نئی دہلی، 17 مارچ (پروندرسندھو, یو این آئی) آبنائے ہرمز سے پہلے ایل پی جی بردار بحری جہاز ’شوالک‘ کے مندرا پہنچنے کے ایک دن بعد، منگل کوہندوستان کی ایندھن کی سپلائی میں مزید بہتری آئی ایل پی جی جہاز 'نندا دیوی'، جو 46,500 میٹرک ٹن مائع پیٹرولیم گیس سے لداہے گجرات کے جام نگر میں وڈینار بندرگاہ پر لنگر انداز ہو گیا، جس سے جاری سپلائی کے بحران میں راحت ملے گی۔
رپورٹس کے مطابق نندا دیوی سے ایم ٹی بی ڈبلیو برچ میں شپ ٹو شپ ٹرانسفر (جہاز سے جہاز میں منتقلی) کی کارروائیاں جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کی وجہ سے کئی دنوں تک آبنائے ہرمز کے قریب رکے رہنے کے بعد، 'شوالک' بالآخر تقریباً 46,000 میٹرک ٹن ایل پی جی کے کارگو کے ساتھ بندرگاہ پر پہنچا۔ حکام نے بتایا کہ تقریباً 20,000 میٹرک ٹن مندرا میں اتارا جانا تھا، جبکہ باقی ماندہ منگلور میں اتارنے کے لیے مختص کیا گیا تھا۔
پیر کے روز ایک میڈیا بریفنگ کے دوران، وزارت جہاز رانی کے خصوصی سکریٹری راجیش کمار سنہا نے بتایا کہ ایک تیسرا ہندوستانی پرچم والا جہاز 'جگ لاڈکی' بھی تقریباً 81,000 ٹن موربن خام تیل لے کر روانہ ہو چکا ہے۔
گزشتہ ہفتے قومی دارالحکومت میں ایک میڈیا کانکلیو کے دوران، ایرانی سفیر محمد فتح علی نے کہا تھا کہ ان کے ملک نے دونوں ممالک کے درمیان "دیرینہ دوستی" کی وجہ سے متعدد ہندوستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے کچھ جہازوں کو ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے، لیکن ہم اس وقت یہ نہیں بتا سکتے کہ کتنے۔ میں مستقبل میں اس معاملے کی پیروی کروں گا۔ ایران اورہندوستان کے تاریخی تعلقات اور مشترکہ مفادات ہیں۔‘‘
اس سے قبل، وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا تھا کہ ہندوستان آبنائے ہرمز کے ذریعے معمول کی نقل و حمل بحال کرنے میں مدد کے لیے ایران کے ساتھ رابطے میں ہے، جو کہ ایک اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کی تیل کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
بات چیت اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کے مفاد میں ہے کہ وہ علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک عملی حل تلاش کرے جس سے جہاز رانی سے متعلق ٹریفک محفوظ طریقے سے دوبارہ شروع ہو سکے۔ وزیر نے ایل پی جی جہازوں 'شوالک' اور 'نندا دیوی' کی نقل و حمل کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ سفارتی کوششیں نتیجہ خیزثابت ہو رہی ہیں۔ تاہم، جے شنکر نے واضح کیا کہ ابھی تک ہندوستانی پرچم والے تمام جہازوں کے گزرنے کے لیے کوئی جامع انتظام موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہازوں کے لیے کلیئرنس فی الحال انفرادی طور پر ہینڈل کی جا رہی ہے، اور آبی گزرگاہ سے ہر ٹرانزٹ کا جائزہ کیس ٹو کیس بنیادوں پر لیا جا رہا ہے۔
یواین آئی۔ایف اے