Tuesday, Mar 17 2026 | Time 21:20 Hrs(IST)
features

ہفت جہت شخصیت : حفیظ جالندھری

ہفت جہت شخصیت : حفیظ جالندھری

 خصوصی تحریر
از ڈاکٹر شگفتہ یاسمین
بیسویں صدی کے مشہور زمانہ شاعروں میں حفیظ جالندھری نے جو شہرت دوام پائی وہ اس اعتبار سے لاثانی ہے کہ ان کی تخلیق پاکستان کا قومی ترانہ بن کر سامنے آئی ، 3 مہینے 22دن میں تخلیق کردہ یہ ترانہ وہ اعزاز ہے جو بڑے نصیب سے ملتا ہے، یہی نہیں ان کے مشہور گیت 'ابھی تو میں جوان ہوں' نے ملکہ پکھراج کو بھی حیات جاودانی عطا کر دی اور ان کی آواز میں یہ گیت ان کی شناخت بن گیا۔ حفیظ نے جس دور میں آنکھیں کھولیں وہ شعر وادب کے عروج کا زمانہ تھا اقبال ، حالی ، حسرت، جوش جیسے شعراء اپنی شاعری سے دلوں کو گرما رہے تھے۔ احمد شاہ پطرس بخاری ، امتیاز علی تاج، محمد دین تاثیر، صوفی غلام تبسم ، کرشن چندر وغیرہ کے ادبی کارناموں کا شہرہ تھا ۔
ابو الاثر حفیظ جالندھری 14 جنوری1900 کوپنجاب کے جالندھرمیں پیدا ہوئے ۔ ان کے آباء واجداد میں سات پشتوں تک کوئی شاعر نہیں تھا۔ ان کے آباء واجداد راجپوت تھے اور پرتھوی راج چوہان کی اولاد میں سے تھے جو بعد میں مسلمان ہو کر جودھپور میں آباد ہو گئے تھے۔ یہ مغلوں کے دور انحطاط کا زمانہ تھا۔ فرخ سیر کے زمانے میں جب ان کے قبیلے کوجودھپور سے نکالا گیا تو حفیظ کا پورا قبیلہ لڑتا بھڑتا پہلے دہلی پہنچا اور پھر جالندھر میں آباد ہوگیا اور تقسیم ہند کے بعد پاکستان چلے گئے۔ حفیظ جالندھری نے باضابطہ طور پر کسی درسگاہ سے تعلیم حاصل نہیں کی لیکن اس کمی کو اپنی ذاتی استعداد سے پورا کیا۔ ان کے مطابق چار سال پانچ ماہ کی عمر رہی ہوگی جب انہیں مسجد کے مکتب میں داخل کرایا گیا۔ یہاں انہوں نے دو سال میں قرآن مجید ناظرہ پڑھا اور کئی سورتیں حفظ کر لیں۔ اپنے لڑکپن کے اس دور کے بارے میں حفیظ کہتے ہیں کہ وہ دور آشوب ایسا تھا کہ نہ صرف ہندوستان بلکہ ہندوستان سے باہر بھی مسلمان مصائب و آلام کا شکار تھے ۔ ہر طرف سے جو بھی خبر کانوں میں پڑتی وہ سامراجی طاقتوں کی چیرہ دستیوں اور اہل اسلام کی شکستہ پائی کی ہوتی۔ حفیظ بتاتے ہیں کہ ان کے بزرگ ان حالات پر افسوس کرتے اور آہیں بھرتے تھے لہذا ہم بچوں پر اس کا اثر پڑنا فطری تھا ۔ اس کے علاوہ جالندھرمیں میلاد شریف اور قوالیاں ہوتی تھیں۔ بزرگ تو حصول ثواب کے لیے محفلیں منعقد کرتے اور ہم بچے شیرینی وصول کرنے، اودھم مچانے اور ڈانٹ سننے کے لیے موجود ہوتے۔ عربی فارسی اور پنجابی کے ساتھ اردو میں نعت خوانی شروع ہو گئی تھی ایسے میں شاعری کی طرف رجحان ہونا ایک فطری امر تھا ۔ شعر گوئی کے آغاز کو حفیظ اپنی زندگی کا ناقابل فراموش واقعہ قرار دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ
' میں تیسری جماعت میں تھا اوربیٹھا ہوا خوشخطی کی مشق کر رہا تھا۔ ان دنوں ہم تختی پر لکھا کرتے تھے۔ میں نے خوش خطی کرتے کرتے نعت کے شعر لکھنے شروع کر دیئے اور جب تختی بھر گئی تو میں نے کاپی کے خالی صفحات پر بھی شعر لکھنے شروع کردیئے وہ شعر کچھ یوں تھے۔
محمد کی کشتی میں ہوں گا سوار
تو لگ جائے گا میرا بیڑا بھی پار
محمد حفیظ نے بنائی غزل
ہے اس وقت اس پر خدا کا فضل
اس طرح تقریباً 150 شعر ہو گئے وفور شوق کا عالم یہ تھا کہ میں خوشی سے ناچتا پھر رہا تھا اور خود کو شاباشیاں دے رہا تھا۔ '۔
یہ وہ دور تھا جب چاروں طرف ادباء و شعراء اور علماء و فضلاء کا چرچا تھا ۔ جالندھر سخن فہم اور سخن شناس شہر تھا لہذا حفیظ کو ان احباب کی خوب رفاقت ملی اس زمانے میں جالندھر کمشنری کہلاتا تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے اختتام کی بات ہے کہ شعراء کا ایک بڑا مقابلہ ہوا جس میں حفیظ نے بھی حصہ لیا اوردونوں تمغے اپنے نام کیے۔ اس وقت ان کی عمر 17 سال تھی۔ دن بہ دن شہرت بڑھتی گئی اور حفیظ امرتسر، لدھیانہ ، کپور تھلہ، سلطان پوروغیرہ کے مشاعروں میں شرکت کرنے لگے۔ اقبال کی موجودگی نے غزلوں سے آگے بڑھ کر سنجیدہ شاعری اور نظموں کی طرف راغب کیا۔
مولانا غلام قادر نے جن کے سامنے حفیظ نے زانوئے تلمذ تہہ کیا تھا حفیظ کو شاعری میں خون جگر صرف کرنے کا مشورہ دیا اور حفیظ نے واقعی ایسا کر ڈالا۔ نامور فارسی شاعر مولانا غلام قادربلگرامی سے اصلاح لیتے رہے اور اپنی محنت و ریاضت سے نامور شعراء کی فہرست میں جگہ بنا لی ۔اقبال، حالی، حسرت، جوش جیسے شعراء کی دھوم تھی اس کے باوجود حفیظ جالندھری نے اپنی ایک منفرد شناخت بنائی کہ غزل ، نظم ، گیت ، سلام وغیرہ سب کچھ لکھا لیکن ان کا سب سے بڑا کارنامہ 'شاہنامہ اسلام ہے ' جو چار جلدوں میں شائع ہوا ۔ اس طویل نظم کے ذریعے انہوں نے اسلامی روایات اور قومی شکوہ کا احیاء کیا جس پر انہیں 'فردوسی اسلام ' کا خطاب دیا گیا۔
'مقدمہ شعر وشاعری' میں حالی نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا تھا کہ اردو میں کوئی بلند پایہ مثنوی موجود نہیں ہے ۔شاہنامہ اسلام کی اشاعت سے یہ اعتراض کسی حد تک دور ہوگیا۔ تاریخی واقعات کو نظمیہ پیرائے میں ڈھالنا کافی دشوار ہوتا ہے خاص طور پر ایسے واقعات جن کا مذہب سے تعلق ہواور جن سے کسی قوم کے جذبات وابستہ ہوں۔ شاہنامہ اسلام میں حفیظ نے بے کم وکاست واقعات بیان کیے ہیں لیکن طرز نگارش ایسا ہے کہ دلکشی میں کمی نہیں ہے،نہ خشکی ہے نہ روکھا پھیکا پن ہے بلکہ ایسے بے شمار مقامات موجود ہیں جن سے قاری کے جوش ایمانی کو تحریک ملتی ہے اور دل میں ولولہ پیدا ہوتا ہے۔
حفیظ خود بھی مترنم تھے اور یہی وصف ان کی شاعری میں بھی ملتا ہے حفیظ کا یہ ماننا تھا کہ اردو میں سب سے پہلے گیت انہوں نے ہی لکھے ہیں۔ان کے گیتوں میں ترنم اور غنائیت کی کوئی کمی نہیں ، انہوں نے ایسی لفظیات کا انتخاب کیا جو غنائیت کی کسوٹی پر پورے اترتے ہیں ان کا گیت 'ابھی تو میں جوان ہوں'ایک پراثر گیت ہےکیوں کہ اس میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان میں سے ہر لفظ نگینے کی طرح اپنی جگہ مرصع ہے چند اشعار ملاحظہ ہوں ۔
ہوا بھی خوشگوار ہے
گلوں پہ بھی نکھار ہے
ترنم ہزار ہے
بہار پر بہار ہے
کہاں چلا ہے ساقیا
ادھر تو لوٹ ادھر تو آ
ارے یہ دیکھتا ہے کیا
اٹھا سبو سبو اٹھا
ان کے زمانے میں بسنت کا تہوار بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا تھا پتنگیں اُ ڑائی جاتیں۔ حفیظ بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ پتنگ اُڑاتے ہوئے وہ چھت سے گر پڑے تھے۔ انہوں نے اپنی نظم 'بسنتی ترانہ' میں انسانی جذبات کے مختلف پہلوؤں کو بڑی خوب صورتی کے ساتھ یکجا کیا ہے چند اشعار ملا حظہ ہوں
لڑکوں کی جنگ دیکھو
ڈور اور پتنگ دیکھو
کوئی مار کھائے
کوئی کھلکھلائے
کوئی منہ چڑھائے
طفلی کے رنگ دیکھو
ڈور اور پتنگ دیکھو
لڑکوں کی جنگ دیکھو
لو پھر بسنت آئی
پھولوں پہ رنگ لائی
حفیظ نے وطن کی محبت کے ترانے بھی گائے ہیں ان کے لیے وطن کی محبت ہوا کی مانند ہے ، باد صبا باد نسیم ہے جس باغ میں چلتی ہے وہاں سبزہ لہلہاتا ہے کلیاں مسکراتی ہیں، غنچے کھلتے ہیں اور بلبلیں ترانے گاتی ہیں ۔ 'ان کی نظم اپنے وطن میں سب کچھ ہے پیارے' بے انتہا مقبول ہوئی۔ 1937 میں جب حفیظ لندن گئے تو 'نیرنگ فرنگ' کے ساتھ اس نظم کو سنانے کی فرمائش کی گئی اس کے علاوہ جب جارج برنارڈ شا سے ملاقات ہوئی تو انہیں حفیظ کا کلام ترجمہ کر کے سنایا گیا ۔ وہاں قیام کے دوران انگریزخواتین حفیظ سے ان گیتوں کو سکھانے کی فرمائش کرتیں ایک صاحبہ تو اس حد تک ملتفت ہوئیں کہ انہوں نے حفیظ سے شادی بھی کرلی اور ان سے حفیظ کی ایک بیٹی بھی ہے۔ اس نظم کے چند اشعار ملاحظہ ہوں
وطن نام ہے جس کا ہندوستان
وطن جس کی تعریف جنت نشاں
کہیں پربتوں کی ہیں اونچائیاں
کہیں ساگروں کی ہیں گہرائیاں
اُدھر بن کی خاموش تنہائیاں
ادھر من کی موج اور شہنائیاں
دکھاتا ہے کیسا نظارہ وطن
ہمارا وطن پیارا پیارا وطن
حفیظ نے بڑی تعداد میں غزلیں لکھی ہیں وہ خود کو غزل کا شاعر کہلوانا پسند کرتے تھے۔انہوں نے غزلوں میں نئے تجربات کیے، سلیس زبان کا استعمال کیااور عصری و سماجی موضوعات کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔
دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے
تم نے ہمیں بھلا دیا ہم نہ تمہیں بھلا سکے
ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو جائے َ
ان کی غزلوں میں قنوطیت اور حزن وملال بھی ملتا ہے لیکن یہ غم ان کا اپنا نہیں پرایا ہے ۔
کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہے
اب عشق کیا تو صبر بھی کر اس میں تو یہی کچھ ہوتا ہے
او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جا
اب میں دل کو کیا سمجھاؤں مجھ کو بھی سمجھاتا جا
نغمہ زار ، تلخابہ شیریں ، سوز وساز ، ہندوستان ہمارا ، پھول مالی وغیرہ حفیظ جالندھری کے گیتوں غزلوں اور نظموں کے مجموعے ہیں۔ انہون نے بچوں کے لیے بہت ساری نظمیں لکھیں جن میں ' چیونٹی نامہ' اور' بچوں کی نظمیں' مشہور ہیں ۔ 'شاہنامہ اسلام' کے علاوہ نثر میں ' ہفت پیکر' کے عنوان سے ایک افسانوی مجموعہ بھی ہے۔حفیظ علامہ اقبال سے بہت متاثر تھے۔ 'حفیظ کا اقبال ' میں علامہ اقبال سے اپنی بے تکلفی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں
' ایک روز علامہ اقبال نے علی بخش کو جالندھر بھیج کرانہیں طلب کیا اور کہا حفیظ ! تم میرا مرثیہ لکھنا ۔ حفیظ کہتے ہیں کہ اقبال نے ان سے شاہنامہ اسلام سے ولادت رسول کے اشعار سنانے کی درخواست کی '
حفیظ اپنے فن کی طرح ہمہ رنگ اور ہمہ جہت شخصیت تھے۔ ادبی جرائد نونہال ، ہزار داستان ، تہذیب نسواں اور مخزن کے ایڈیٹررہے۔ سانگ پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائرکٹر، مسلح افواج کے ڈائرکٹر جنرل آف مورالس اوررائٹرز گلڈ آف پاکستان کے ڈائرکٹر بھی رہے ۔ 21 دسمبر 1982 کولاہور میں 82 سال کی عمر میں وفات پائی۔ اقبال سے والہانہ عقیدت کی بنا پران کے پہلو میں دفن ہونے کی وصیت کی تھی جو پوری نہ ہوسکی ۔ ان کی رحلت کو زمانہ ہوا لیکن ان کا ترانہ صبح و شام لوگوں کو ان کی یاد دلاتا رہے گا۔
یو این آئی ۔ ایس وائی ۔

خاص خبریں
ہندوستان  نے کابل میں اسپتال پر پاکستان کے حملے کی شدید مذمت کی، اسے غیر انسانی فعل قرار دیا

ہندوستان نے کابل میں اسپتال پر پاکستان کے حملے کی شدید مذمت کی، اسے غیر انسانی فعل قرار دیا

نئی دہلی، 17 مارچ (یواین آئی) ہندوستان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک اسپتال پر پاکستان کے حملے کو بزدلانہ اور غیر انسانی فعل قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان پیر کی رات کابل میں واقع منشیات کے عادی افراد کی اصلاح کے اسپتال‘ پر پاکستان کے وحشیانہ فضائی حملے کی سخت مذمت کرتا ہے۔

...مزید دیکھیں
ریلوے عام آدمی کے آرام دہ سفر پر بھی خاطر خواہ توجہ دے: اپوزیشن

ریلوے عام آدمی کے آرام دہ سفر پر بھی خاطر خواہ توجہ دے: اپوزیشن

نئی دہلی، 17 مارچ (یو این آئی) لوک سبھا میں اپوزیشن نے عام آدمی کے لئے زیادہ ٹرینیں چلانے اور انہیں سفر کے دوران مناسب سہولیات فراہم کرانے کا مطالبہ کیا ہے سال 2026-27 کے لیے ریلوے کے گرانٹ کے مطالبات پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے، ترنمول کانگریس کی شتابدی رائے نے منگل کو کہا کہ مزدوروں اور عام لوگوں کے لیے ٹرینیں چلائی جانی چاہیے اور اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ انہیں سفر کے دوران کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

...مزید دیکھیں
شوالک کے بعد ایل پی جی جہاز 'نندا دیوی' 46,500 میٹرک ٹن کارگو کے ساتھ گجرات پہنچ گیا

شوالک کے بعد ایل پی جی جہاز 'نندا دیوی' 46,500 میٹرک ٹن کارگو کے ساتھ گجرات پہنچ گیا


نئی دہلی، 17 مارچ (پروندرسندھو, یو این آئی) آبنائے ہرمز سے پہلے ایل پی جی بردار بحری جہاز ’شوالک‘ کے مندرا پہنچنے کے ایک دن بعد، منگل کوہندوستان کی ایندھن کی سپلائی میں مزید بہتری آئی ایل پی جی جہاز 'نندا دیوی'، جو 46,500 میٹرک ٹن مائع پیٹرولیم گیس سے لداہے  گجرات کے جام نگر میں وڈینار بندرگاہ پر لنگر انداز ہو گیا، جس سے جاری سپلائی کے بحران میں راحت ملے گی۔

...مزید دیکھیں
نیتن یاہو ایران اور خلیجی ممالک میں تصادم چاہتا ہے: سابق قطری وزیراعظم

نیتن یاہو ایران اور خلیجی ممالک میں تصادم چاہتا ہے: سابق قطری وزیراعظم

دوحہ، 17 مارچ (یو این آئی) سابق قطری وزیراعظم حمد بن جاسم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایران اور خلیجی ممالک میں تصادم پیدا کرنا چاہتا ہے اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملے اور جواباً ایران کے خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر سابق قطری وزیراعظم حمد بن جاسم کا بڑا بیان سامنے آیا ہے سابق قطری وزیراعظم حمد بن جاسم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے خطے کو جنگ میں دھکیل دیا ہے۔

...مزید دیکھیں
کام روکنا اور رکاوٹیں ڈالنا سابقہ حکومتوں کا کلچر تھا:ریکھا گپتا

کام روکنا اور رکاوٹیں ڈالنا سابقہ حکومتوں کا کلچر تھا:ریکھا گپتا

نئی دہلی، 17 مارچ (یو این آئی) سابقہ حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے، دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے منگل کو الزام لگایا کہ ان کا ورک کلچر کاموں کو روکنے رکاوٹیں پیدا کرنے اور تاخیر کرنے پر مبنی تھا، جبکہ موجودہ حکومت بروقت فیصلے کرتی ہے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد کرتی ہے وزیر اعلیٰ گپتا نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بتایا کہ دہلی کابینہ نے ’بارہ پلہ فیز-III‘ اور ’ایم بی روڈ ایلیویٹڈ کوریڈور-انڈر پاس‘ منصوبوں کو منظوری دے دی ہے، جس سے میور وہار سے ایمس تک سگنل فری رابطے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

...مزید دیکھیں
رمضان نظم و ضبط اور خدمت کا مہینہ، مسلمانوں کے ایجنڈے میں تعلیم کو اولین مقام ملنا چاہیے: امین پٹیل

رمضان نظم و ضبط اور خدمت کا مہینہ، مسلمانوں کے ایجنڈے میں تعلیم کو اولین مقام ملنا چاہیے: امین پٹیل

ممبئی، 17 مارچ) یواین آئی) جنوبی ممبئی کی سیاست میں نمایاں مقام رکھنے والے رکنِ اسمبلی امین پٹیل نے کہا ہے کہ رمضان المبارک صرف عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ نظم و ضبط، خود احتسابی اور خدمتِ خلق کا عملی درس دیتا ہے اور مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس پیغام کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کے ایجنڈے میں تعلیم کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔

...مزید دیکھیں
نیتا ایم امبانی  کلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے باوقار انسان دوست ایوارڈ سے سرفراز

نیتا ایم امبانی کلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے باوقار انسان دوست ایوارڈ سے سرفراز

بھوونیشور ( اڈیشہ) 17 مارچ (یو این آئی) ریلائنس فاونڈیشن کی چیئرپرسن محترمہ نیتا ایم امبانی کو بھونیشور، اڈیشہ میں کلنگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کی طرف سے باوقار انسان دوستی ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا انہیں یہ اعزاز سری لنکا سے نوبل انعام یافتہ پروفیسر موہن مناسنگھے اور کلینگا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز( KISS)، کے آئی آئی ٹی اور کے آئی ایم ایس کے بانی ڈاکٹر اچیوتا سمانتا نے ان کے شاندار انسانی اقدامات اور سماجی ترقی میں خاص طور پر تعلیم، کھیلوں، صحت کی دیکھ بھال، دیہی تبدیلی اور خواتین کی ثقافت، خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے نمایاں خدمات کے اعتراف میں پیش کیا۔

...مزید دیکھیں

بھارت ٹیکسی پلیٹ فارم کا مالیاتی اور آپریشنل فریم ورک تعاون کے اصولوں پر مبنی:امت شاہ

17 Mar 2026 | 8:49 PM

نئی دہلی، 18 مارچ (یو این آئی) حکومت ہند کے ’سہکار سے سمردھی‘ کے وژن کے مطابق تعاون کی وزارت نے کوآپریٹو سیکٹر کو مضبوط بنانے اور جامع، شہری-مرکوزی نقل و حرکت کے حل کو فروغ دینے کے لیے کوششیں کی ہیں۔ ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ، 2002 کے تحت رجسٹرڈ، بھارت ٹیکسی کو کوآپریٹیو کے شعبے میں کام کرنے والے 8 قومی سطح کے اداروں کے ذریعے 6 جون 2025 کو قائم کیا گیا تھا۔ مرکزی وزیر داخلہ اور وزیر تعاون امت شاہ نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے یہ معلومات فراہم کیں۔اس کی خصوصیت یہ ہے کہ پلیٹ فارم کو ایک ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹی کے طور پر تشکیل دیا گیا ہے جس میں ڈرائیور اور گاڑی کے مالکان م.

ویمنز ایشین کپ: آسٹریلیا چین کو ہرا کر فائنل میں پہنچ گیا

17 Mar 2026 | 7:31 PM

پرتھ،17 مارچ (یواین آئی )آسٹریلیا کی کپتان سیم کیر کے شاندار دوسرے ہاف گول کی بدولت میزبان ٹیم نے چین کو 2-1 سے شکست دے کر ویمنز ایشین کپ 2026 کے فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ یہ آسٹریلیا کا چوتھا ایشین کپ فائنل ہوگا، جہاں ان کا مقابلہ بدھ کو سڈنی میں ہونے والے دوسرے سیمی فائنل (جاپان بمقابلہ جنوبی کوریا) کے فاتح سے ہوگا۔پرتھ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس سیمی فائنل میں ہوم کراؤڈ کا جوش و خروش عروج پر تھا۔ آسٹریلیا کی جانب سے کیٹلن فورڈ نے میچ کے آغاز میں ہی گول کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلا دی۔ دفاعی چیمپئن چین نے 26ویں منٹ میں ژانگ لینیان کی پنالٹی کک کے ذریعے میچ کو 1-1 سے برابر کر دیا۔.

دہرادون میں جسم فروشی کے اڈے کا پردہ فاش، خاتون سمیت تین گرفتار

17 Mar 2026 | 9:07 PM

دہرادون، 17 مارچ (یو این آئی): اتراکھنڈ کے دارالحکومت دہرادون کے تھانہ کینٹ علاقے میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے ایک گھر میں چل رہے جسم فروشی کے اڈے کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران ایک خاتون سمیت تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ تین خواتین کو ان کے قبضے سے آزاد کرایا گیا ہے۔.