OthersPosted at: Mar 17 2026 2:26PM رمضان نظم و ضبط اور خدمت کا مہینہ، مسلمانوں کے ایجنڈے میں تعلیم کو اولین مقام ملنا چاہیے: امین پٹیل

ممبئی، 17 مارچ) یواین آئی) جنوبی ممبئی کی سیاست میں نمایاں مقام رکھنے والے رکنِ اسمبلی امین پٹیل نے کہا ہے کہ رمضان المبارک صرف عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ نظم و ضبط، خود احتسابی اور خدمتِ خلق کا عملی درس دیتا ہے اور مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس پیغام کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کے ایجنڈے میں تعلیم کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
ممبا دیوی حلقے سے چار مرتبہ منتخب ہونے والے امین پٹیل نے ایک خصوصی گفتگو میں کہا کہ رمضان کے دوران ان کے معمولات میں بنیادی طور پر کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی اور وہ عام دنوں کی طرح اپنے حلقے کے عوامی مسائل، شکایات اور سماجی امور پر توجہ دیتے ہیں، تاہم افطار اور عبادات کے باعث شام کے اوقات میں معمولات میں کچھ رد و بدل ضرور ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوشش ہوتی ہے کہ افطار کے وقت اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارا جائے جب کہ بعد ازا،ں تراویح اور دیگر عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ رمضان کے دوران فلاحی سرگرمیوں اور عوامی ملاقاتوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رمضان کا بنیادی پیغام نظم و ضبط اور خود احتسابی ہے۔ اس مہینے میں مسلمان وقت کی پابندی، عبادات، صبر اور دوسروں کی مدد کے ذریعے اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر یہی نظم و ضبط سال بھر برقرار رکھا جائے تو فرد اور معاشرہ دونوں ترقی کر سکتے ہیں۔
مسلمانوں کی تعلیمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امین پٹیل نے کہا کہ گزشتہ پچیس برسوں میں تعلیمی شعور میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں والدین کا کردار کلیدی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج والدین اپنے بچوں کو نہ صرف روایتی بلکہ جدید اور پیشہ ورانہ تعلیم دلانے پر بھی توجہ دے رہے ہیں، جو ایک مثبت تبدیلی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں صرف ڈاکٹر یا انجینئر بننا ہی کافی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، مینجمنٹ، قانون، میڈیا اور دیگر جدید شعبوں میں بھی آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔
اپنے حلقہ ممبادیوی کی ترقی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی اور گنجان آبادی والا علاقہ ہے جہاں بنیادی سہولتوں کی فراہمی ہمیشہ ایک چیلنج رہی ہے۔ ان کی کوشش رہی ہے کہ علاقے میں بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے، سڑکوں، صفائی کے نظام اور تعلیمی اداروں کی ترقی پر توجہ دی جائے، ساتھ ہی مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔
مہاراشٹر مولانا آزاد مالیاتی ترقیاتی کارپوریشن کے چیئرمین کے طور پر اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ادارے کے ذریعے اقلیتی طبقات کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کی کوشش کی گئی۔ ان کے مطابق کئی نوجوانوں کو مالی مدد فراہم کی گئی تاکہ وہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔
رمضان کے دوران سماجی خدمات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس مہینے میں فلاحی سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں اور مختلف تنظیمیں افطار پروگرام اور خیراتی کام انجام دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی ان سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں اور لوگوں کو ضرورت مندوں کی مدد کے لیے ترغیب دیتے ہیں۔
نوجوانوں کے لیے اپنے پیغام میں امین پٹیل نے کہا کہ وہ تعلیم، محنت اور نظم و ضبط کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ ان کے مطابق اگر نوجوان اس راستے کو اختیار کریں تو وہ نہ صرف اپنی بلکہ پوری قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاست کو صرف اقتدار کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی خدمت کا وسیلہ سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر مسلمان رمضان کے پیغام یعنی نظم و ضبط، خود احتسابی اور تعلیم کو اپنی زندگی میں شامل کر لیں تو ترقی اور کامیابی ان کا مقدر بن سکتی ہے۔
یواین آئی۔ اے اے اے