RegionalPosted at: Apr 18 2026 11:43AM وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش تھی ناری شکتی ترمیمی بل: اجے رائے
لکھنؤ، 18 اپریل (یو این آئی) پارلیمنٹ میں ناری شکتی ادھینیم ترمیمی بل کے گرنے کے بعد سیاسی بیان بازی تیز ہوگئی ہے۔ اتر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اجے رائے نے مرکزی حکومت پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے اسے جمہوریت اور آئین پر حملہ قرار دیا ہے۔
اجے رائے نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے ملک کی آدھی آبادی کو ڈھال بنا کر حد بندی نافذ کرنے کی کوشش کی، جو جمہوریت، آئین اور وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن اتحاد نے اس حکمت عملی کو وقت رہتے سمجھ لیا، جس کی وجہ سے آئینی ترمیمی بل پارلیمنٹ میں گر گیا۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ مودی-شاہ اپنی سیاسی شبیہ چمکانے کے لیے جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے تھے، لیکن ان کی یہ کوشش ناکام ہوگئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت ملک سے معافی مانگے، کیونکہ خواتین کے ریزرویشن بل کو تین سال قبل اتفاق رائے سے منظور ہونے کے باوجود متنازع بنا دیا گیا۔
اجے رائے نے یہ بھی الزام لگایا کہ 2023 میں منظور شدہ "ناری شکتی وندن ادھینیم" کو اب تک قانون کے طور پر مشتہر نہیں کیا گیا، جبکہ اس دوران لوک سبھا انتخابات بھی مکمل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے حکومت کی نیت پر سوالات اٹھتے ہیں اور یہ عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر بی جے پی کو 400 سیٹیں مل جاتیں، تو خواتین کے ریزرویشن کو نافذ نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے ہی خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن نافذ کیا جائے، تاکہ 'ناری شکتی' کے تئیں حکومت کی وابستگی ثابت ہو سکے۔
یو این آئی۔ این یو۔