NationalPosted at: Dec 5 2025 8:03PM صحت و قومی سلامتی سیس بل 2025' لوک سبھا سے منظور

نئی دہلی، 5 دسمبر ( یو این آئی ) لوک سبھا نے آج (جمعہ) 'صحت و قومی سلامتی سیس بل 2025' کو صوتی ووٹ سے منظور کر لیا، جس میں پان مسالے پر سیس (اضافی ٹیکس) لگانے کی دفعات شامل ہیں وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے بل پر ہونے والی بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پان مسالے پر سیس سے حاصل ہونے والا ریونیو صحت اور دفاعی شعبوں کو مضبوط بنانے پر خرچ کیا جائے گا۔ اس رقم کا استعمال دفاعی آلات کو جدید بنانے کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھانے پر بھی کیا جائے گا۔
انہوں نے آپریشن سندور کے دوران عمدہ فوجی کارروائیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ اس وقت تینوں افواج کے مربوط تعاون کی بہترین مثال دیکھنے کو ملی تھی۔ آپریشن سندور کے دوران سدرشن چکر مینیجمنٹ بچاؤ میں بہت مفید ثابت ہوا، جو جدید ٹیکنالوجی اور بہتر تال میل سے ممکن ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایسے مواقع کے لیے مناسب انتظامات کرنے کی خاطر فنڈز جمع کرنے کے لیے یہ سیس لگایا جا رہا ہے۔
محترمہ سیتا رمن نے عوامی صحت ( پبلک ہیلتھ) کو بھی ایک بڑا مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ اس شعبے کے لیے بھی بڑی رقم کی ضرورت پڑتی ہے، جو آنے والے وقت میں بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ صحت ریاستوں کا موضوع ہے، لیکن مرکزی حکومت اس سیس سے جمع ہونے والے فنڈز کو مختلف اسکیموں کے ذریعے ریاستوں کی مدد کے لیے استعمال کرے گی۔اس رقم سے ریاستوں میں صحت کے شعبے کے وسائل کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ 9.33 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم اکٹھی کرکے پہلے ہی ریاستوں کو دی جا چکی ہے۔
انہوں نے کئی ممبران کے اس خدشے کو مسترد کر دیا کہ مرکز اپنے لیے سیس جمع کر رہا ہے اور کہا کہ یہ پیسہ مرکز کے پاس نہیں رہے گا بلکہ ریاستوں کو ہی دیا جائے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ سیس سے حاصل ہونے والے ریونیو کے خرچ کی نگرانی کی جائے گی، جس پر پارلیمنٹ کے علاوہ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی ) بھی نظر رکھیں گے۔
انہوں نے بل کے لاگو ہونے کے بعد انسپکٹر راج بڑھنے کے خدشات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پان مسالے کی تیاری میں بہت سی بے ضابطگیاں اور غیر قانونی فیکٹریاں سامنے آتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جانچ ایجنسیاں کسی کو پریشان کرنے کے لیے نہیں بلکہ یہ یقینی بنانے کے لیے فیکٹریوں کی وقت پر جانچ کریں گی کہ پان مسالے کی تیاری قواعد اور قانونی دفعات کے مطابق ہو رہی ہے۔
یو این آئی ۔م ا ع