InternationalPosted at: Jan 21 2026 10:15AM ’میں ایسا نہیں کروں گا‘: ٹرمپ نے میکروں کی ہنگامی جی-7 میٹنگ کی اپیل مسترد کی

واشنگٹن، 21 جنوری (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکروں کی جانب سے ہنگامی جی-7 اجلاس بلانے کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ ردِعمل ایسے وقت میں آیا ہے جب گرین لینڈ کے حصول کے لیے ٹرمپ کی کوششوں پر واشنگٹن اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ یوکرین جنگ پر تبادلۂ خیال کے لیے جی-7 رہنماؤں کے مجوزہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ اس اجلاس کی تجویز میکروں نے دی تھی، تاہم بعد میں فرانسیسی صدر نے وضاحت کی کہ اس ہفتے ایسا کوئی اجلاس طے نہیں ہے۔
اپنی دوسری مدتِ صدارت کا پہلا سال مکمل ہونے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر ٹرمپ نے اپنے فیصلے کی وضاحت کے دوران میکروں کے سیاسی مستقبل پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ “نہیں، میں ایسا نہیں کروں گا… کیونکہ ایمانوئیل زیادہ عرصے تک وہاں نہیں رہیں گے اور اس میں کوئی دوام نہیں ہے۔”
یہ بیان اس کے بعد سامنے آیا جب ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر میکرون کے ایک نجی پیغام کا اسکرین شاٹ شیئر کیا، جس میں فرانسیسی صدر نے انہیں عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) کے بعد جی-7 اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔
اس پیغام میں میکروں نے کہا کہ فرانس اور امریکہ شام کے معاملے پر ہم خیال ہیں اور ایران کے معاملے میں “بڑے کام” کر سکتے ہیں، لیکن انہوں نے گرین لینڈ پر ٹرمپ کے مؤقف پر حیرت کا اظہار کیا۔
مسٹر میکروں نے لکھا کہ “میرے دوست، ہم شام پر پوری طرح متفق ہیں۔ ہم ایران کے بارے میں بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ میں یہ نہیں سمجھ پا رہا کہ آپ گرین لینڈ کے معاملے میں کیا کر رہے ہیں۔”
انہوں نے داؤس کے بعد پیرس میں جی-7 اجلاس اور امریکہ واپسی سے قبل ٹرمپ کے ساتھ نجی عشائیے کی بھی تجویز دی تھی۔
وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران جب ٹرمپ سے اس پیغام اور پیرس میں مجوزہ ہنگامی جی-7 اجلاس کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ “نہیں، میں ایسا نہیں کروں گا۔”
بعد ازاں میکروں نے کہا کہ اس ہفتے کسی جی-7 اجلاس کا کوئی شیڈول طے نہیں ہے۔ انہوں نے داوس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کے بعد کہا کہ “کوئی اجلاس طے نہیں ہے۔ فرانسیسی صدارت اس کے انعقاد کے لیے تیار ہے۔”
عالمی اقتصادی فورم میں میکروں نے امریکہ کی تجارتی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے ٹیرف کی دھمکیاں “کھلے طور پر یورپ کو کمزور اور ماتحت بنانے” کی کوشش ہیں اور انہیں علاقائی خودمختاری کے خلاف دباؤ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
یواین آئی۔ این یو۔