NationalPosted at: Aug 19 2026 5:14PM چار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری

نئی دہلی، 19 اگست (یو این آئی) حکومت نے مغربی بنگال، اڈیشہ، تمل ناڈو اور آندھرا پردیش میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے چار منصوبوں کو منظوری دی ہے اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے بدھ کے روز یہاں پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقدہ کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی کی میٹنگ میں ان منصوبوں کو منظوری دی گئی تقریباً 410 کلومیٹر طویل ان منصوبوں کی تعمیر کی تخمینہ لاگت تقریباً 9,450 کروڑ روپے ہے اور انہیں سال 31-2030 تک مکمل کیا جانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں میں مغربی بنگال اور اڈیشہ میں 173 کلومیٹر طویل کھڑگپور - بھدرک (رانی تال) چوتھی لائن، اڈیشہ میں 75 کلومیٹر طویل بھدرک - ہرپرداس پور چوتھی لائن، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو میں 90 کلومیٹر طویل گمڈی پونڈی - گڈور تیسری و چوتھی لائن نیز اڈیشہ میں 72 کلومیٹر طویل کٹک - پارادیپ (بدابندھا) تیسری و چوتھی لائن شامل ہیں۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ ان چاروں منصوبوں کے مکمل ہونے سے آٹھ اضلاع میں ریل رابطہ مضبوط ہوگا اور تقریباً 6,448 دیہات کو اس کا فائدہ ملے گا۔ منصوبوں کی تکمیل سے ان ریاستوں کی تقریباً 60 لاکھ آبادی مستفید ہوگی، اس سے ریل آپریشن کی صلاحیت بڑھے گی، بھیڑ کم ہوگی اور مسافروں نیز سامان کی آمد و رفت آسان ہوگی۔ ان منصوبوں سے کوئلہ،خام لوہے، سیمنٹ، لوہا و اسٹیل، کنٹینر، گاڑیاں اور اناج وغیرہ کی نقل و حمل کے لیے سالانہ تقریباً 7.6 کروڑ ٹن اضافی مال برداری کی صلاحیت بہتر ہوگی۔
مسٹر ویشنو نے بتایا کہ ان منصوبوں سے کلڈیہا وائلڈ لائف سینکچری، بھیتر کنیکا نیشنل پارک، ماں بھدرکالی مندر، ماں دھامرائی مندر، پنچ لنگیشور مندر، ساحلی سیاحتی مقامات، پلیکٹ جھیل، نیلا پٹو برڈ سینکچری، ویر راگھو پیرومل مندر، گڈا کنجنگا جگن ناتھ مندر، سرلا مندر، ڈھابلیشور مندر اور للت گیری جیسے اہم سیاحتی مقامات کو بہتر ریل رابطہ ملے گا۔
ان منصوبوں سے تقریباً 13 کروڑ لیٹر تیل کی درآمد میں کمی اور تقریباً 65 کروڑ کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آنے کا تخمینہ ہے۔ یہ منصوبے پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت تیار کیے گئے ہیں۔
یو این آئی ایف اے