NationalPosted at: Apr 13 2026 4:09PM سپریم کورٹ نے لالو پرساد کو 'زمین کے بدلے نوکری کیس' میں نچلی عدالت میں پیشی سے استثنیٰ دے دیا

نئی دہلی، 13 اپریل (یو این آئی) سپریم کورٹ نے پیر کے روز راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو کو 'زمین کے بدلے نوکری' (لینڈ فار جاب) کیس کی کارروائی کے دوران نچلی عدالت میں ذاتی طور پر پیش ہونے سے استثنیٰ دے دیا ہے عدالت عظمی مسٹر پرساد کی اس درخواست پر سماعت کر رہی تھی جس میں مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) کے کیس کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اس درخواست میں متعلقہ اتھارٹی سے لازمی پیشگی منظوری کے بغیر مبینہ طور پر نئی پوچھ گچھ اور تحقیقات شروع کرنے کے اقدام کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔
اس سے قبل 24 مارچ کو دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے میں سی بی آئی کی ایف آئی آر کو منسوخ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے مسٹر یادو کی اس دلیل کو مسترد کر دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ اے 17 کے تحت پیشگی منظوری کی عدم موجودگی میں یہ کارروائی قانونی طور پر درست نہیں ہے۔
یہ معاملہ 2004 سے 2009 کے درمیان مسٹر پرساد کے بطور وزیر ریلوے دورِ اقتدار کے دوران مدھیہ پردیش کے جبل پور میں انڈین ریلوے کے ویسٹ سنٹرل زون میں کی گئی مبینہ 'گروپ ڈی' بھرتیوں سے متعلق ہے۔
تفتیشی اداروں کا الزام ہے کہ امیدواروں کو زمین کے ان ٹکڑوں کے عوض ملازمتیں دی گئی تھیں جو لالو پرساد کے خاندان کے افراد یا قریبی ساتھیوں کے نام پر تحفے میں دیے گئے تھے یا منتقل کیے گئے تھے۔
یواین آئی ۔ایف اے