RegionalPosted at: Mar 14 2026 1:28PM سماج وادی پارٹی آسام میں الیکشن لڑنے کے لیے تیار

لکھنؤ، 14 مارچ (یو این آئی) سماجوادی پارٹی اتر پردیش کی سیاست میں مضبوط گرفت بنانے کے بعد اب اپنے دائرۂ اثر کو بڑھاتے ہوئے شمال مشرقی ہندستان میں بھی سرگرم ہونے کی تیاری کر رہی ہے۔ پارٹی آسام کے اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کی حکمتِ عملی پر کام کر رہی ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق آسام یونٹ کے رہنماؤں نے حال ہی میں لکھنؤ میں واقع پارٹی ہیڈکوارٹر میں پارٹی صدر اکھلیش یادو سے ملاقات کی اور آئندہ انتخابات اور تنظیمی توسیع پر تبادلۂ خیال کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی خطے میں اپنی موجودگی بڑھانے کے مقصد سے آسام میں انتخابات لڑنا ایک طویل مدتی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ پارٹی ممکنہ طور پر اقلیتی اکثریت والے علاقوں میں امیدوار میدان میں اتارنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ امیدواروں کے اعلان کے بعد امکان ہے کہ اکھلیش یادو بھی انتخابی مہم کے لیے آسام جائیں گے۔
اس سے قبل سماجوادی پارٹی 2011 اور 2016 کے آسام اسمبلی انتخابات میں بھی حصہ لے چکی ہے، تاہم اسے کسی نشست پر کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔ اس کے باوجود پارٹی قیادت کا ماننا ہے کہ غیر روایتی علاقوں میں تنظیم کو مضبوط بنانا مستقبل کی سیاست کے لیے ضروری ہے۔
پارٹی کے ایک سابق وزیر نے کہا کہ آسام انتخابات میں امیدوار کھڑے کرنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ قومی صدر ہی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو قومی پارٹی کا درجہ حاصل کرنے کے لیے کم از کم چار ریاستوں میں 6 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ عام آدمی پارٹی نے چار ریاستوں میں یہ معیار پورا کر کے قومی جماعت کا درجہ حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ووٹ بینک بڑا ہے اور ہم لوک سبھا میں تیسری بڑی پارٹی ہیں، مگر اب تک ہمیں قومی پارٹی کا درجہ نہیں ملا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سماجوادی پارٹی کی تنظیم کئی ریاستوں میں موجود ہے اور پارٹی صدر اکھلیش یادو کی قیادت میں اسے قومی پارٹی بنانے کی سمت مسلسل کوششیں جاری ہیں۔
ملائم سنگھ یادو نے 1992 میں سماجوادی پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ پارٹی نے 2004کے عام انتخابات میں قومی سطح پر توسیع کی بڑی کوشش کرتے ہوئے 237 امیدوار میدان میں اتارے تھے، جن میں سے 36 امیدوار کامیاب ہوئے۔ ان میں 35 نشستیں اترپردیش اور ایک نشست اتراکھنڈ سے حاصل ہوئی تھی۔
اس کے برعکس 2019 کےعام انتخابات میں پارٹی نے صرف 49 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے تھے، جبکہ 2024 کے عام انتخابات میں پارٹی نے 37 نشستیں جیتیں اور یہ تمام نشستیں اتر پردیش سے تھیں۔ اس طرح سماجوادی پارٹی لوک سبھا میں تیسری بڑی جماعت بن کر ابھری۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آسام میں انتخابات لڑنے کی تیاری سماجوادی پارٹی کی اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ اترپردیش سے باہر اپنے تنظیمی ڈھانچے اور ووٹ بینک کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور گھوسی سے رکن پارلیمنٹ راجیو رائے نے کہا کہ پارٹی سربراہ اکھلیش یادو کی قیادت میں سماجوادی پارٹی کا دائرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ آسام کے علاوہ دیگر کئی ریاستوں میں بھی پارٹی کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک آسام انتخابات کا تعلق ہے، پارٹی پہلے بھی وہاں انتخابات لڑ چکی ہے اور آئندہ بھی مضبوطی کے ساتھ میدان میں اترنے کی تیاری کر رہی ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے۔