NationalPosted at: Jan 20 2026 6:26PM نفرت انگیز تقاریر کے انسداد کے لیے جامع ہدایات کی درخواستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ

نئی دہلی، 20 جنوری (یو این آئی) سپریم کورٹ نے ملک بھر میں نفرت انگیز تقاریر کے واقعات کے خلاف مؤثر کارروائی کی ہدایت دینے کی درخواستوں پر منگل کے روز اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے درخواستوں کی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے تمام فریقوں کو دو ہفتے کے اندر مختصر تحریری عرضداشتيں پیش کرنے کی ہدایت دی۔
ان درخواستوں پر سماعت عدالت کی پہلے کی ہدایات کے پس منظر میں کی جا رہی ہے جن میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ جب بھی کوئی تقریر یا طرز عمل تعزیرات ہند کی دفعہ 153A، 153B، 295A اور 505 کے تحت جرائم شمار ہو، تو حکام کو مقدمات درج کرنے اور مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ازخود کارروائی کرنی چاہیے، اور انہيں اس کے لیے رسمی شکایت کا انتظار نہيں کرنا چاہئے۔
سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ اگروال، ایم آر شمشاد، سنجے پاریکھ، سنجے ہیگڑے اور ایڈوکیٹ نظام پاشا درخواست گزاروں کی طرف سے پیش ہوئے، جبکہ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو اور سینئر ایڈوکیٹ ڈی ایس نائیڈو نے مدعا علیہان کی نمائندگی کی۔ متعدد درخواست گزاروں کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈوکیٹ نظام پاشا نے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے نفرت انگیز تقاریر کے واقعات پر، بالخصوص جب ملزمان کا تعلق حکمران پارٹیوں سے ہو، تو ان کے خلاف کارروائی کرنے میں مسلسل ہچکچاہٹ ظاہر ہوتی ہے۔
انہوں نے عرض کیا کہ مسئلہ قانونی دفعات کی عدم موجودگی کا نہیں بلکہ ان کے ناقص نفاذ کا ہے۔ عدالت کی مکرر ہدایات کے باوجود "معمول کے مشتبہ افراد" اشتعال انگیز تقاریر کرتے رہتے ہیں، ایف آئی آر کے بعد اکثر گرفتاریاں نہیں کی جاتیں، اور حکام کارروائی کرنے میں ناکام رہتے ہیں، حتی کہ ایسے واقعات کی پہلے سے تشہیر کی جاتی ہے جس میں نفرت انگیز تقریر کے واضح اشارے کا اشتہار دیا جاتا ہے، مگر ان پر کوئی کارروائی نہيں ہوتی ہے۔
درخواست گزاروں نے ڈیجیٹل دور میں نفرت انگیز تقریر کی ابھرتی ہوئی نوعیت کو بھی اجاگر کیا۔ سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ اگروال نے ایک درخواست کا حوالہ دیا جس میں اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو میں مبینہ طور پر سیاسی مقاصد کے لیے فرقہ وارانہ بیانیے کا استعمال کیا گیا تھا۔ انہوں نے نفرت انگیز تقاریر کے ایسے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جن میں حکومتی منظوری درکار ہوتی ہے۔ جکہ یہ منظوری صرف ادراک کے مرحلے پر ضروری ہوتی ہے، ایف آئی آر درج یا تفتیش شروع کرنے کے لیے نہيں۔
جاری۔ یو این آئی۔ م ش۔