RegionalPosted at: Aug 6 2026 2:58PM مذاکرات ناکام، ہریانہ کے بجلی ملازمین 11 سے 13 اگست تک تین روزہ ہڑتال پر بضد

چنڈی گڑھ، 6 اگست (یو این آئی) ہریانہ کے وزیر توانائی ، اعلیٰ افسران اور متحدہ جدوجہد محاذ کے نمائندوں کے درمیان بدھ کی شام تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت بے نتیجہ رہی اس کے بعد متحدہ جدوجہد محاذ نے واضح کر دیا کہ 11 سے 13 اگست تک مجوزہ تین روزہ ریاست گیر ہڑتال ہر حال میں کی جائے گی متحدہ جدوجہد محاذ کی جانب سے جمعرات کو جاری پریس بیان کے مطابق، اجلاس میں ملازمین اور انجینئروں کے زیر التوا مطالبات، ایچ وی پی این ایل اور ایچ پی جی سی ایل کی تنظیم نو، مجوزہ زرعی بجلی تقسیم کار ادارے، گڑگاؤں اور نوح میں متوازی بجلی تقسیم کے لائسنس، اسمارٹ میٹرنگ منصوبے، بجلی کے شعبے کی نج کاری اور دیگر پالیسی سے متعلق معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
محاذ کا الزام ہے کہ حکومت اور بجلی کارپوریشن کے انتظامیہ نے کسی بھی مطالبے پر مقررہ مدت میں فیصلہ کرنے کے بجائے صرف یقین دہانیاں کرائی ہیں۔ ساتھ ہی ملازمین سے مجوزہ ہڑتال ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی، جسے متحدہ جدوجہد محاذ نے ملازمین کے وسیع تر مفاد میں یکسر مسترد کر دیا۔
اجلاس میں متحدہ جدوجہد محاذ کی جانب سے صدر دیویندر سنگھ ہڈا، انجینئرز ایسوسی ایشن کے صدر پونیت کنڈو، جنرل سکریٹری رویندر گھنگھاس، بلجیت بینی وال سمیت دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔
دیویندر سنگھ ہڈا اور رویندر گھنگھاس نے الزام عائد کیا کہ حکومت بجلی کے شعبے میں یک طرفہ اور من مانی فیصلے نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین، افسران اور صارفین کے مفادات پر کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک زیر التوا مطالبات کا باعزت حل نہیں نکالا جاتا اور بجلی کے شعبے کی نج کاری سے متعلق فیصلوں پر نظرثانی نہیں کی جاتی، تحریک جاری رہے گی۔
بلجیت بینی وال نے کہا کہ ایچ وی پی این ایل اور ایچ پی جی سی ایل کی تنظیم نو کا معاملہ طویل عرصے سے زیر التوا ہے، لیکن انتظامیہ اس سمت میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا رہی۔ ملازمین نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر جلد فیصلہ نہیں کیا تو 11 سے 13 اگست تک مجوزہ ریاست گیر ہڑتال ہر حال میں کی جائے گی۔
یو این آئی، ایم جے