OthersPosted at: Jun 3 2026 9:48PM ٹی ایم سی 2.0 کا جنم، لیکن کیا اسے سیاسی افق پر اپنی جگہ مل سکے گی؟

خصوصی تحریر: جینت رائے چودھری
کولکاتہ، 3 جون (یو این آئی) اب یہ باضابطہ طور پر واضح ہو چکا ہے کہ ترنمول کانگریس تقسیم ہو گئی ہے اور پارٹی کے 80 میں سے 59 اراکینِ اسمبلی نے ممتا بنرجی کی قائم کردہ اور زیرِ قیادت جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔
تاہم سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ نئی جماعت سیاسی افق پر اپنی مستقل جگہ بنا سکے گی؟ کسی بھی سیاسی جماعت کی بقا کے لیے عموماً تین بنیادی عناصر ضروری ہوتے ہیں: ایک واضح نظریہ، ایک اعلی قیادت اور عوامی حمایت۔
سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے زیرِ بحث ہے کہ ٹی ایم سی 2.0 جو غالباً 1998 میں قائم ہونے والی اصل ترنمول کانگریس کا نام اور انتخابی نشان اپنے پاس رکھے گی، عوام میں مقبولیت حاصل کر سکے گی؟ کیا وہ ان 41 فیصد ووٹروں کی حمایت بھی حاصل کر پائے گی جنہوں نے گزشتہ انتخابات میں ممتا بنرجی اور ان کی جماعت کو ووٹ دیا تھا؟
اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ نسبتاً کم معروف رہنما رتوبرت بنرجی جن کا ممتا بنرجی سے کوئی خاندانی تعلق نہیں، کیا اتنے کرشماتی ہیں کہ لاکھوں حامیوں والی ممتا بنرجی کے خلاف اس سیاسی بغاوت کو برقرار رکھ سکیں؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ نئی جماعت کا نظریاتی تشخص کیا ہوگا؟
اصل ترنمول کانگریس کبھی بھی کمیونسٹوں یا بی جے پی کی طرح روایتی نظریاتی جماعت نہیں رہی۔ اس کا بنیادی نظریہ پہلے بائیں بازو کے محاذ کی مخالفت اور بعد ازاں ممتا بنرجی کے سیاسی وژن کے گرد گھومتا رہا۔ بنگالی علاقائی شناخت، عوامی فلاحی پروگرام، سیکولر موقف اور سی پی ایم مخالف سیاست سب کچھ ممتا بنرجی کی قیادت کے ذریعے ایک لڑی میں پرویا گیا تھا۔
ٹی ایم سی 2.0 کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ممتا بنرجی کی مخالفت کے علاوہ اپنی الگ شناخت اور مقصد کی وضاحت کرے۔ اگر نئی قیادت یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ وہ ترنمول کانگریس کا زیادہ مؤثر، کم شخصی اور کم خاندانی اثرات والا روپ ہے تو یہ محض ایک تنظیمی دلیل ہوگی، نظریاتی نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ووٹر عموماً داخلی تنظیمی اصلاحات کے لیے متحرک نہیں ہوتے بلکہ شناخت، امید، شکایات یا عقیدے کی بنیاد پر سیاسی وابستگی اختیار کرتے ہیں۔
اگر نئی جماعت بی جے پی اور ممتا بنرجی دونوں سے مختلف کوئی مضبوط سیاسی بیانیہ پیش نہ کر سکی تو اس کے ایک تحریک کے بجائے محض ایک گٹ کے طور پر دیکھے جانے کا خطرہ موجود رہے گا۔
سب سے اہم غیر یقینی صورتحال یہ ہے کہ ترنمول کا ووٹ بینک آخرکار کس کے ساتھ جائے گا۔ 59 منحرف اراکین اسمبلی اپنی نشستیں ترنمول کے ٹکٹ پر جیت کر آئے تھے لیکن ضروری نہیں کہ ووٹروں نے انہیں ذاتی حیثیت میں ووٹ دیا ہو۔ ان میں سے بیشتر ووٹ ممتا بنرجی کی قیادت، فلاحی اسکیموں، انتخابی نشان اور جماعتی شناخت کے نام پر پڑے تھے۔
یہ ہر سیاسی تقسیم کا بنیادی سوال ہوتا ہے کہ جب جماعت کا مقننہ بازو اپنے کرشماتی بانی سے الگ ہو جائے تو ووٹ بینک کس کی ملکیت سمجھا جائے؟
کیا ووٹر تنظیمی ڈھانچے کے ساتھ جائیں گے، قائد کے ساتھ رہیں گے یا دونوں کو چھوڑ دیں گے؟ اس کا اصل امتحان اسمبلی میں اعداد و شمار سے نہیں بلکہ انتخابی میدان میں ہوگا۔
اگر ٹی ایم سی 2.0 بلدیاتی انتخابات، پنچایت انتخابات اور ضمنی انتخابات میں اپنی طاقت ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اسے سیاسی اعتبار حاصل ہوگا۔ لیکن اگر وہ انفرادی اراکین اسمبلی کو ووٹ حاصل کرنے والے عوامی رہنماؤں میں تبدیل نہ کر سکی تو اس کی موجودہ اکثریت محض ایک سراب ثابت ہو سکتی ہے۔
ہندوستانی سیاست میں اس حوالے سے مختلف مثالیں موجود ہیں۔ 2022 میں شیو سینا کی تقسیم نے یہ دکھایا کہ جماعتی تنظیم، اراکین اور انتخابی نشان پر کنٹرول ایک بڑی سیاسی طاقت بن سکتا ہے۔ تاہم وہاں بھی عوامی قبولیت اور انتخابی جواز آج تک زیرِ بحث ہیں۔
اس کے برعکس ملک بھر میں متعدد علیحدہ ہونے والے سیاسی دھڑے کچھ عرصے کے لیے قانون ساز اداروں پر تو قابض رہے، لیکن عوام نے بعد میں اصل قیادت کی طرف رجوع کیا اور وہ دھڑے سیاسی منظرنامے سے غائب ہو گئے۔
اس تمام صورتحال میں سب سے اہم عنصر بانی قائد کی ذاتی مقبولیت ہوتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کانگریس جس سے ترنمول کانگریس وجود میں آئی، کئی بار تقسیم ہوئی، لیکن وہ تمام دھڑے جو نظریاتی بنیاد، کرشماتی قیادت اور عوامی حمایت سے محروم رہے، بالآخر سیاسی گمنامی میں کھو گئے۔
سبھاش چندر بوس کی قائم کردہ فارورڈ بلاک بھی نیتا جی کی وفات کے بعد واضح نظریاتی سمت نہ ہونے کے باعث غیر مؤثر جماعت بن گئی۔ اسی طرح اندرا گاندھی سے علیحدگی اختیار کرنے والی کانگریس بھی نظریہ اور قیادت کی تلاش میں بھٹکتی رہی اور بالآخر حاشیے پر چلی گئی، حالانکہ اندرا گاندھی کو اس وقت جماعت کا سرکاری نشان بھی حاصل نہیں تھا۔
دوسری طرف اندرا گاندھی کی کامیابی کا راز ان کے سوشلسٹ نظریات، مضبوط لیکن سیکولر قوم پرستی اور ان کی ذاتی مقبولیت میں پوشیدہ تھا۔
مغربی بنگال کے سابق وزیرِ اعلیٰ اجوئے مکھرجی کی بنگلہ کانگریس بھی، جو 1966 میں قائم ہوئی تھی اور مختصر مدت میں تین حکومتوں کی قیادت کر چکی تھی، اپنی پانچویں سالگرہ منانے سے پہلے ہی سیاسی منظرنامے سے غائب ہو گئی۔
فوری سوال یہ نہیں کہ ٹی ایم سی 2.0 اگلے مہینے یا اگلے سال تک باقی رہے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ محض اراکین اسمبلی کے اتحاد سے آگے بڑھ کر ایک حقیقی سیاسی جماعت بن سکے گی؟
اگر اسے ترنمول کانگریس کا نام اور انتخابی نشان مل جاتا ہے تو اسے جماعت کے وسیع تنظیمی ڈھانچے اور ممکنہ طور پر اس کے مالی وسائل بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔ لیکن نام اور نشان صرف سیاسی جواز کے دعوے ہوتے ہیں، اصل کامیابی ان دعوؤں کو عوامی قبولیت میں تبدیل کرنے میں ہوتی ہے۔
اپنی شناخت مستحکم کرنے اور ووٹروں میں جگہ بنانے کے لیے نئی جماعت کو ایسا سیاسی نظریہ پیش کرنا ہوگا جو عوام کے لیے قابلِ فہم ہو اور ممتا بنرجی، بی جے پی یا بائیں بازو کے محاذ سے واضح طور پر مختلف نظر آئے۔
عوام، سیاست دان اور تجزیہ کار اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ 47 سالہ رتوبرت بنرجی، جو کبھی سی پی ایم سے نکالے جا چکے ہیں، سابق رکنِ پارلیمان رہ چکے ہیں اور اس وقت اُلوبیریا پوربہ سے رکن اسمبلی ہیں، کیا بنگال کے سیاسی طور پر باشعور اور بحث پسند عوام میں اتنی مقبولیت حاصل کر سکیں گے کہ صرف اسمبلی میں اعداد و شمار کے نہیں بلکہ عوامی وفاداری کے بھی حقیقی رہنما بن کر ابھریں۔
یو این آئی۔ اے ایم۔