NationalPosted at: Jun 16 2026 4:14PM چین کی سبسڈی برتری ہندوستان میں حکمتِ عملی پر مبنی پالیسی کی ازسرِ نو تشکیل کا تقاضا کرتی ہے

(یو این آئی اسپیشل)ابھجیت مکھوپادھیائے
نئی دہلی، 16 جون (یو این آئی) اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کی جون 2026 کی میجک ڈیٹا بیس رپورٹ ایک ایسی حقیقت کو اجاگر کرتی ہے جس پر اکثر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی، صنعتی سبسڈیز اب عالمی مسابقت کا ایک مستقل اور ساختیاتی حصہ بن چکی ہیں، کوئی استثنا نہیں جب یہ سبسڈیز بڑی، مسلسل اور مخصوص شعبوں کو ہدف بنا کر دی جائیں تو یہ منڈیوں میں نمایاں بگاڑ پیدا کر سکتی ہیں، رپورٹ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2005 سے 2024 کے دوران ہندوستانی کمپنیوں کو اپنی چینی ہم منصب کمپنیوں کے مقابلے میں حکومت کی جانب سے کہیں کم مالی معاونت حاصل ہوئی۔
او ای سی ڈی کی صنعتی سبسڈی رپورٹ کے مطابق سبسڈیز کسی ملک کے پالیسی اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، جیسا کہ چین کے معاملے میں دیکھا جا سکتا ہے، لیکن ان کی نوعیت اور ہدف بندی کے لحاظ سے یہ تجارت اور مسابقت کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
ہندوستان کے لیے بنیادی سوال یہ نہیں کہ چین کے سبسڈی ماڈل کو بیرونی دباؤ سے کیسے بدلا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ہندوستان اپنی کمپنیوں کا تحفظ، پالیسی سازی کی آزادی اور مسابقتی صلاحیت کو کس طرح مضبوط بنا سکتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ محض دفاعی یا جوابی اقدامات تک محدود ہو جائے۔
اس کا مناسب جواب تجارتی حفاظتی اقدامات، مقامی صلاحیت سازی، بہتر صنعتی پالیسی اور مضبوط بین الاقوامی اتحادوں کا امتزاج ہو سکتا ہے۔ او ای سی ڈی کا میجک ڈیٹا بیس اسی لیے اہم ہے کہ یہ حکومتوں کو پالیسی سازی کے لیے مضبوط شواہد فراہم کرتا ہے۔
ہندوستان کے لیے سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ چینی کمپنیوں کے ساتھ مقابلہ ہمیشہ برابر مواقع رکھنے والی کمپنیوں کے درمیان نہیں ہوتا۔ اگر غیر ملکی حریف زیادہ سرکاری گرانٹس، ٹیکس رعایتیں یا مارکیٹ ریٹ سے کم شرح پر مالی معاونت حاصل کرتے ہیں تو ہندوستانی کمپنیوں کے لیے صرف نجی کوششوں کے ذریعے ان کے اخراجاتی ڈھانچے کا مقابلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اس کا نتیجہ درآمدات کی قیمتوں کے دباؤ، مقامی صنعتوں کے منافع میں کمی اور اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے کمزور ہوتے رجحان کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہندوستان کو ہر غیر ملکی سبسڈی کی نقل کرنی چاہیے، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستانی پالیسی سازی ایسی نہ ہو جو مقامی صنعتوں کو عالمی منڈی میں غیر منصفانہ عدم توازن کے سامنے بے بس چھوڑ دے۔
اسی لیے مستقبل کی صنعتی حکمتِ عملی کا مرکز سبسڈی کی مقدار سے زیادہ مضبوطی، پیمانے اور پیداواری صلاحیت ہونی چاہیے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا