Friday, Jun 12 2026 | Time 04:38 Hrs(IST)
Special Story

گلوبل ہیٹنگ اور حج: بڑھتی گرمی کے سائے میں مقدس سفر کا مستقبل

گلوبل ہیٹنگ اور حج: بڑھتی گرمی کے سائے میں مقدس سفر کا مستقبل

خصوصی مضمون: ظفر اقبال
پوری دنیا کے مسلمان ہر سال جس روحانی سفر کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں وہ حج ہے، مکہ مکرمہ میں ادا کی جانے والی یہ اہم عبادت محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایمان، قربانی، صبر، مساوات اور بندگی کا عظیم مظہر سمجھی جاتی ہے, لاکھوں مسلمان نسل، رنگ، زبان، قومیت اور معاشی تفاوت سے بالاتر ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوتے ہیں اور ایک ایسی فضا میں عبادت کرتے ہیں جہاں روحانیت کا ایک منفرد احساس جنم لیتا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں ایک نئی اور تشویش ناک حقیقت اس مقدس عبادت کے ساتھ جڑتی جا رہی ہے اور وہ ہے بڑھتی ہوئی عالمی گرمی یا گلوبل ہیٹنگ۔
حالیہ تحقیقی رپورٹس اور موسمیاتی تجزیوں نے خبردار کیا ہے کہ زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ مکہ مکرمہ کے موسم کو خطرناک حد تک تبدیل کر رہا ہے۔ شدید گرمی اب صرف گرمیوں کے چند مہینوں تک محدود نہیں رہی بلکہ سال کے نسبتاً معتدل سمجھے جانے والے اوقات میں بھی حجاج کو جھلسا دینے والے درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال جاری رہی تو صدی کے اختتام تک حج تقریباً پورا سال شدید اور جان لیوا گرمی کے ماحول میں ادا کرنا پڑے گا۔
ایک تازہ تجزیے کے مطابق مکہ مکرمہ کی آب و ہوا میں بنیادی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔ جہاں ماضی میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت صرف جون، جولائی یا اگست جیسے مہینوں میں دیکھا جاتا تھا، وہاں اب مئی جیسے نسبتاً ٹھنڈے تصور کیے جانے والے مہینے میں بھی 40 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت باقاعدگی سے ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ فوسل فیول یعنی جیواشم ایندھن کا بے تحاشہ استعمال ہے، جس کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج نے عالمی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ کیا۔
حج چونکہ اسلامی قمری کیلنڈر کے مطابق ادا کیا جاتا ہے، اس لیے اس کی تاریخ ہر سال تقریباً دس دن پہلے آتی ہے۔ اس تبدیلی کا ایک مثبت پہلو یہ سمجھا جاتا تھا کہ حج مختلف موسموں میں گردش کرتا رہے گا، کبھی سردیوں میں، کبھی بہار میں اور کبھی گرمیوں میں۔ لیکن اب موسمیاتی تبدیلیوں نے اس قدرتی توازن کو متاثر کر دیا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چاہے حج موسمِ بہار میں ہو یا خزاں میں، عالمی حدت کے باعث شدید گرمی ایک مستقل خطرے کے طور پر موجود رہے گی۔
2024 میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ اس خطرے کی شدت کو واضح کرتا ہے۔ جون میں ادا کیے گئے حج کے دوران شدید گرمی اور نمی کے باعث 1300 سے زائد حجاج جاں بحق ہوگئے تھے۔ ہزاروں افراد کو ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، سانس لینے میں دشواری اور جسمانی کمزوری جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ اعداد و شمار صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں جو مستقبل میں مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔
حج بنیادی طور پر جسمانی مشقت پر مشتمل عبادت ہے۔ لاکھوں عازمین حج کو کئی کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے، مختلف مقامات کے درمیان مسلسل نقل و حرکت کرنا ہوتی ہے اور کھلے آسمان تلے عبادات انجام دینی پڑتی ہیں۔ میدانِ عرفات میں قیام، منیٰ میں قیام، جمرات پر رمی اور طواف جیسی عبادات جسمانی برداشت کا تقاضا کرتی ہیں۔ شدید گرمی ان تمام مراحل کو نہایت مشکل اور بعض اوقات خطرناک بنا دیتی ہے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق مئی کے مہینے کا اوسط درجہ حرارت اب ماضی کے مقابلے میں تقریباً 3.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہو چکا ہے۔ بظاہر یہ اضافہ معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت میں چند ڈگری کا فرق انسانی صحت، پانی کی دستیابی، جسمانی برداشت اور موسمی توازن پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے بار بار متنبہ کر رہے ہیں کہ موسمیاتی بحران صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جانوں، عبادات، معیشت اور عالمی استحکام کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔
اس صورتحال میں سعودی عرب نے کئی عملی اقدامات بھی کیے ہیں۔ حجاج کی سہولت کے لیے سایہ دار راستے تعمیر کیے گئے ہیں، کولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، مسٹنگ سسٹمز لگائے گئے ہیں جو پانی کی باریک پھوار کے ذریعے درجہ حرارت کا احساس کم کرتے ہیں، جبکہ طبی خدمات میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ ہسپتالوں، ایمبولینسوں اور طبی عملے کی تعداد بڑھائی گئی تاکہ گرمی سے متاثر افراد کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات وقتی اور حفاظتی نوعیت کے ہیں۔ اصل مسئلہ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کو کم کرنا ہے۔ اگر زمین مسلسل گرم ہوتی رہی تو حفاظتی انتظامات کی افادیت محدود ہو جائے گی۔ بعض سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب درجہ حرارت انسانی برداشت کی حد سے تجاوز کر جائے، اور محض ٹھنڈا پانی یا سایہ اس خطرے کو کم کرنے کے لیے کافی نہ رہے۔
یہ صورتحال ایک اہم اخلاقی اور سیاسی سوال بھی پیدا کرتی ہے۔ سعودی عرب دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کی معیشت بڑی حد تک تیل کی صنعت پر منحصر ہے۔ دوسری طرف موسمیاتی سائنسدان مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوسل فیول کے استعمال میں کمی لائی جائے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی برادری اور خاص طور پر تیل پیدا کرنے والے ممالک موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں؟
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ حج میں شرکت کرنے والے لاکھوں افراد مختلف ممالک اور موسمی حالات سے تعلق رکھتے ہیں۔ بعض حجاج نسبتاً سرد خطوں سے آتے ہیں جہاں 20 یا 25 ڈگری درجہ حرارت بھی گرمی سمجھا جاتا ہے۔ ایسے افراد کے لیے 45 یا 50 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بوڑھے افراد، دل کے مریض، شوگر کے مریض اور جسمانی کمزوری کے شکار افراد سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔
عالمی حدت صرف حج ہی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن رہی ہے۔ شدید گرمی پانی کے بحران کو جنم دے رہی ہے، زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے، خشک سالی میں اضافہ ہو رہا ہے اور کئی ممالک میں انسانی صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ ان خطوں میں شامل ہے جہاں درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار نسبتاً زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جائیں، کاربن کے اخراج میں کمی لائی جائے، قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دیا جائے اور تیل و گیس پر انحصار کم کیا جائے تو صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو آنے والی نسلوں کے لیے حج سمیت بہت سی مذہبی اور سماجی سرگرمیاں شدید موسمی خطرات سے جڑی رہیں گی۔
اس تناظر میں مسلمانوں کے لیے بھی ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ماحولیات کے تحفظ کو دینی اور سماجی ذمہ داری کے طور پر کیسے دیکھا جائے۔ اسلام میں اسراف، وسائل کے ضیاع اور زمین میں فساد سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ماحولیاتی تحفظ کو ایک اجتماعی ذمہ داری کے طور پر لیا جائے تو نہ صرف ماحول بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے عبادات کو بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
حج ہمیشہ اتحاد، قربانی اور روحانی پاکیزگی کی علامت رہا ہے، مگر اب اس مقدس عبادت کے سامنے ایک نیا چیلنج موجود ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت صرف موسمی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جانوں، مذہبی آزادی اور عالمی ذمہ داری کا سوال بنتا جا رہا ہے۔ اگر دنیا نے بروقت اقدامات نہ کیے تو وہ دن دور نہیں جب حج کا یہ روحانی سفر لاکھوں لوگوں کے لیے شدید جسمانی آزمائش میں تبدیل ہو جائے۔
یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ موسمیاتی تبدیلی کسی ایک ملک، قوم یا مذہب کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ چیلنج ہے۔ اگر انسان نے اپنے طرزِ زندگی، صنعتی ترجیحات اور توانائی کے ذرائع پر نظرثانی نہ کی تو اس کے اثرات زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہوں گے، حتیٰ کہ عبادت گاہیں اور مقدس مقامات بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔(یواین آئی)
٭٭٭

خاص خبریں
وکست بھارت کا عزم ہر ریاست، ضلع، بلاک، گاؤں کا اجتماعی عزم بنے: مودی

وکست بھارت کا عزم ہر ریاست، ضلع، بلاک، گاؤں کا اجتماعی عزم بنے: مودی

نئی دہلی، 11 جون (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو یہاں نیتی آیوگ کی میٹنگ میں وکست بھارت 2047 کے ہدف کو ہر ریاست، ضلع، بلاک اور گاؤں کا اجتماعی عزم بنانے کی اپیل کی وزیر اعظم نے کہا کہ ایسے وقت میں جب بہت سی بڑی معیشتیں غیر یقینی صورتحال اور معاشی چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہیں ، ہندوستان کی ترقی کی کہانی دنیا کو متاثر کر رہی ہے  انہوں نے خود کفالت کے تئیں قوم کے عزم کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور خاص طور پر قابل تجدید توانائی کے شعبے میں عالمی بہترین طریقوں کو اپنانے اور ان پر عمل درآمد کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔

...مزید دیکھیں
ایک امیدوار نااہل، دوسرے کو رعایت'، راہل گاندھی کا الیکشن کمیشن پر حملہ

ایک امیدوار نااہل، دوسرے کو رعایت'، راہل گاندھی کا الیکشن کمیشن پر حملہ

نئی دہلی، 11 جون (یواین آئی) کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے حالیہ راجیہ سبھا انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور الیکشن کمیشن کی 'جوڑی' نے انتخابی مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ہی اسے متاثر کر دیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ کانگریس امیدوار میناکشی نٹاراجن نے نامزدگی کے لیے تمام ضروری دستاویزات جمع کرائی تھیں اور ان کے خلاف کوئی زیر التوا معاملہ بھی نہیں تھا، اس کے باوجود الیکشن کمیشن نے بی جے پی کے اعتراض کی بنیاد پر ان کی نامزدگی منسوخ کر دی۔

...مزید دیکھیں
ترویدی ہند-بنگلہ دیش تعلقات میں نئی شروعات کی جانب روانہ

ترویدی ہند-بنگلہ دیش تعلقات میں نئی شروعات کی جانب روانہ

(یو این آئی اسپیشل)
جینت رائے چودھری
کولکاتا، 11 جون (یو این آئی) ہندوستان کے نئے ہائی کمشنر برائے بنگلہ دیش ترویدی جمعہ کو کولکاتا سے ڈھاکہ روانہ ہوں گے، مذاکرات کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ مذاکرات آنے والے برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کی سمت متعین کریں گے،ڈھاکہ روانگی سے قبل یو این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے ترویدی نے مفاہمانہ لہجہ اختیار کیا اور ہندوستان و بنگلہ دیش کو ایسے شراکت دار قرار دیا جو "تقریباً 160 کروڑ عوام کی امنگوں کو پورا کرنے" کے لیے ذمہ دار ہیں۔

...مزید دیکھیں
اداروں کو کمزور کرنے کی سازش کے خلاف لڑنے کی ضرورت: کھرگے

اداروں کو کمزور کرنے کی سازش کے خلاف لڑنے کی ضرورت: کھرگے

نئی دہلی، 11 جون (یو این آئی) کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا ہے کہ ملک کے سامنے مہنگائی، بے روزگاری، امتحان میں گھوٹالے، سماجی عدم مساوات جیسے سنگین چیلنجوں کے ساتھ ہی آئینی اداروں اور نظام کو بھی کمزور کیا جا رہا ہے جن کے خلاف سختی سے لڑنے کی ضرورت ہےمسٹر کھرگے نے جمعرات کو یہاں اندرا بھون میں کانگریس کے جنرل سکریٹریوں، مختلف ریاستوں کے انچارجوں اور ریاستی صدور کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جن اداروں اور نظام کو بنانے میں دہائیاں لگیں، انہیں کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

...مزید دیکھیں
میناکشی نٹراجن کا نامزدگی فارم منسوخ ہونے کے معاملے پر جمعہ کو سماعت کرے گا سپریم کورٹ

میناکشی نٹراجن کا نامزدگی فارم منسوخ ہونے کے معاملے پر جمعہ کو سماعت کرے گا سپریم کورٹ

نئی دہلی، 11 جون (یو این آئی) سپریم کورٹ نے کانگریس لیڈر میناکشی نٹراجن کی اس رٹ پٹیشن پر جمعہ کو سماعت کرنے پر اتفاق کر لیا ہے، جس میں مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا انتخاب کے لیے ان کا نامزدگی فارم مسترد کیے جانے کو چیلنج کیا گیا ہے سینئر ایڈوکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی کی جانب سے معاملے پر فوری سماعت کی درخواست کے بعد جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس اے ایس چاندورکر کی بنچ اس معاملے کو جمعہ کو سماعت کے لیے فہرست بند کرنے پر متفق ہو گئی۔

...مزید دیکھیں
پاسدارانِ انقلاب کا امریکہ کے 18 اہم اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

پاسدارانِ انقلاب کا امریکہ کے 18 اہم اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

تہران، 11 جون (یو این آئی) پاسدارانِ انقلاب نے امریکی حملوں کے ردعمل میں امریکہ کے 18 اہم اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے خلیجی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ کویت میں امریکہ کے ال سالم اور احمد الجابر اور بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا ہے  پاسداران انقلاب ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے ایرانی حکام سے براہِ راست بات کی ہے نہ صرف جھوٹ بلکہ جنگ سے بچنے کی کوشش پر پردہ ڈالنے کے لیے ہے۔

...مزید دیکھیں
ترنمول رکن پارلیمنٹ پرکاش چک برائک نے راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دیا

ترنمول رکن پارلیمنٹ پرکاش چک برائک نے راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دیا

نئی دہلی، 11 جون (یو این آئی) ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرکاش چک برائک نے جمعرات کو راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا اور اس کے ساتھ ہی اب تک پارٹی کے تین ارکان پارلیمنٹ ایوان بالا سے استعفیٰ دے چکے ہیں مسٹر برائک نے یہاں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی راڈھا کرشنن کو اپنا استعفیٰ باضابطہ طور پر سونپا ان کے استعفے کے ساتھ ہی راجیہ سبھا میں ترنمول کانگریس کے ارکان کی تعداد کم ہو کر 10 رہ گئی ہے۔

...مزید دیکھیں

فیٹی لیور جگر کے کینسر کا بڑا خطرہ بن رہا ہے، بروقت اسکریننگ ضروری: ڈی ایس سی آئی کے ڈاکٹروں کی تنبیہ

11 Jun 2026 | 11:44 PM

نئی دہلی، 11 جون (یو این آئی) دہلی اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ (ڈی ایس سی آئی) کے ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ فیٹی لیور بیماری تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس کا تعلق جگر کے کینسر کی سب سے عام قسم ہیپاٹو سیلولر کارسینوما (ایچ سی سی) سے جڑتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق طرزِ زندگی میں بہتری اور بروقت اسکریننگ کے ذریعے متعدد کیسز سے بچا جا سکتا ہے۔.

تاریخی حجاز ریلوے کی بحالی میں اہم پیشرفت، سعودیہ اور ترکیے میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

تاریخی حجاز ریلوے کی بحالی میں اہم پیشرفت، سعودیہ اور ترکیے میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

10 Jun 2026 | 4:29 PM

ریاض، 10 جون (یو این آئی) سعودی عرب اور ترکیے نے ریلوے کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں، جسے تاریخی حجاز ریلوے کی بحالی کی جانب اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ .

...مزید دیکھیں