Saturday, Apr 18 2026 | Time 19:23 Hrs(IST)
Others

مسلم سماج کی ترقی کا واحد راستہ تعلیم، اتحاد اور معاشی خود کفالت ہے:ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی

مسلم سماج کی ترقی کا واحد راستہ تعلیم، اتحاد اور معاشی خود کفالت ہے:ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی

ممبئی، 15 مارچ (یواین آئی) ممبئی کی سیاسی اور سماجی زندگی میں کئی ایسی شخصیات موجود ہیں، جنہوں نے طویل عرصے تک عوامی خدمت، سماجی سرگرمیوں اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنی ایک الگ شناخت قائم کی ہے ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی انہی نمایاں اور تجربہ کار شخصیات میں شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے سابق کارپوریٹر رہ چکے ہیں، مہاراشٹر میں مہاڈا کے چیئرمین کے طور پر بھی اہم ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں اور گزشتہ تقریباً چار دہائیوں سے فعال سیاست میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
اپنی سیاسی زندگی کے آغاز میں وہ مسلم لیگ (بناتے والا گروپ) سے وابستہ رہے اور اسی جماعت کے پلیٹ فارم سے کارپوریٹر منتخب ہوئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے سیاست کے مختلف مراحل دیکھے اور آج وہ اسلام جمخانہ ممبئی کے صدر اور سماج وادی پارٹی کے کارگزار صدر کے طور پر سرگرم ہیں۔
ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی کو ممبئی کے سماجی حلقوں میں ایک متوازن، سنجیدہ اور باوقار رہنما کے طور پر جانا جاتا ہے جو نہ صرف سیاسی معاملات بلکہ سماجی مسائل پر بھی کھل کر اظہار خیال کرتے ہیں۔ ماہ رمضان المبارک کے موقع پر ان سے ایک تفصیلی گفتگو کی گئی جس میں انہوں نے رمضان کی روحانی فضا، اپنی روزمرہ مصروفیات، بچپن کی یادوں، مسلمانوں کی موجودہ صورتحال، سیاسی چیلنجز اور قوم کے مستقبل کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ذیل میں اس گفتگو کے اہم نکات کو ایک رواں انٹرویو کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔
ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی کے مطابق رمضان المبارک کا مہینہ ان کی زندگی میں ایک خاص روحانی کیفیت لے کر آتا ہے۔ اس دوران ان کے روزمرہ معمولات میں بھی واضح تبدیلی آ جاتی ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ بچپن سے ہی ان کی عادت رہی ہے کہ وہ سحری تک جاگتے ہیں۔ سحری کے بعد فجر کی نماز ادا کرتے ہیں اور اس کے بعد کچھ دیر آرام کرتے ہیں۔ ظہر سے پہلے بیدار ہو کر وہ اپنے روزمرہ کاموں اور ملاقاتوں کا آغاز کرتے ہیں۔
ان کے بقول یہ معمول کئی دہائیوں سے جاری ہے اور رمضان کے بابرکت ماحول میں عبادت اور سماجی خدمت دونوں پہلو نمایاں ہو جاتے ہیں۔
"رمضان المبارک ایسا مہینہ ہے جس میں انسان کی زندگی کا انداز بدل جاتا ہے۔ عبادتیں بڑھ جاتی ہیں، نیک کاموں کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہے اور انسان اپنے اعمال کا جائزہ لینے لگتا ہے۔"
وہ کہتے ہیں کہ رمضان میں نہ صرف عبادات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ سماجی اور فلاحی سرگرمیوں میں بھی تیزی آ جاتی ہے۔ افطار کی دعوتیں، لوگوں سے ملاقاتیں اور ضرورت مندوں کی مدد جیسے کام اس مہینے میں زیادہ ہوتے ہیں۔
رمضان کی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی ماضی کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق بچپن میں رمضان کا انتظار ایک خاص خوشی اور جوش کے ساتھ کیا جاتا تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ اس زمانے میں ان کے آبائی علاقے میں روزہ کھولنے کے لیے ایک دلچسپ نظام تھا جسے مقامی طور پر "ہری بتی اور لال بتی" کہا جاتا تھا۔ جب افطار کا وقت قریب آتا تو ایک مخصوص اشارے کے ذریعے لوگوں کو اطلاع دی جاتی کہ روزہ کھولنے کا وقت ہو گیا ہے۔
بعض مقامات پر توپ کے دھماکے یا کسی بلند آواز کے ذریعے بھی افطار کا اعلان کیا جاتا تھا۔
"جب ہم چھوٹے تھے تو افطار کے وقت کا انتظار بہت دلچسپ ہوتا تھا۔ جیسے ہی اشارہ ملتا کہ روزہ کھولنے کا وقت ہو گیا ہے تو پورا ماحول خوشی سے بھر جاتا تھا۔"
بعد میں جب وہ ممبئی منتقل ہوئے تو یہاں انہوں نے دیکھا کہ اذان کے ساتھ ہی روزہ کھولا جاتا ہے، اور یہ روایت آج بھی جاری ہے۔ ان کے مطابق رمضان کی یہ یادیں ان کے دل میں آج بھی تازہ ہیں اور ہر سال یہ مہینہ انہیں ماضی کی خوبصورت یادوں کی طرف لے جاتا ہے۔
مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی کا کہنا ہے کہ گزشتہ بیس سے پچیس برسوں میں کچھ مثبت تبدیلیاں ضرور آئی ہیں، خاص طور پر تعلیم کے میدان میں۔
ان کے مطابق آج مسلمانوں میں تعلیمی شعور پہلے سے زیادہ بڑھا ہے اور نئی نسل تعلیم حاصل کرنے کے لیے زیادہ سنجیدہ نظر آتی ہے۔
تاہم وہ اس بات پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی اور سیاسی سطح پر مسلمان اب بھی کمزور ہیں۔
"تعلیم کے میدان میں یقیناً بہتری آئی ہے، لیکن معاشی اور سیاسی اعتبار سے ہم ابھی بھی کمزور ہیں۔ جب تک معاشی مضبوطی نہیں ہوگی، ہماری اجتماعی طاقت بھی مضبوط نہیں ہو سکتی۔"
ان کے مطابق قوم کو معاشی خود کفالت کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ سماجی اور سیاسی میدان میں مضبوطی حاصل کی جا سکے۔
ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی کے مطابق مسلمانوں کی سیاسی کمزوری کی ایک بڑی وجہ ان کا بکھراؤ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ مسلمان مختلف سیاسی جماعتوں میں بٹے ہوئے ہیں اور کسی ایک مشترکہ قیادت یا پلیٹ فارم پر متحد نہیں ہیں۔
"جب قوم بکھر جاتی ہے تو اس کی سیاسی طاقت بھی بکھر جاتی ہے۔ اسی وجہ سے ہم اپنی بات مؤثر طریقے سے منوا نہیں پاتے۔"
ان کے مطابق اگر مسلمان اپنی اجتماعی طاقت کو سمجھیں اور ایک واضح حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھیں تو وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ملک کے موجودہ سیاسی ماحول کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی کہتے ہیں کہ گزشتہ چند برسوں میں حالات مزید پیچیدہ ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق بعض مواقع پر مسلمانوں کو ناانصافی اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
"آج کے حالات میں مسلمانوں کو کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ ہمیں ان حالات کا مقابلہ صبر، دانشمندی اور اتحاد کے ساتھ کرنا ہوگا۔"
وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ قوم کو صرف شکایت کرنے کے بجائے اپنی کمزوریوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے اور اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔
قوم کی ترقی کے بارے میں سوال کے جواب میں ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی واضح طور پر کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے ترقی کا سب سے مؤثر راستہ تعلیم ہے۔
ان کے مطابق اگر نئی نسل تعلیم یافتہ ہوگی تو وہ نہ صرف اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکے گی بلکہ سماج میں مثبت تبدیلی بھی لا سکے گی۔
"میں ہمیشہ قوم کو یہی پیغام دیتا ہوں کہ تعلیم حاصل کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ہم آگے بڑھ سکتے ہیں اور اپنے حقوق کے لیے مبوطی سے کھڑے ہو سکتے ہیں۔" ان کا ماننا ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان ہی مستقبل میں قوم کی قیادت سنبھال سکتے ہیں۔
ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ مسلمانوں کو اپنی دینی ذمہ داریوں پر پوری سنجیدگی سے عمل کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی درست ادائیگی اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر زکوٰۃ صحیح طریقے سے مستحقین تک پہنچائی جائے تو معاشرے کے کمزور طبقات کو بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔
گفتگو کے دوران ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی نے ایک اہم سماجی مسئلے کی طرف بھی توجہ دلائی۔
انہوں نے کہا کہ مساجد کے ائمہ اور مؤذنین اکثر محدود وسائل میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں، جبکہ ان کی ذمہ داریاں بہت اہم ہوتی ہیں۔
"میں کئی برسوں سے یہ بات اٹھا رہا ہوں کہ ائمہ اور مؤذنین کے ہدیے میں اضافہ ہونا چاہیے۔ یہ ذمہ داری محلے کے لوگوں کو لینی چاہیے۔"
ان کے مطابق اگر رمضان کے مہینے میں محلے کے لوگ مل کر ائمہ کی مدد کریں تو اتنی رقم جمع ہو سکتی ہے جس سے وہ پورا سال بہتر انداز میں گزار سکیں۔
گفتگو کے اختتام پر ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی نے مسلمانوں کو اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو چاہیے کہ وہ اختلافات کو پس پشت ڈال کر مشترکہ مفادات کے لیے متحد ہو جائے۔
"میری خواہش ہے کہ پوری قوم ایک آواز بن جائے، ایک جھنڈے کے نیچے جمع ہو جائے اور ایک واضح قیادت کے ساتھ آگے بڑھے۔ اگر ہم متحد ہوں گے تو ہماری طاقت بھی بڑھے گی۔"
ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی کی گفتگو اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ رمضان المبارک صرف عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ خود احتسابی، سماجی خدمت اور اجتماعی شعور بیدار کرنے کا بھی ایک اہم موقع ہے۔
ان کے خیالات میں جہاں مسلمانوں کے مسائل کی نشاندہی ہے وہیں ان کے حل کے لیے واضح راستہ بھی دکھائی دیتا ہے—تعلیم، اتحاد، معاشی خود کفالت اور دینی اقدار کی پابندی۔
ممبئی کی سیاسی اور سماجی زندگی میں چار دہائیوں سے سرگرم اس تجربہ کار شخصیت کا پیغام یہی ہے کہ اگر قوم سنجیدگی کے ساتھ اپنے اندر اصلاح پیدا کرے اور متحد ہو کر آگے بڑھے تو آنے والا مستقبل یقیناً زیادہ روشن اور مضبوط ہو سکتا ہے۔
یواین آئی۔اے اے اے

خاص خبریں
بجٹ اجلاس مکمل، لوک سبھا کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی

بجٹ اجلاس مکمل، لوک سبھا کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی

نئی دہلی، 18 اپریل (یو این آئی) لوک سبھا کا بجٹ اجلاس، جو 28 جنوری کو شروع ہوا تھا، ہفتہ کے روز اختتام کو پہنچا، جس کے بعد ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے کارروائی ملتوی کرنے سے قبل بتایا کہ 18 ویں لوک سبھا کے اس ساتویں سیشن کا آغاز 28 جنوری کو صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ خطاب سے ہوا تھا اس سیشن کے دوران کل 31 نشستیں ہوئیں اور 151 گھنٹے 42 منٹ تک کام کاج ہوا۔

...مزید دیکھیں
مرکزی ملازمین کے لیے مہنگائی بھتے میں دو فیصد اضافہ

مرکزی ملازمین کے لیے مہنگائی بھتے میں دو فیصد اضافہ

نئی دہلی، 18 اپریل (یو این آئی) مرکزی کابینہ نے ہفتہ کے روز اپنے ملازمین کے لیے یکم جنوری 2026 سے مہنگائی بھتے میں دو فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں یہاں منعقدہ کابینہ کی میٹنگ کے بعد اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے بتایا کہ اب مرکزی ملازمین کے لیے مہنگائی بھتہ 58 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد ہو جائے گا ریٹائرڈ مرکزی ملازمین کو پنشن میں ملنے والی مہنگائی راحت (ڈی آر) کو بھی 58 فیصد سے بڑھا کر 60 فیصد کر دیا گیا ہے۔

...مزید دیکھیں
خواتین کے ریزرویشن اور حلقہ  بندی پر حکومت کو گھیرتے ہوئے پرینکا نے اپوزیشن کے اتحاد کو مضبوط قرار دیا

خواتین کے ریزرویشن اور حلقہ بندی پر حکومت کو گھیرتے ہوئے پرینکا نے اپوزیشن کے اتحاد کو مضبوط قرار دیا

نئی دہلی 18 اپریل (یو این آئی) کانگریس کی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے خواتین کے ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے لوک سبھا میں پاس نہ ہونے کو "جمہوریت کی بڑی جیت" قرار دیا ہے محترمہ پرینکا گاندھی نے ہفتہ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت جمہوری نظام کو کمزور کرنے اور ملک کے وفاقی ڈھانچے میں تبدیلی کی "سازش" کر رہی تھی، جسے اپوزیشن نے متحد ہو کر ناکام بنا دیا۔

...مزید دیکھیں
ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کردیا

ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کردیا

تہران، 18 اپریل (یو این آئی) پاسداران انقلاب اسلامی کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی مسلسل ناکہ بندی کی وجہ سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اب پچھلی حالت میں واپس آ گیا ہے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سابقہ حالت میں اب کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اس کا کنٹرول مکمل طور پر پرانی حالت میں واپس آگیا ہے پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز اب ایران کی مسلح افواج کے سخت کنٹرول میں ہے۔

...مزید دیکھیں
دہلی سے حج پروازوں کا آغاز، دہلی حج کمیٹی کی چیئرپرسن نے حجاج کو رخصت کیا

دہلی سے حج پروازوں کا آغاز، دہلی حج کمیٹی کی چیئرپرسن نے حجاج کو رخصت کیا

نئی دہلی، 18 اپریل (یو این آئی) ہندوستان سے مقدس فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے جانے والے حجاج کرام کی روانگی کا عمل 18 اپریل سے شروع ہو گیا ہے دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کے انتظامات کے تحت دارالحکومت دہلی سے حج 2026 کے لیے جانے والے کل 371 حجاج کرام کو آج اندرا گاندھی بین الاقومی ایئر پورٹ کے ٹرمنل 3 سے سعودی ایئرلائن کی پرواز کے ذریعے حکومتِ ہند کی وزارتِ اقلیتی امور کے سیکریٹری ڈاکٹر شری وتس کرشنا اور دہلی حج کمیٹی کی چیئرپرسن کوثر جہاں نے پھولوں کے ہار پہنا کر مدینہ منورہ کے لیے صبح 9:45بجے روانہ کیا۔

...مزید دیکھیں
ایس آئی آر کا عمل غیر آئینی اور جمہوریت کا مذاق: سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی

ایس آئی آر کا عمل غیر آئینی اور جمہوریت کا مذاق: سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی

نئی دہلی، 18 اپریل (یو این آئی) سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے ملک بھر میں جاری ووٹرفہرستوں کی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے اسے غیر آئینی اور عوام کے خلاف ایک سازش قرار دیا ہے انسانی حقوق کی تنظیم 'جن ہستکشیپ' کی جانب سے یہاں پریس کلب آف انڈیا میں " سلیکٹنگ دی الیکٹرز:ماکری آف ڈیموکریسی" کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر قریشی نے کہا کہ یہ عمل ووٹر لسٹ اور انتخابی قوانین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

...مزید دیکھیں
بجٹ اجلاس  تاریخی رہا، کانگریس پر خواتین مخالف ہونے کا انمٹ داغ لگ گیا: ریجیجو

بجٹ اجلاس تاریخی رہا، کانگریس پر خواتین مخالف ہونے کا انمٹ داغ لگ گیا: ریجیجو

نئی دہلی، 18 اپریل (یو این آئی) پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو نے کہا ہے کہ ہفتہ کو ختم ہوا بجٹ اجلاس تاریخی رہا ہے، لیکن اس اجلاس میں کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں پر خواتین مخالف ہونے کا جو داغ لگا ہے وہ کبھی نہیں مٹے گا اور مشتعل ملک کی خواتین اپنے حقوق چھیننے پر ان جماعتوں کو کبھی معاف نہیں کریں گی مسٹر ریجیجو نے آج یہاں پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 16 اپریل سے شروع ہوئے پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے تین روزہ توسیعی اجلاس میں 'ناری وندن ادھینیم' (خواتین ریزرویشن بل) لایا گیا تھا، لیکن دو دن تک جاری رہنے والی بحث کے بعد کانگریس اور انڈیا اتحاد کی دیگر جماعتوں کے خواتین مخالف رویے کی وجہ سے اسے منظور نہیں کیا جا سکا۔

...مزید دیکھیں
انگلینڈ کی قومی ٹیم کے کوچ کلائیو کیسٹیلو ہندوستان میں باسکٹ بال کی تربیت دیں گے

انگلینڈ کی قومی ٹیم کے کوچ کلائیو کیسٹیلو ہندوستان میں باسکٹ بال کی تربیت دیں گے

18 Apr 2026 | 7:18 PM

نوئیڈا، 18 اپریل (یو این آئی) انگلینڈ کی قومی ٹیم اور لندن لائنز (یورو لیگ/ یورو کپ) کے ہیڈ کوچ کلائیو کیسٹیلو ملک کے پہلے یورپی طرز کے تربیتی کیمپوں میں باصلاحیت کھلاڑیوں کو باسکٹ بال کی تربیت دینے کے لیے ہندوستان پہنچ گئے ہیں۔ 'اسپورٹس سول' کے تعاون سے 'الہاس یووی پیپ باسکٹ بال اکیڈمی' (یو وائی بی اے) کے زیر اہتمام منعقدہ یہ 4 روزہ اعلیٰ سطح کے کیمپس براہِ راست یورپ سے پیشہ ورانہ مہارتیں اور تکنیکیں ہندوستان لے کر آئے ہیں۔.

دھمتری سے 35 لوگوں کو چوتھیا لے جا رہی پک اپ بالود میں پلٹی، ایک کی موت، 17 زخمی

18 Apr 2026 | 2:09 PM

بالود، 18 اپریل (یو این آئی) چھتیس گڑھ کے بالود ضلع ہیڈ کوارٹر سے تقریباً 12 کلومیٹر دور جھلملا سے رانی مائی موڑ کے پاس جمعہ کی شام ایک تیز رفتار پک اپ گاڑی پلٹ گئی۔ اس حادثے میں ایک شخص کی موقع پر ہی موت ہو گئی، جبکہ 17 افراد زخمی ہو گئے۔ ان میں سے 5 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جنہیں بہتر علاج کے لیے ریفر کیا گیا ہے۔.