RegionalPosted at: Jul 16 2026 5:25PM سیکر میں ایک ہی دن میں عدالتی حکم امتناعی کے ذریعہ پانچ کم سن بچوں کی شادیاں روکی گئیں

سیکر، 16 جولائی (یو این آئی) کم عمری کی شادی کو ختم کرنے کی کوششوں کو تیز کرتے ہوئے راجستھان کے سیکر ضلع میں عدلیہ، پولیس انتظامیہ اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے درمیان تعاون نے عدالتی احکامات کے ذریعے ایک ہی دن میں پانچ بچوں کی کم عمری کی شادیوں کو روک دیا ان میں سے دو لڑکوں کی، جن کی عمریں صرف 9 اور 12 سال تھیں، کی شادی اسی عمر کی نابالغ لڑکیوں سے آٹا سٹا سسٹم کے تحت کی جا رہی تھی، جب کہ ایک لڑکی کی عمر 18 سال سے کم تھی۔
بچوں کے حقوق کے تحفظ اوران کی بحالی کے لیے کام کرنے والی 250 سے زیادہ سول سوسائٹی تنظیموں کا ملک کا سب سے بڑا نیٹ ورک، جسٹ رائٹس فار چلڈرن سے منسلک گائتری سیوا سنستھان کو گوکل پورہ پولیس اسٹیشن کے تحت ایک گاؤں میں ایک نابالغ لڑکی کی شادی کی اطلاع ملی۔ تنظیم کے ارکان پولیس کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے لیکن کچھ گاؤں والوں نے معلومات چھپانے کی کوشش کی۔ لڑکی کے اہل خانہ نے بھی پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اور دعویٰ کیا کہ وہ بالغ ہے۔ لیکن وہ عمر سے متعلق دستاویزات فراہم کرنے سے انکار کرتے رہے۔ آخر کار، جب اس کے اسکول سے لڑکی کی تاریخ پیدائش کی درخواست کی گئی، تو اس سے معلوم ہوا کہ اس کی عمر 18 سال سے کم ہے، اور اس کی شادی ایک 42 سالہ بیوہ سے ہو رہی ہے۔
تاہم، ٹیم کو معلوم ہوا کہ ایک ہی خاندان کے دو اور لڑکوں کی، جن کی عمریں 9 اور 12 سال ہیں، کی شادی 6 جولائی کو آٹا ست روایت کے تحت ہونی تھی۔ وہ جن لڑکیوں سے شادی کر رہے تھے وہ بھی اسی عمر کی تھیں۔ گایتری سیوا سنستھان نے ان بچوں کی شادیوں کو روکنے کے لیے سیکر کے ایڈیشنل جوڈیشل مجسٹریٹ کو چائلڈ میرج پرہیبیشن ایکٹ 2006 کے تحت درخواست دائر کی، جنھوں نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان بچوں کی بالغ ہونے سے پہلے شادی نہیں کی جا سکتی۔
شادی کے روکے جانے پر راحت کی سانس لیتے ہوئے 12 سالہ لڑکے نے بتایا کہ وہ بڑا ہو کر وکیل بننا چاہتا تھا اور اسے ڈر تھا کہ شادی اسے پڑھائی چھوڑ کر کسی اور پیشے پر مجبور کر دے گی۔
گائتری سیوا سنستھان کے ڈائریکٹر اور راجستھان چائلڈ کمیشن کے سابق ممبر ڈاکٹر شیلیندر پانڈیا نے کہا کہ سیکر بچوں کی شادی پر پابندی کے قانون (پی سی ایم اے) 2006 کو لاگو کرنے میں رہنمائی کر رہا ہے۔ اس سے قبل اکشے ترتیہ کے دوران عدالتی حکم نامہ کے ذریعے ضلع میں پہلی بار دو لڑکیوں کی کم عمری کی شادیوں کو روک دیا گیا تھا۔ اس سے عوام میں یہ پیغام گیا ہے کہ کم عمری کی شادی کے خلاف قانون اب صرف کاغذوں پر نہیں ہے بلکہ اب اس پر سختی اور مؤثر طریقے سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
جسٹ رائٹس فار چلڈرن کے قومی کنوینر مسٹر روی کانت نے عدالتی حکم کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیے ہمارے ملک میں قانون ہمیشہ سے سخت اور ترقی پسند رہے ہیں لیکن ان پر سنجیدگی سے عمل درآمد کی کمی تھی۔ انہوں نے کہا کہ لیکن اب سول سوسائٹی تنظیموں کی عوامی بیداری مہموں سے ماحول بدلا ہے اور لوگ خود آگے آکرکم عمری کی شادی کی کی اطلاع دے رہے ہیں۔ امتناعی احکامات کے ذریعے ایک ہی دن میں پانچ کم عمری کی شادی کی روکنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قانون کے ساتھ کھلواڑ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان میں جس طرح سے حکومت، سماج اور عدلیہ کم عمری کی شادی کی کے خلاف یکجہتی اور پختہ عزم کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اس سے امید جاگی ہے کہ ہم جلد ہی کم عمری کی شادی کی سے پاک راجستھان کے خواب کو شرمندہ تعبیر ہوتے دیکھیں گے۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف