featuresPosted at: Feb 14 2026 10:45PM ہفت جہت شخصیت : حفیظ جالندھری

خصوصی تحریر
از ڈاکٹر شگفتہ یاسمین
بیسویں صدی کے مشہور زمانہ شاعروں میں حفیظ جالندھری نے جو شہرت دوام پائی وہ اس اعتبار سے لاثانی ہے کہ ان کی تخلیق پاکستان کا قومی ترانہ بن کر سامنے آئی ، 3 مہینے 22دن میں تخلیق کردہ یہ ترانہ وہ اعزاز ہے جو بڑے نصیب سے ملتا ہے، یہی نہیں ان کے مشہور گیت 'ابھی تو میں جوان ہوں' نے ملکہ پکھراج کو بھی حیات جاودانی عطا کر دی اور ان کی آواز میں یہ گیت ان کی شناخت بن گیا۔ حفیظ نے جس دور میں آنکھیں کھولیں وہ شعر وادب کے عروج کا زمانہ تھا اقبال ، حالی ، حسرت، جوش جیسے شعراء اپنی شاعری سے دلوں کو گرما رہے تھے۔ احمد شاہ پطرس بخاری ، امتیاز علی تاج، محمد دین تاثیر، صوفی غلام تبسم ، کرشن چندر وغیرہ کے ادبی کارناموں کا شہرہ تھا ۔
ابو الاثر حفیظ جالندھری 14 جنوری1900 کوپنجاب کے جالندھرمیں پیدا ہوئے ۔ ان کے آباء واجداد میں سات پشتوں تک کوئی شاعر نہیں تھا۔ ان کے آباء واجداد راجپوت تھے اور پرتھوی راج چوہان کی اولاد میں سے تھے جو بعد میں مسلمان ہو کر جودھپور میں آباد ہو گئے تھے۔ یہ مغلوں کے دور انحطاط کا زمانہ تھا۔ فرخ سیر کے زمانے میں جب ان کے قبیلے کوجودھپور سے نکالا گیا تو حفیظ کا پورا قبیلہ لڑتا بھڑتا پہلے دہلی پہنچا اور پھر جالندھر میں آباد ہوگیا اور تقسیم ہند کے بعد پاکستان چلے گئے۔ حفیظ جالندھری نے باضابطہ طور پر کسی درسگاہ سے تعلیم حاصل نہیں کی لیکن اس کمی کو اپنی ذاتی استعداد سے پورا کیا۔ ان کے مطابق چار سال پانچ ماہ کی عمر رہی ہوگی جب انہیں مسجد کے مکتب میں داخل کرایا گیا۔ یہاں انہوں نے دو سال میں قرآن مجید ناظرہ پڑھا اور کئی سورتیں حفظ کر لیں۔ اپنے لڑکپن کے اس دور کے بارے میں حفیظ کہتے ہیں کہ وہ دور آشوب ایسا تھا کہ نہ صرف ہندوستان بلکہ ہندوستان سے باہر بھی مسلمان مصائب و آلام کا شکار تھے ۔ ہر طرف سے جو بھی خبر کانوں میں پڑتی وہ سامراجی طاقتوں کی چیرہ دستیوں اور اہل اسلام کی شکستہ پائی کی ہوتی۔ حفیظ بتاتے ہیں کہ ان کے بزرگ ان حالات پر افسوس کرتے اور آہیں بھرتے تھے لہذا ہم بچوں پر اس کا اثر پڑنا فطری تھا ۔ اس کے علاوہ جالندھرمیں میلاد شریف اور قوالیاں ہوتی تھیں۔ بزرگ تو حصول ثواب کے لیے محفلیں منعقد کرتے اور ہم بچے شیرینی وصول کرنے، اودھم مچانے اور ڈانٹ سننے کے لیے موجود ہوتے۔ عربی فارسی اور پنجابی کے ساتھ اردو میں نعت خوانی شروع ہو گئی تھی ایسے میں شاعری کی طرف رجحان ہونا ایک فطری امر تھا ۔ شعر گوئی کے آغاز کو حفیظ اپنی زندگی کا ناقابل فراموش واقعہ قرار دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ
' میں تیسری جماعت میں تھا اوربیٹھا ہوا خوشخطی کی مشق کر رہا تھا۔ ان دنوں ہم تختی پر لکھا کرتے تھے۔ میں نے خوش خطی کرتے کرتے نعت کے شعر لکھنے شروع کر دیئے اور جب تختی بھر گئی تو میں نے کاپی کے خالی صفحات پر بھی شعر لکھنے شروع کردیئے وہ شعر کچھ یوں تھے۔
محمد کی کشتی میں ہوں گا سوار
تو لگ جائے گا میرا بیڑا بھی پار
محمد حفیظ نے بنائی غزل
ہے اس وقت اس پر خدا کا فضل
اس طرح تقریباً 150 شعر ہو گئے وفور شوق کا عالم یہ تھا کہ میں خوشی سے ناچتا پھر رہا تھا اور خود کو شاباشیاں دے رہا تھا۔ '۔
یہ وہ دور تھا جب چاروں طرف ادباء و شعراء اور علماء و فضلاء کا چرچا تھا ۔ جالندھر سخن فہم اور سخن شناس شہر تھا لہذا حفیظ کو ان احباب کی خوب رفاقت ملی اس زمانے میں جالندھر کمشنری کہلاتا تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے اختتام کی بات ہے کہ شعراء کا ایک بڑا مقابلہ ہوا جس میں حفیظ نے بھی حصہ لیا اوردونوں تمغے اپنے نام کیے۔ اس وقت ان کی عمر 17 سال تھی۔ دن بہ دن شہرت بڑھتی گئی اور حفیظ امرتسر، لدھیانہ ، کپور تھلہ، سلطان پوروغیرہ کے مشاعروں میں شرکت کرنے لگے۔ اقبال کی موجودگی نے غزلوں سے آگے بڑھ کر سنجیدہ شاعری اور نظموں کی طرف راغب کیا۔
مولانا غلام قادر نے جن کے سامنے حفیظ نے زانوئے تلمذ تہہ کیا تھا حفیظ کو شاعری میں خون جگر صرف کرنے کا مشورہ دیا اور حفیظ نے واقعی ایسا کر ڈالا۔ نامور فارسی شاعر مولانا غلام قادربلگرامی سے اصلاح لیتے رہے اور اپنی محنت و ریاضت سے نامور شعراء کی فہرست میں جگہ بنا لی ۔اقبال، حالی، حسرت، جوش جیسے شعراء کی دھوم تھی اس کے باوجود حفیظ جالندھری نے اپنی ایک منفرد شناخت بنائی کہ غزل ، نظم ، گیت ، سلام وغیرہ سب کچھ لکھا لیکن ان کا سب سے بڑا کارنامہ 'شاہنامہ اسلام ہے ' جو چار جلدوں میں شائع ہوا ۔ اس طویل نظم کے ذریعے انہوں نے اسلامی روایات اور قومی شکوہ کا احیاء کیا جس پر انہیں 'فردوسی اسلام ' کا خطاب دیا گیا۔
'مقدمہ شعر وشاعری' میں حالی نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا تھا کہ اردو میں کوئی بلند پایہ مثنوی موجود نہیں ہے ۔شاہنامہ اسلام کی اشاعت سے یہ اعتراض کسی حد تک دور ہوگیا۔ تاریخی واقعات کو نظمیہ پیرائے میں ڈھالنا کافی دشوار ہوتا ہے خاص طور پر ایسے واقعات جن کا مذہب سے تعلق ہواور جن سے کسی قوم کے جذبات وابستہ ہوں۔ شاہنامہ اسلام میں حفیظ نے بے کم وکاست واقعات بیان کیے ہیں لیکن طرز نگارش ایسا ہے کہ دلکشی میں کمی نہیں ہے،نہ خشکی ہے نہ روکھا پھیکا پن ہے بلکہ ایسے بے شمار مقامات موجود ہیں جن سے قاری کے جوش ایمانی کو تحریک ملتی ہے اور دل میں ولولہ پیدا ہوتا ہے۔
حفیظ خود بھی مترنم تھے اور یہی وصف ان کی شاعری میں بھی ملتا ہے حفیظ کا یہ ماننا تھا کہ اردو میں سب سے پہلے گیت انہوں نے ہی لکھے ہیں۔ان کے گیتوں میں ترنم اور غنائیت کی کوئی کمی نہیں ، انہوں نے ایسی لفظیات کا انتخاب کیا جو غنائیت کی کسوٹی پر پورے اترتے ہیں ان کا گیت 'ابھی تو میں جوان ہوں'ایک پراثر گیت ہےکیوں کہ اس میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان میں سے ہر لفظ نگینے کی طرح اپنی جگہ مرصع ہے چند اشعار ملاحظہ ہوں ۔
ہوا بھی خوشگوار ہے
گلوں پہ بھی نکھار ہے
ترنم ہزار ہے
بہار پر بہار ہے
کہاں چلا ہے ساقیا
ادھر تو لوٹ ادھر تو آ
ارے یہ دیکھتا ہے کیا
اٹھا سبو سبو اٹھا
ان کے زمانے میں بسنت کا تہوار بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا تھا پتنگیں اُ ڑائی جاتیں۔ حفیظ بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ پتنگ اُڑاتے ہوئے وہ چھت سے گر پڑے تھے۔ انہوں نے اپنی نظم 'بسنتی ترانہ' میں انسانی جذبات کے مختلف پہلوؤں کو بڑی خوب صورتی کے ساتھ یکجا کیا ہے چند اشعار ملا حظہ ہوں
لڑکوں کی جنگ دیکھو
ڈور اور پتنگ دیکھو
کوئی مار کھائے
کوئی کھلکھلائے
کوئی منہ چڑھائے
طفلی کے رنگ دیکھو
ڈور اور پتنگ دیکھو
لڑکوں کی جنگ دیکھو
لو پھر بسنت آئی
پھولوں پہ رنگ لائی
حفیظ نے وطن کی محبت کے ترانے بھی گائے ہیں ان کے لیے وطن کی محبت ہوا کی مانند ہے ، باد صبا باد نسیم ہے جس باغ میں چلتی ہے وہاں سبزہ لہلہاتا ہے کلیاں مسکراتی ہیں، غنچے کھلتے ہیں اور بلبلیں ترانے گاتی ہیں ۔ 'ان کی نظم اپنے وطن میں سب کچھ ہے پیارے' بے انتہا مقبول ہوئی۔ 1937 میں جب حفیظ لندن گئے تو 'نیرنگ فرنگ' کے ساتھ اس نظم کو سنانے کی فرمائش کی گئی اس کے علاوہ جب جارج برنارڈ شا سے ملاقات ہوئی تو انہیں حفیظ کا کلام ترجمہ کر کے سنایا گیا ۔ وہاں قیام کے دوران انگریزخواتین حفیظ سے ان گیتوں کو سکھانے کی فرمائش کرتیں ایک صاحبہ تو اس حد تک ملتفت ہوئیں کہ انہوں نے حفیظ سے شادی بھی کرلی اور ان سے حفیظ کی ایک بیٹی بھی ہے۔ اس نظم کے چند اشعار ملاحظہ ہوں
وطن نام ہے جس کا ہندوستان
وطن جس کی تعریف جنت نشاں
کہیں پربتوں کی ہیں اونچائیاں
کہیں ساگروں کی ہیں گہرائیاں
اُدھر بن کی خاموش تنہائیاں
ادھر من کی موج اور شہنائیاں
دکھاتا ہے کیسا نظارہ وطن
ہمارا وطن پیارا پیارا وطن
حفیظ نے بڑی تعداد میں غزلیں لکھی ہیں وہ خود کو غزل کا شاعر کہلوانا پسند کرتے تھے۔انہوں نے غزلوں میں نئے تجربات کیے، سلیس زبان کا استعمال کیااور عصری و سماجی موضوعات کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔
دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے
تم نے ہمیں بھلا دیا ہم نہ تمہیں بھلا سکے
ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو جائے َ
ان کی غزلوں میں قنوطیت اور حزن وملال بھی ملتا ہے لیکن یہ غم ان کا اپنا نہیں پرایا ہے ۔
کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہے
اب عشق کیا تو صبر بھی کر اس میں تو یہی کچھ ہوتا ہے
او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جا
اب میں دل کو کیا سمجھاؤں مجھ کو بھی سمجھاتا جا
نغمہ زار ، تلخابہ شیریں ، سوز وساز ، ہندوستان ہمارا ، پھول مالی وغیرہ حفیظ جالندھری کے گیتوں غزلوں اور نظموں کے مجموعے ہیں۔ انہون نے بچوں کے لیے بہت ساری نظمیں لکھیں جن میں ' چیونٹی نامہ' اور' بچوں کی نظمیں' مشہور ہیں ۔ 'شاہنامہ اسلام' کے علاوہ نثر میں ' ہفت پیکر' کے عنوان سے ایک افسانوی مجموعہ بھی ہے۔حفیظ علامہ اقبال سے بہت متاثر تھے۔ 'حفیظ کا اقبال ' میں علامہ اقبال سے اپنی بے تکلفی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں
' ایک روز علامہ اقبال نے علی بخش کو جالندھر بھیج کرانہیں طلب کیا اور کہا حفیظ ! تم میرا مرثیہ لکھنا ۔ حفیظ کہتے ہیں کہ اقبال نے ان سے شاہنامہ اسلام سے ولادت رسول کے اشعار سنانے کی درخواست کی '
حفیظ اپنے فن کی طرح ہمہ رنگ اور ہمہ جہت شخصیت تھے۔ ادبی جرائد نونہال ، ہزار داستان ، تہذیب نسواں اور مخزن کے ایڈیٹررہے۔ سانگ پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائرکٹر، مسلح افواج کے ڈائرکٹر جنرل آف مورالس اوررائٹرز گلڈ آف پاکستان کے ڈائرکٹر بھی رہے ۔ 21 دسمبر 1982 کولاہور میں 82 سال کی عمر میں وفات پائی۔ اقبال سے والہانہ عقیدت کی بنا پران کے پہلو میں دفن ہونے کی وصیت کی تھی جو پوری نہ ہوسکی ۔ ان کی رحلت کو زمانہ ہوا لیکن ان کا ترانہ صبح و شام لوگوں کو ان کی یاد دلاتا رہے گا۔
یو این آئی ۔ ایس وائی ۔