NationalPosted at: Jul 16 2025 8:16PM فلم کی نمائش پر پابندی برقرار:فلم کے خلاف سپریم کورٹ کا تبصرہ ہماری قانونی جدوجہد درست ہونے کی دلیل :مولانا ارشدمدنی

نئی دہلی، 16 جولائی (یو این آئی) فلم اودے پور فائلز نامی متنازعہ ہندی فلم کی ریلیز پر آج سپریم کورٹ کے پیر تک کے لئے اسٹے کوبرقراررکھنے پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے کہا کہ بینچ میں شامل جج صاحبان نے جو تبصرے کئے ہیں وہ بہت اہم ہیں آج یہاں جاری ایک ریلیز کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ تبصرے معاملہ کی حساسیت کو اجاگر کرتے ہیں، اگرچہ ان جج صاحبان نے بذات خودفلم نہیں دیکھی ہے لیکن دہلی ہائی کورٹ نے جو ہدایات دیں اورجس طرح فلم کے پروڈیوسر کو بہت سے قابل اعتراض مناظرکو فلم سے ہٹانے پر مجبورہونا پڑا،اس کے پیش نظرعدالت کو بلاشبہ اس بات کا احساس ہے کہ فلم کو اگر موجودہ شکل میں نمائش کی اجازت دی گئی تو اس سے ملک کے امن وامان کو خطرہ لاحق ہوسکتاہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ عدالت کایہ تبصرہ کہ ’فلم کی ریلیز کی تاخیر میں کوئی نقصان نہ ہوگالیکن اگر فلم کی نمائش سے ملک کا امن وامان خراب ہواتویہ زیادہ نقصان ہوگا‘، ہماری قانونی جدوجہد کو درست ثابت کردیتاہے۔
قبل ازیں مولانا ارشد مدنی کی پیروی کرتے ہو ئے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ انہوں یہ فلم دیکھی ہے اور فلم دیکھنے کے بعد وہ اندرسے دہل گئے تھے کیونکہ فلم میں ایک مخصوص فرقے کے خلاف نفرت آمیز مناظر دکھائے گئے ہیں لہذا عدالت کو اس فلم کو دیکھنا چاہئے۔ کپل سبل نے یہ بھی کہا کہ جو بھی جج یہ فلم دیکھے گا تو اس کی ریلیز کی اجازت ہرگز نہیں دے گا۔کپل سبل نے دو رکنی بینچ سے فلم دیکھنے کی بھی گذارش کی۔جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی نے حیرت کا اظہار کیا کہ سینئر وکیل کپل سبل نے بھی اس فلم کو دیکھا ہے۔ عدالت نے زبانی طور پر کہا کہ مقدمہ کا توازن فی الحال فلم پر اسٹے کی درخواست کرنے والوں کی طرف زیادہ ہے کیونکہ فلم کے سرٹیفیکٹ کی قانونی حیثیت پرنظر ثانی ہونا باقی ہے۔دوران بحث دو رکنی بینچ نے گورو بھاٹیا کی درخواست پر فلم پروڈیوسر اور کنہیا لال کے لڑکے کو سیکوریٹی دینے کے لیئے پولس کمشنر سے رجوع ہونے کا حکم دیا۔آج عدالت نے کنہیالال قتل مقدمہ کا سامنا کررہے محمد جاوید کی بھی عرضداشت پر سماعت کی جس نے فلم کی ریلیز کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے۔
سینئر ایڈوکیٹ مینکا گروسوامی نے عدالت کو بتایا کہ فلم میں نہ صرف ایک مخصوص طبقے کے خلاف نفرت آمیزموادموجودہے بلکہ عدلیہ پر بھی فقرے کسے ہیں اور فلم میں دو ایسے مقدمات کے تعلق سے بھی تبصرہ موجودہیں جو فی الحال عدالت میں زیر سماعت ہیں جن میں گیان واپی مسجد کامقدمہ اور کنہیا لال قتل کامقدمہ شامل ہیں۔انہوں نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ فلم کی ریلیز سے منصفانہ ٹرائل متاثر ہوسکتی ہے۔اس پر فلم ساز کے وکیل گوروبھاٹیانے عدالت سے گزارش کی کہ وہ فلم پروڈیوسر کی درخواست پر جمعہ کے دن سماعت کرے لیکن دو رکنی بینچ نے ان کی درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ فلم کی ریلیز میں ہونے والی تاخیر سے انہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا لیکن اگر فلم کی ریلیز سے ملک کا امن وامان خراب ہوا تو یہ زیادہ نقصان ہوگا۔ انہوں نے گورو بھاٹیا سے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ مرکزی حکومت فلم سے مزیدقابل اعتراض مناظرہٹوادے، جس کے خلاف پروڈیوسر عدالت سے رجو ع ہوسکتے ہیں لہذا پہلے وزارت اطلاعات ونشریات کو فیصلہ کرنے دیا جائے۔
۔ فلم پروڈیوسر کے وکیل کے دلائل سے اتفاق نہ کرتے ہوئے عدالت نے ان سے کہا کہ دہلی ہائی کورٹ کی ہدایت پر مولانا ارشد مدنی نے زارت اطلاعات ونشریات میں سرٹیفکٹ پر نظر ثانی کی درخواست داخل کردی ہے جس پر آج دوپہر ڈھائی بجے سماعت ہوگی لہذا ابھی فلم کی ریلیز پر عائد پابندی کو ہٹانا مناسب نہیں ہوگا۔ دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ صحیح ہے یا غلط اس پر بعد میں فیصلہ کیا جائے گا پہلے وزارت اطلاعات ونشریات کو مولانا ارشد مدنی کی نظر ثانی کی عرض داشت پر فیصلہ صادر کرنے دیا جائے۔
یو این آئی۔ ع ا۔