Thursday, Jul 16 2026 | Time 06:47 Hrs(IST)
Science Technology

اے آئی جنگ: طاقت، درستی اور خود مختاری کولاحق خطرات

اے آئی جنگ: طاقت، درستی اور خود مختاری کولاحق خطرات

خصوصی تحریر: کرنل گرو سدے بٹبیال (ریٹائرڈ)
نئی دہلی، 17 فروری (یو این آئی) قدیم میدانِ جنگ کی جسمانی طاقت والی لڑائیوں سے لے کر بیسویں صدی کے جوہری ڈیٹرنس تک، ٹیکنالوجی کی ہر پیش رفت نے جنگ کی نوعیت کو ایک نئی شکل دی ہے آج وہ سفر ایک نئے اور غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی معاونت سے لڑی جانے والی جنگ کا مرحلہ ہے جب 1950 میں ایلن ٹیورنگ نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ ’’کیا مشینیں سوچ سکتی ہیں؟‘‘ تو شاید ہی انہیں اس سوال کے فوجی اثرات کا اندازہ رہا ہوگا۔ سات دہائیوں بعد، اے آئی (اے آئی) سسٹم اب محض نظریاتی تصورات نہیں رہے بلکہ وہ زمین، سمندر، فضا، خلا، سائبر اسپیس اور معلومات کے دائرے میں جاری تنازعات پر اثر انداز ہونے والے فعال آپریشنل ٹولز بن چکے ہیں۔ یوکرین میں خود مختار ڈرونز، غزہ میں الگورتھم کے ذریعے اہداف کی نشاندہی، امریکہ میں اے آئی سے لیس فوجی فیصلہ ساز نظام اور جنوبی ایشیا میں ڈیپ فیک پروپیگنڈہ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کس طرح مشینیں نہ صرف جنگ کے طریقۂ کار کو بلکہ اس کی رفتار، تاثر اور اخلاقی حدود کو بھی تبدیل کر رہی ہیں۔
مصنوعی ذہانت بنیادی طور پر تین طریقوں سے جنگ کو تبدیل کر رہی ہے۔
پہلا یہ کہ خود مختار اور نیم خود مختار ہتھیاروں کے نظام اب انسانی اقدام کے بغیر اہداف کی شناخت، تعاقب اور ان پر حملہ کر سکتے ہیں۔گھات لگا کر حملہ کرنے والا گولہ بارود اور اے آئی سے لیس ڈرونز رفتار اور آپریشنل کارکردگی میں اضافہ کرتے ہیں، لیکن جب مہلک فیصلے الگورتھم کے سپرد کر دیے جاتے ہیں تو جوابدہی کا احساس بھی ختم ہوجاتا ہے۔
دوسرا یہ کہ اے آئی پر مبنی فیصلہ ساز معاون نظام سیٹلائٹ امیجری، سینسر ڈیٹا اورروکے گئے مواصلات کے وسیع ذخیرے کا اس رفتار سے تجزیہ کرتے ہیں جو انسانی صلاحیت سے باہر ہے۔ یہ نظام صورتحال سے آگاہی اور تزویراتی منصوبہ بندی کو نمایاں طور پر بہتر بناتے ہیں۔ تاہم، الگورتھمک سفارشات پر حد سے زیادہ انحصار خودکار نظام کی جانبداری اور شدید دباؤ کی صورتحال میں انسانی فیصلے کی قوت میں کمی جیسے خدشات پیدا کرتا ہے۔
تیسرا یہ کہ اے آئی نے معلومات کی جنگ کو ڈرامائی طور پر تیز کر دیا ہے۔ ڈیپ فیک ویڈیوز، مصنوعی آڈیو اور بوٹس کے ذریعے چلائی جانے والی مربوط مہمات عوامی تاثر کو بگاڑ سکتی ہیں، تناؤ کو ہوا دے سکتی ہیں اور اداروں پر اعتماد کو ختم کر سکتی ہیں۔ اس دائرے میں، غلط معلومات محض ضمنی شور نہیں بلکہ ایک تزویراتی ہتھیار بن جاتی ہیں۔
مئی 2025 کے ہندوستان-پاکستان ٹکراؤ کے دوران رپورٹ ہونے والی صورتحال، جسے ’’آپریشن سندور‘‘ کا نام دیا گیا، ان خطرات کی نشاندہی کرتی ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ ہندوستان نے فضائی خطرات کا سراغ لگانے اور فضائی دفاعی ردعمل کی معاونت کے لیے اے آئی سے لیس نظام استعمال کیے۔ دوسری طرف پاکستان نے مبینہ طور پر ہندوستانی اداروں کو نشانہ بنانے کے لیے اے آئی سے تیار کردہ پروپیگنڈہ استعمال کیا اورعلاقائی نیٹ ورکس کے ذریعے مبینہ طور پر مصنوعی تصاویر گردش کرتی رہیں۔ اس واقعے نے ثابت کیا کہ کس طرح اے آئی فیصلہ سازی کے وقت کو کم کر سکتی ہے، عدم اعتماد کو بڑھا سکتی ہے اور غلط اندازے کے خطرے کو تیز کر سکتی ہے— جو کہ اس وقت خاص طور پر تشویشناک ہے جب دونوں حریف جوہری ہتھیاروں سے لیس ہوں۔
خود مختار ٹیکنالوجیز کے تیزی سے پھیلاؤ نے بین الاقوامی ضابطہ کاری کے مطالبات کو جنم دیا ہے۔ اقوام متحدہ میں ’مہلک خود مختار ہتھیاروں کے نظام(ایل اے ڈبلیو ایس) پر ہونے والی گفتگو اسلحے کی تخفیف سے متعلق تشویش بن چکی ہے۔ اکثر رکن ممالک اب ایک قانونی طور پر پابند فریم ورک کی وکالت کرتے ہیں تاکہ ایسے مکمل خود مختار ہتھیاروں کو ریگولیٹ یا ممنوع قرار دیا جا سکے جو بامعنی انسانی کنٹرول کے بغیر اہداف کے انتخاب اور ان پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
اقوام متحدہ کے حکومتی ماہرین کے گروپ نے بنیادی اصول واضح کیے ہیں اور یہ ہیں بامعنی انسانی نگرانی، نظام کی پیشگوئی اور قابل اعتمادی اور جوابدہی۔ اگرچہ پابند معاہدے پر اتفاقِ رائے اب بھی دشوار نظر آتا ہے، لیکن اخلاقی اور قانونی بحث عالمی سلامتی کے مکالمے میں سرفہرست آ گئی ہے۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے یہ دلیل دی ہے کہ زندگی اور موت کے فیصلے مشینوں کے سپرد کرنے سے انسانی وقار کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی انسانی قانون کی روح کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔
مغربی جمہوری ملکوں اور ناٹونے ایسے اصول اپنائے ہیں جو قانون پسندی، جوابدہی، قابل اعتمادی اور نظم و نسق پر زور دیتے ہیں، تاہم وہ مکمل پابندی کی حمایت سے گریزاں ہیں۔ ہندوستان نے مضبوط انسانی نگرانی کے ساتھ ’’ذمہ دارانہ اے آئی‘‘ کے تصور کی توثیق کی ہے، لیکن قانونی طور پر نافذ پابندیوں کے بارے میں محتاط ہے۔ اس کا موقف سرحد پار دہشت گردی، چین کی تیز رفتار فوجی اے آئی صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی کی خودمختاری برقرار رکھنے کی ضرورت سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔ لہٰذا، نئی دہلی نے ہمہ گیر پابندیوں کے بجائے لچیلے اصولوں اور بہترین طریقۂ کار کے فریم ورک کو ترجیح دی ہے۔ بڑی تشویش ٹیکنالوجی کے تعلق سے نہیں بلکہ اخلاقیات کے تعلق سے ہے۔
منصفانہ جنگ کی روایت — کلاسیکی فلسفے سے لے کر ہیوگو گروٹیئس تک — تناسب، امتیاز اور جائز مقصد کے اصولوں پر مبنی ہے۔ انسانی نگرانی میں کام کرنے والے اے آئی کے معاون نظام اب بھی ان اصولوں کے تحت کام کر سکتے ہیں۔ تاہم، مکمل طور پر خود مختار ہتھیار اس انسانی فیصلے کو ختم کرنے کا خطرہ پیدا کرتے ہیں جو ان اصولوں کی بنیاد ہے۔ یہ نظام جوابدہی میں خلا پیدا کرتے ہیں، فیصلہ سازی کے وقت کو مشین کی رفتار تک محدود کردیتے ہیں اور غیر ارادی طور پر تناؤ میں اضافے کے امکانات بڑھا دیتے ہیں۔ جیسا کہ امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے خبردار کیا تھا کہ اے آئی اور سائبر صلاحیتیں ’’غیر ارادی یا بے قابو اشتعال انگیزی کے ذریعے کسی بحران کو جنگ میں یا محدود جنگ کو ایٹمی جنگ میں بدل سکتی ہیں‘‘۔
سوال اب یہ نہیں رہا کہ کیا اے آئی جنگ کی صورت گری کرے گا — وہ پہلے ہی کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ معاشرے مشینوں کو مہلک فیصلے کرنے کی کس حد تک اجازت دینے کے لیے تیار ہیں۔ کارل وان کلاوزوٹز نے مشاہدہ کیا تھا کہ ’’ہر دور کی اپنی طرح کی جنگ، اپنی محدود شرائط اور اپنے مخصوص تصورات ہوتے ہیں۔‘‘ موجودہ دور کی تعریف تیزی سے فوجی نظاموں، سائبر نیٹ ورکس اور ہائبرڈ جنگی حکمت عملیوں میں پیوست الگورتھم کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
اے آئی کی معاونت سے لڑی جانے والی جنگ محض ایک تکنیکی ارتقا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ممکنہ اخلاقی موڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔ اسرائیلی قرونِ وسطیٰ کے ماہر، فوجی مؤرخ اور مقبول سائنس مصنف یووال نوح ہراری نے ایک ایسے مستقبل کے بارے میں خبردار کیا ہے جس میں لاشعور مگر انتہائی ذہین الگورتھم انسانی رویوں کو خود انسانوں سے بہتر سمجھیں گے۔ فوجی میدان میں، خطرات اس سے بھی زیادہ ہیں۔ اگر مشینوں کو بامعنی انسانی نگرانی کے بغیر قتل کرنے کی اجازت دے دی گئی، تو جنگ کی اخلاقی بنیادوں کے منہدم ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ لہٰذا، پالیسی سازوں کے لیے چیلنج صرف اے آئی کی درستی اور رفتار سے فائدہ اٹھانا نہیں ہے، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ زندگی اور موت کے فیصلوں میں انسانی ذمہ داری مرکزی حیثیت برقرار رکھے۔
جنگ کرنے کے طریقوں کا مستقبل خودکار ہو سکتا ہے — لیکن اس کا ضمیر نہیں۔
(مصنف ایک ریٹائرڈ فوجی افسر اور اے آئی کے ماہر ہیں۔ یہ ان کی ذاتی آراء ہیں۔)
یو این آئی- م ک۔ایف اے

خاص خبریں
سرکار نے 62 ہزار کروڑ کی لاگت سے موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم کو منظوری دی

سرکار نے 62 ہزار کروڑ کی لاگت سے موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم کو منظوری دی

نئی دہلی، 15 جولائی (یو این آئی) سرکار نے ملک میں موبائل فون کی تیاری کو نئی رفتار دینے، گھریلو ویلیو ایڈیشن بڑھانے، اور ہندستان کو عالمی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ ہب کے طور پر قائم کرنے کے مقصد سے موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم (ایم پی ایم ایس) کو منظوری دے دی ہے جس پر 62,500 کروڑ روپے کا بجٹی انتظام ہے مرکزی وزیرِ اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو نے بدھ کو یہ جانکاری دی۔

...مزید دیکھیں
ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان اقتصادی و تجارتی معاہدے کا نفاذ ایک اہم سنگِ میل: وزیر اعظم مودی

ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان اقتصادی و تجارتی معاہدے کا نفاذ ایک اہم سنگِ میل: وزیر اعظم مودی

نئی دہلی، 15 جولائی (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدے (سی ای ٹی اے) اور سماجی تحفظ کے معاہدے کے نفاذ کو ایک اہم لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے پی ایم مودی نے بدھ کے روز وزیر تجارت اور صنعت پیوش گوئل کی سوشل میڈیا پر اس معاہدے کے آج سے نافذ ہونے سے متعلق پوسٹ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کا نفاذ ہندوستان-برطانیہ شراکت داری کے لیے ایک اہم لمحہ ہے۔

...مزید دیکھیں
ہند-برطانیہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ: تجارتی معاہدے سے معاشی تبدیلی تک

ہند-برطانیہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ: تجارتی معاہدے سے معاشی تبدیلی تک

ڈاکٹر روپا دتہ اور اتسو نائک
نئی دہلی، 15 جولائی (یو این آئی) ہندوستان اس وقت اپنی تجارتی پالیسی میں ایک اہم اور فیصلہ کن تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے، ماریشس، متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا، ای ایف ٹی اے ممالک، یورپی یونین اور برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدوں کے بعد نئی دہلی پہلی بار تجارتی پالیسی کو محض درآمد و برآمد کی بجائے معاشی حکمت عملی کے فعال آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

...مزید دیکھیں
صحت مند بحث جمہوریت کو خوشحال بناتی ہے: برلا

صحت مند بحث جمہوریت کو خوشحال بناتی ہے: برلا

جے پور، 15 جولائی (یو این آئی) لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے بدھ کو کہا کہ مقننہ صرف قانون بنانے والے ادارے نہیں ہیں، بلکہ وہ جمہوریت کی ایسی 'درسگاہیں' ہیں جہاں عوامی نمائندے مذاکرات، ڈسپلن، اتفاق رائے اور خدمت کی اقدار کا درس حاصل کرتے ہیں مسٹر برلا نے راجستھان اسمبلی کے 75 ویں یوم تاسیس کے موقع پر منعقدہ امرت مہوتسو کے تحت 'ودھان گورَو یاترا: سابق اور موجودہ ارکان کی کانفرنس' کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسی ایوان میں حاصل کردہ جمہوری اقدار، پارلیمانی روایات اور قانون ساز طرز عمل نے انہیں طالب علم لیڈر سے ایم ایل اے، ایم پی اور آخر کار لوک سبھا اسپیکر بننے کے سفر میں رہنمائی فراہم کی۔

...مزید دیکھیں
پیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط

پیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط

نئی دہلی، 15 جولائی (یو این آئی) کانگریس کے لوک سبھا ایم پی ششی تھرور نے قومی راجدھانی کے جنتر منتر پر امتحان کے نظام میں شفافیت اور پیپر لیک کے خلاف مظاہرہ کر رہے طلبہ کے نام بدھ کو ایک کھلا خط جاری کرتے ہوئے ان کے خدشات کی حمایت کی اور مرکز حکومت سے نوجوانوں کے ساتھ بامعنی بات چیت کرنے کی اپیل کی ہے مسٹر تھرور نے خط کے ذریعے کہا کہ منصفانہ اور میرٹ پر مبنی امتحان کے نظام ہی متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے نوجوانوں کے لیے آگے بڑھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

...مزید دیکھیں
مصطفیٰ کمال کی رحلت کے باوجود 20 جولائی کو ریاستی درجے کے لیے احتجاجی پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی: عمر عبداللہ

مصطفیٰ کمال کی رحلت کے باوجود 20 جولائی کو ریاستی درجے کے لیے احتجاجی پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی: عمر عبداللہ

سری نگر، 15 جولائی (یو این آئی)جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز واضح کیا ہے کہ پارٹی کے سینئر لیڈر مصطفیٰ کمال کے اچانک انتقال کے باوجود، نیشنل کانفرنس کے زیرِ اہتمام 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاستی درجہ دلانے کے لیے مجوزہ احتجاجی مظاہرے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور عمر عبداللہ کے چچا مصطفیٰ کمال (84 سال) منگل کی شام سری نگر میں انتقال کر گئے تھے۔

...مزید دیکھیں
کانگریس نے اقتصادی ناکامی اور مہنگائی پر مودی سے جواب مانگا

کانگریس نے اقتصادی ناکامی اور مہنگائی پر مودی سے جواب مانگا

نئی دہلی، 15 جولائی (یواین آئی) کانگریس نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معیشت کی حالت کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے ملک اقتصادی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے اور مسٹر مودی کو 12 سالہ اقتدار کے بعد اس کی جوابدہی لینی چاہیے کانگریس کے کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے بدھ کو سوشل میڈیا پوسٹ پر کہا کہ پارٹی گزشتہ کئی مہینوں سے حکومت کو معیشت کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے تئیں خبردار کرتی رہی ہے لیکن حکومت نے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔

...مزید دیکھیں

یو ممبا نے دبنگ دہلی کے خلاف دلچسپ 'گولڈن پوائنٹ' مقابلے میں اپنی پہلی جیت حاصل کی

15 Jul 2026 | 11:36 PM

پنجی، 15 جولائی (یو این آئی) بدھ کو ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی انڈور اسٹیڈیم میں، موجودہ چیمپیئن یو ممبئی نے بٹر فلائی الٹیمیٹ ٹیبل ٹینس (یو ٹی ٹی) سیزن 7 میں اپنی پہلی جیت درج کی۔ ٹیم نے دلچسپ مقابلے میں اب تک ناقابل شکست رہی دبنگ دہلی کو 8-7 سے ہرایا۔ اس جیت میں انوشا کٹمبلے نے 'گولڈن پوائنٹ' والے دلچسپ فنش میں اپنا صبر و تحمل برقرار رکھا۔.