InternationalPosted at: Dec 14 2025 9:01PM سڈنی کے بونڈی بیچ فائرنگ واقعے پر آسٹریلیائی وزیر اعظم کا اظہار افسوس ، حملے میں 12 افراد ہلاک

سڈنی، 15 دسمبر (یو این آئی) آسٹریلیا کے مشہور ساحل بونڈی بیچ پر اتوار کی شام فائرنگ کے ایک المناک واقعے میں ایک حملہ آور سمیت 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ دوسرا مشتبہ شخص پولیس کی حراست میں ہے۔آسٹریلیائی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے سڈنی کے مشہور ساحل بونڈی بیچ پر فائرنگ کے واقعے کو انتہائی چونکا دینے والا اور تکلیف دہ قرار دیا، جبکہ نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا اور شہریوں سے علاقے میں جانے سے گریز کی اپیل کی۔
مسٹر البانیز نے حملے کے بعد ایک خطاب میں کہا، "یہ حملہ یہودی آسٹریلیائی لوگوں کو نشانہ بنا کر کیا گیا ہے۔ یہ ان کے خوشی کے دن، ان کے ایمان کی تقریب پر حملہ ہے۔"
جب بونڈی بیچ پر فائرنگ ہوئی تو وہاں موجود کچھ لوگ باریکڈ توڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوئے، جبکہ کچھ نے قریب ہی ایک ریستوران میں پناہ لی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص نے فائرنگ کر رہے حملہ آور کو پیچھے سے قابو پایا اور اس کے ہاتھ سے ہتھیار چھین لیا۔ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ہتھیار چھیننے والے شخص کا نام احمد ال احمد ہے۔ یہ 43 سالہ شخص سڈنی کے سدرلینڈ شہر کا رہائشی ہے۔
انہوں نے کہا، "یہودی لوگوں پر حملہ ہر آسٹریلیائی پر حملہ ہے، اور آج رات ہر آسٹریلیائی شہری میری طرح، ہماری طرز زندگی پر ہونے والے اس حملے سے دکھی ہوگا۔ ہمارے ملک میں اس نفرت، تشدد اور دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم اسے ختم کریں گے۔ اس تشدد اور نفرت کے اس برے کام کے بیچ قومی اتحاد کا لمحہ ابھرے گا۔"
مسٹر البانیز نے کہا کہ سیکیورٹی ایجنسیاں جلد ہی حملے کی مزید معلومات فراہم کریں گی۔ انہوں نے کہا، "ہماری سیکیورٹی ایجنسیاں آپ کو جلد از جلد درست معلومات فراہم کریں گی۔ یہ یہودی مخالف جذبات اور دہشت گردی کا عمل تھا، جس نے ہمارے ملک کے دل پر حملہ کیا ہے۔ آج بونڈی بیچ پر جو کچھ ہوا، وہ سمجھ سے باہر ہے۔"
وزیر اعظم البانیز نے کہا کہ ہنگامی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور زخمیوں کی جان بچانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔ نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، اور آپریشن ابھی جاری ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں مبینہ حملہ آوروں کو دیوار کے پیچھے چھپ کر ساحل کی جانب فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان میں سے ایک حملہ آور کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ پولیس اور امدادی اہلکار علاقے میں حفاظتی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں اور شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ممکنہ خطرے کے پیش نظر ساحل کے قریب نہ جائیں۔
نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے مطابق یہ واقعہ "چانوکا بائی دی سی" نامی تقریب کے دوران پیش آیا، جو یہودی تہوار ہنوکا کی پہلی رات کے موقع پر منائی جا رہی تھی۔ تقریب میں تقریباً 2,000 افراد شریک تھے، جنہوں نے فائرنگ کے بعد بھاگ کر محفوظ مقامات پر پناہ لی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ تقریباً 20 منٹ تک جاری رہی، جس دوران حملہ آور مسلسل میگزین بدلتے رہے اور فائرنگ کرتے رہے۔ جائے وقوعہ سے ایک مشتبہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) بھی برآمد ہوا، جسے بم ڈسپوزل اسکواڈ ناکارہ بنا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک مبینہ حملہ آور بھی شامل ہے، جبکہ زخمیوں میں 12 افراد شامل ہیں جن میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں اور عوام سے احتیاط برتنے کی اپیل کی گئی ہے۔
ایک ویڈیو میں سیاہ شرٹ میں ملبوس مبینہ حملہ آور کو بندوق سے فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، جسے سفید ٹی شرٹ پہنے ایک شخص نے قابو میں لے کر اسلحہ چھین لیا۔
یہ واقعہ سڈنی کے لنڈٹ کیفے میں ایک مسلح شخص کی جانب سے 18 افراد کو یرغمال بنانے کے واقعے کے تقریباً 11 سال بعد پیش آیا، جس کا اختتام تین ہلاکتوں پر ہوا تھا۔
واقعے کے بعد اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کی دعائیں متاثرہ یہودی کمیونٹی کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہ ہم بار بار آسٹریلوی حکومت سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ یہود مخالف لہر کے خلاف فوری اقدامات کرے، جو آسٹریلوی معاشرے کو شدید متاثر کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں یہودی ہر سال 7 سے 15 دسمبر تک تہوار ’ہنوکا‘ مناتے ہیں۔ اسے روشنیوں کا تہوار بھی کہا جاتا ہے اور اس دن یہودی روایتی آٹھ شاخوں والے شمع دان بھی روشن کرتے ہیں۔
یہ تہوار 165 قبلِ مسیح میں یہود باغی فوج کی فتح کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس روز خصوصی عبادات کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ روایتی پکوان بھی بنائے جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے آسٹریلیا میں یہودی عبادت گاہوں، عمارتوں اور گاڑیوں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔ بونڈی بیچ، جو سیاحوں اور مقامی افراد میں بے حد مقبول ہے، عام طور پر ہفتہ وار تعطیلات میں لوگوں سے بھرا رہتا ہے۔
یواین آئی۔ م س