NationalPosted at: Jul 19 2026 2:53PM باغی اراکینِ پارلیمنٹ کو کل جماعتی میٹنگ میں الگ مدعوکئے جانے کے خلاف اپوزیشن کا علامتی واک آؤٹ

نئی دہلی، 19 جولائی (یواین آئی) پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے قبل مرکزی حکومت کی جانب سے اتوار کو بلائی گئی کل جماعتی میٹنگ سے اپوزیشن جماعتوں کے لیڈران نے کچھ دیر کے لیے علامتی واک آؤٹ کیا اپوزیشن لیڈران نے کہا کہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے سامنے معاملہ زیر التوا ہونے کے باوجود ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے 20 باغی اراکینِ پارلیمنٹ کے گروپ این سی پی آئی کو میٹنگ میں مدعو کیے جانے کی مخالفت میں میٹنگ سے واک آؤٹ کیا گیا۔ بعد میں تمام اپوزیشن لیڈران میٹنگ میں واپس آ گئے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سوشل میڈیا 'ایکس' پر لکھا، "تمام اپوزیشن جماعتوں نے چند منٹوں کے لیے کل جماعتی میٹنگ سے واک آؤٹ کیا۔ یہ مودی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج تھا جس میں لوک سبھا اسپیکر کے پاس حتمی فیصلہ زیر التوا ہونے کے باوجود ترنمول کے 20 'باغی' اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے بنے این سی پی آئی کو میٹنگ میں بلایا گیا۔"
شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکنِ پارلیمنٹ اروند ساونت نے کہا کہ باغی اراکینِ پارلیمنٹ کو دی جانے والی اس شناخت کا کوئی قانون نہیں ہے۔ اپوزیشن نے اس کی مخالفت کی اور اسی وجہ سے میٹنگ سے واک آؤٹ کیا۔ عام آدمی پارٹی کے این ڈی گپتا نے کہا کہ ان کی پارٹی کے 10 راجیہ سبھا اراکین میں سے 7 کو 'ہائی جیک' کر لیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کی عرضی پر ابھی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے اسے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اراکینِ پارلیمنٹ کو الگ اور آزاد نشستیں الاٹ کرنا غلط ہے۔
انہوں نے اسے "جمہوریت کا قتل" قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور ایوان کی انتظامیہ کا رویہ جمہوری روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اسی معاملے پر اپنا احتجاج درج کرانے کے لیے کل جماعتی میٹنگ سے علامتی واک آؤٹ کیا۔
یواین آئی۔الف الف