OthersPosted at: Jul 11 2025 10:43PM آپریشن سندور: اجیت ڈوبھال نے بین الاقوامی میڈیا کے دعوؤں کو مسترد کردیا

چنئی، 11 جولائی (یو این آئی) قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے آج بین الاقوامی میڈیا، خاص طور پر دی نیویارک ٹائمز کے آپریشن سندورکے بارے میں کیے گئے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں چیلنج کیا کہ وہ کم از کم ایک ہی تصویر ایسی پیش کردیں کہ جس سے یہ بات ثابت ہوسکے کہ پاکستان کے ساتھ تنازع میں ہندوستان کو نقصان ہوا ہے مسٹر ڈوبھال نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی- مدراس میں منعقدہ 62 ویں تقسیم اسناد کی تقریب سے خطاب میں مغربی میڈیا کے بیانیے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ’’غیر ملکی میڈیا نے لکھا ہے کہ پاکستان نے یہ کیا،وہ کیا۔ آپ مجھے ہندوستان کو ہوئے نقصان کی ایک بھی ایسی تصویر یا فوٹو دکھادیں، جس میں ایک شیشہ بھی ٹوٹا ہو۔‘‘
انھوں نے کہا، ’’کیا وہ 10 مئی سے پہلے اور بعد میں پاکستان کے 13 ایئر بیسز کی تصاویر لے جائیں گے، چاہے وہ سرگودھا ہو، رحیم یار خان ہو یا راولپنڈی کا چکلالہ ۔ ان دنوں یہ تصویریں پوری دنیا کی سیٹلائٹس سے لی جاتی ہیں۔ کیا کسی تصویر میں ہندوستان کی طرف کوئی نقصان نظر آیا ہے؟ ہم نے ان کے 13 ایئر بیسوں پر حملہ کیا، جن میں بھولاری کا ایئر بیس بھی شامل ہے،جہاں اُن کا’اواکس‘کنٹرول سنٹر ہے۔‘‘ انھوں نے کہا ’’ہم نے ان کے 13 اہم ایئربیسزکے علاوہ کسی اور پر حملہ نہیں کیا۔یہ بالکل درست اور اچوک تھا۔‘‘
آپریشن سندور کو انتہائی درست اور مختصر دورانیے کی کارروائی قرار دیتے ہوئے مسٹر ڈوبھال نے کہا کہ یہ گزشتہ 40 سالوں میں بے مثال آپریشن ہے۔ انہوں نے کہا، ’’پورا آپریشن صبح 1:05 پر شروع ہوا اور صرف 23 منٹ میں 1:28 پر ختم ہوا۔ ہم یہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘
انھوں نے کہا،’’ہم نے پاکستان میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں کی شناخت کی، جو ملک کے اندر تھے اور ان پر بڑی درستگی کے ساتھ حملہ کیا گیا اور دیگر مقامات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا‘‘۔
آپریشن سندور کی اثراندازی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے پاس اس بارے میں مکمل معلومات تھیں کہ کون کہاں ہے اور حملہ صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں پرہی کیا گیا، یہ بہت منصوبہ بند آپریشن تھا اور اس کی اصل کہانی سیٹلائٹ سے لی گئی تصویریں بیان کرتی ہیں‘‘۔
مسٹر ڈوبھال کے مطابق، آپریشن سندور اندرون ملک تیار کردہ فوجی ہارڈویئر اور ہتھیاروں کی تعیناتی میں ایک اہم آپریشن ثابت ہوا۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کے میدان میں خود انحصاری کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ملک اپنے مواصلاتی نظام کو مکمل طور پر مقامی بنائے گا کیونکہ یہ قومی سلامتی اور ڈیٹا کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کو ایک انقلابی اقدام قرار دیا اور غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار ترک کی ضرورت پر زور دیا۔
انھوں نے کہا، ’’چین نے 300 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے 5G تیار کرنے میں 12 سال لگادئیے۔ اگرچہ ہمارے پاس وقت یا پیسہ نہیں ہے، لیکن ہم نے صرف ڈھائی سال میں ایک مقامی متبادل تیار کرلیا ہے اور اس کے لیے ہم اپنے نجی شعبے کے بے حد شکرگزار ہیں۔‘‘
انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے بہت دکھ جھیلے ہیں، ہمارے آباؤ اجداد نے دکھ جھیلے ہیں، آپ کا تعلق ایک تہذیب، ایک ایسے ملک سے ہے، جس نے ہزاروں سالوں میں کئی بار خونریزی اور تذلیل برداشت کی ہے، ہمارے آباؤ اجداد نے تہذیب اور قوم کے نظریے کو بچانے کے لیے ذلت و تکالیف برداشت کی ہیں۔
یو این آئی- ک ح۔ایف اے