NationalPosted at: Jul 11 2025 5:36PM مودی اڈیشہ کے جنگلات اور زمین اپنے دوستوں کے حوالے کر رہے ہیں: کانگریس

نئی دہلی، 11 جولائی (یو اين آئی) کانگریس کے قومی صدر ملک ارجن کھڑگے اور سابق صدر راہل گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی صرف اپنے چند صنعتکار دوستوں کے فائدے کے لیے کام کرتے ہیں، اس لیے انھوں نے اڈانی جیسے اپنے چند صنعتکار دوستوں کو اڈیشہ کی زمین اور جنگلات سونپ دیے ہیں مسٹر کھڑگے نے سوشل میڈیا ' ایکس' پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "میں اڈیشہ کے عظیم ہیرو 'اتکلمنی' گوپ بندھو داس جی، بیرسٹر مدھوسدن داس جی اور ریاست کے تمام عظیم مجاہدین آزادی کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ پارا دیپ پورٹ، راوڑکیلا اسٹیل پلانٹ، ہیرا کنڈ ڈیم، این ٹی پی سی، نالکو، چیلکا نیول اکیڈمی، پنچیشور ریل کوچ فیکٹری، کوراپیٹ میں ایچ اے ایل پلانٹ، آرڈیننس فیکٹری یہ سب کانگریس حکومتوں کے دوران قائم کی گئی تھیں۔
انہوں نے کہا، "کانگریس کے دور حکومت میں بھونیشور میں ایمس، این آئی ایس ای آر، فزکس انسٹی ٹیوٹ اور بہت سارے دیگر تعلیمی ادارے قائم کیے گئے تھے۔ کالا ہانڈی، بولانگیر اور کوراپیٹ کو اضلاع میں تبدیل کرنے کے منصوبے بنائے گئے تھے لیکن آج کیا ہو رہا ہے۔ مودی جی اڈیشہ کے لوگوں کی محنت کی کمائی تمام سرکاری کمپنیاں اپنے اپنے دوستوں، ارب پتیوں، کھرب پتیوں کے حوالے کر رہے ہیں۔ ہوائی اڈے، جنگلات، زمین، سب کچھ مودی جی کے چند دوستوں کو دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ اڈیشہ قدرتی وسائل کے لحاظ سے ہندوستان کی سب سے امیر ریاست ہے، مگر یہاں کے قبائلی طبقے دنیا میں سب سے زیادہ غربت میں کیوں زندگی گزار رہے ہیں؟ مارچ 2000 کے بعد یہاں کانگریس کی حکومت نہیں بنی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے الزام لگایا، "تمام آئینی ادارے مودی جی کے کنٹرول میں ہیں۔ یہ تمام ادارے ہندوستان کی آئین کے تحت کام نہیں، بی جے پی کے اشارے پر کام کرتے ہیں ۔ جو کچھ بھی مودی-شاہ کہتے ہیں، یہ ادارے اور ایجنسیاں وہی کرتی ہیں۔ اسی طرح اب عوام کے ووٹ کے حق پر براہ راست حملہ کیا جا رہا ہے۔ پہلے مہاراشٹر اور اب بہار۔ انتخابات سے پہلے، غریبوں کے ووٹ کا حق چھینا جا رہا ہے، مظلوموں اور پسماندگان کا حق چھینا جارہا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مداخلت کی اور اس نے آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی اور راشن کارڈ کو دستاویزات کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے کہا ہے، جو راحت بخش تجویز ہے۔
اڈیشہ کے لیے بی جے پی کی شراکت کو صفر قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بی جے پی پہلے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کرتی ہے، پھر اڈانی-امبانی جیسے لوگ ان کے پیچھے آجا تے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کون سی زمین اچھی ہے، کہاں کان کنی کرنی ہے۔ لیکن اب ایسا ہرگز نہيں چلے، ہمیں مل کر ان لوگوں کو سبق سکھانا ہے۔ کانگریس نے 2006 میں جو فارسٹ ایکٹ لایا تھا، آج مودی حکومت اسے کمزور کر رہی ہے۔ یہ ایکٹ غریبوں اور قبائلیوں کے تحفظ کے لیے لایا گیا تھا۔ آپ کو اس کی حفاظت کرنی ہے، اس لیے آپ کو لڑنا ہوگا، کانگریس پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے سب کو اکٹھا ہونا ہوگا۔
مسٹر راہل گاندھی نے کہا، "اڈانی اڈیشہ میں حکومت چلاتے ہیں، اڈانی نریندر مودی کو بھی چلاتے ہیں۔ اڈیشہ ہو یا چھتیس گڑھ، ہر جگہ صرف ایک ہی نام نظر آتا ہے - اڈانی.. اڈانی.. اڈانی... یعنی اڈانی اڈیشہ کی حکومت چلاتے ہیں، نریندر مودی کو چلاتے ہیں۔ جب اڈیشہ میں جگن ناتھ رتھ یاترا ہوتی ہے، لاکھوں لوگ رتھ کے پیچھے چلتے ہیں اور پھر اڈانی کا ڈرامہ رتھ کے پیچھے ہوتا ہے۔ یہ اڈیشہ کی حکومت نہیں ہے - یہ اڈانی جیسے 5-6 ارب پتیوں کی حکومت ہے۔
یو این آئی۔ م ش۔