دوار کے قریب جمع ہو کر اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے نعرے بازی کی اور پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ کی موجودگی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت پر ملک سے متعلق مسائل سے بھاگنے کا الزام لگایا۔
ہاتھوں میں پلے کارڈز تھامے اور "امت شاہ جواب دو" اور "گرہ منتری سدن میں آؤ" جیسے نعرے لگاتے ہوئے احتجاجی اراکین پارلیمنٹ نے کہا کہ ایودھیا میں شری رام جنم بھومی مندر کے لیے جمع کیے گئے عوامی چندے کے مبینہ غلط استعمال اور طلباء کے خلاف پولیس کارروائی سے متعلق سوالات کے جوابات دینے کے لیے پارلیمنٹ ہی مناسب فورم ہے۔
مظاہرے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں نے الزام لگایا کہ رام مندر پروجیکٹ کے لیے عقیدت مندوں کی طرف سے دیے گئے چندے میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات پر مرکز اطمینان بخش وضاحت دینے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور حکومت کو اس پر تفصیلی بیان دینا چاہیے۔
ایک اپوزیشن رہنما نے کہا، "جن لوگوں نے رام مندر فنڈ میں تعاون کیا، انہوں نے عقیدت کے ساتھ ایسا کیا۔ چندے کے غلط استعمال سے متعلق کسی بھی الزام کو شفاف طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ حکومت اتنے سنگین سوالات پر خاموش نہیں رہ سکتی۔"
انڈیا بلاک نے 20 جولائی کو پیپر لیک تنازعات اور امتحانات سے متعلق دیگر مسائل پر احتجاج کرنے والے طلباء پر پولیس کی مبینہ کارروائی کے حوالے سے بھی حکومت پر اپنا حملہ تیز کر دیا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے الزام لگایا کہ سکیورٹی فورسز نے پرامن مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنز کے استعمال سمیت شدید طاقت کا استعمال کیا اور مطالبہ کیا کہ اس کے ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا جائے۔
ایک اور اپوزیشن رہنما نے کہا، "اس ملک کے طلباء اپنے مستقبل اور امتحانات کی شفافیت کے بارے میں جائز تشویش ظاہر کر رہے تھے۔ ان کی بات سننے کے بجائے ان کے خلاف مبینہ طور پر وحشیانہ طاقت کا استعمال کیا گیا۔ ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا جانا چاہیے اور حکومت کو بتانا چاہیے کہ کیا ہوا تھا۔"
رام مندر کے چندے میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات اور طلباء کے احتجاج پر پولیس کے رویے کے یہ دونوں معاملے پارلیمنٹ کے جاری مانسون اجلاس کے دوران تصادم کی بڑی وجہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے دونوں ایوانوں کے اندر اور باہر ان معاملات پر بحث کا مطالبہ کیا ہے اور حکومت پر اہم بحث سے بچنے کا الزام لگایا ہے۔
جیسے جیسے ایوان کی کارروائی میں بار بار رکاوٹیں آتی رہیں، اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے واضح کیا کہ وہ اس وقت تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے جب تک حکومت ان کے مطالبات کا جواب نہیں دیتی۔ مکر دوار پر جمعرات کا مظاہرہ رام مندر کے چندے اور طلباء کے احتجاج سے نمٹنے کے حوالے سے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے انڈیا بلاک کی ایک اور منظم کوشش تھی۔
مانسون اجلاس کے دوران امتحانات سے متعلق تنازعات، رام مندر کے چندے کے مبینہ غلط استعمال اور وزراء کی جوابدہی کے مطالبات کو لے کر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مسلسل ٹکراؤ دیکھا جا رہا ہے۔ چونکہ دونوں میں سے کوئی بھی فریق پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں ہے، اس لیے آنے والے دنوں میں بھی پارلیمانی کارروائی پر ان ہی مسائل کے غالب رہنے کی توقع ہے۔
یو این آئی ایف اے