NationalPosted at: Jun 8 2026 5:34PM سی بی ایس ای نے خلیجی ملک کے ایک طالب علم کا رزلٹ روکا تو سپریم کورٹ نے مانگی وضاحت

نئی دہلی، 08 جون (یو این آئی) سپریم کورٹ نے سعودی عرب میں رہنے والے ایک طالب علم کی رٹ پٹیشن پر پیر کو سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کو نوٹس جاری کیا ہے طالب علم نے اپنی بارہویں کلاس کے مارکس امپروومنٹ امتحان کا رزلٹ جاری کرنے کی درخواست کی ہے اس معاملے کی اگلی سماعت اب جمعہ کو ہوگی۔ پٹیشنر پریانشو جگر کمار پٹیل نے عدالت عظمیٰ کے سامنے دائر اپنی درخواست میں سی بی ایس ای کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے، جس کے تحت ان کی بارہویں کلاس کے مارکس امپروومنٹ امتحان کا رزلٹ روک دیا گیا ہے۔ بورڈ نے یہ فیصلہ اس وقت کیا ہے جب اس نے خود ان طلبہ کے لیے خصوصی ویلیوایشن اسکیم شروع کی تھی، جن کے امتحانات کئی خلیجی ممالک میں موجودہ حفاظتی صورتحال کی وجہ سے منسوخ کر دیے گئے تھے۔
اگرچہ سی بی ایس ای نے 13 مئی کو ہی بارہویں کلاس کے نتائج کا اعلان کر دیا تھا، لیکن طالب علم پٹیل کا رزلٹ جاری نہیں کیا گیا۔ ان کے رزلٹ کے اسٹیٹس پر 'آر ایل (رزلٹ بعد میں)' درج کر دیا گیا۔ پٹیشنر نے دلیل دی کہ سی بی ایس ای نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ امپروومنٹ امتحان میں بیٹھنے والے پرائیویٹ طلبہ اس خصوصی ویلیوایشن اسکیم کے دائرے میں آتے ہیں یا نہیں۔
انہوں نے متبادل پیش کیا کہ علاقائی کشیدگی کی وجہ سے مغربی ایشیائی ممالک میں سی بی ایس ای اسکولوں کے امتحانات منسوخ ہونے سے متاثر ہونے والے پرائیویٹ طلبہ کو بھی ریگولر طلبہ کی طرح ہی راحت دی جانی چاہیے۔ پٹیل نے اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا، لیکن ان کی درخواست پر غور نہیں کیا گیا تھا۔ جج منموہن اور جج وجے بشنوئی کی تعطیلاتی بنچ نے اس پٹیشن پر سی بی ایس ای اور اس کے علاقائی افسر کو نوٹس جاری کیا ہے۔
سی بی ایس ای کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل نے عدالت کو مطلع کیا کہ جانچ کا عمل طالب علم کے اسکول سے ہونا تھا۔ چونکہ پٹیل ایک پرائیویٹ امیدوار تھے، اس لیے ان کا کوئی ویلیوایشن ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ جج منموہن نے زبانی تبصرہ کیا کہ بورڈ طالب علم کی ماضی کی تعلیمی کارکردگی پر غور کر سکتا ہے اور انہوں نے سی بی ایس ای کے وکیل کو ہدایات حاصل کر کے جمعہ تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔
جب سی بی ایس ای نے کام کے بوجھ کا حوالہ دیتے ہوئے پیر تک کا اضافی وقت مانگا اور کہا کہ بورڈ پہلے ہی اس مسئلے پر کام کر رہا ہے، تو بنچ نے معاملے کی سنگینی اور عجلت پر زور دیا۔ جج منموہن نے کہا، ”یہ ایک بچے کے کریئر کا سوال ہے۔ وہ اپنے تمام داخلوں سے محروم ہو جائے گا“۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا، ”صورتحال جو بھی ہو، دن رات ایک کر کے اس کام کو پورا کیجیے“۔
یواین آئی ۔ایف اے