NationalPosted at: Mar 5 2026 5:38PM ہندوستان-کینیڈا: عدم رابطہ کے خطرات زیادہ، رابطے میں نمایاں مواقع

(یو این آئی تجزیہ) مونیش تورنگبام
نئی دہلی، 5 مارچ (یو این آئی) کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی کا نئی دہلی کا دورہ ایسے وقت میں ہوا جب عالمی نظام ساختیاتی بے چینی سے دوچار ہے جسے انہوں نے ورلڈ اکنامک فورم کے ڈیووس اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران زیادہ واضح انداز میں "عالمی نظام میں دراڑ" قرار دیا تھا ان کا دورۂ ہند، جس کے بعد وہ آسٹریلیا اور جاپان بھی جا رہے ہیں، اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ کینیڈا اپنی عالمی شراکت داریوں کو متنوع بنانا چاہتا ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب اس کے سب سے اہم شراکت دار اور ہمسایہ ملک امریکہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ڈیووس میں کارنی کی تقریر،جسے ٹرمپ کے عالمی نظریے پر براہِ راست تنقید کے طور پر دیکھا گیا،چین کے ساتھ ان کی سفارتی پیش رفت کے فوراً بعد ہوئی، جو بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے درمیان اوٹاوا کی محتاط حکمتِ عملی کی عکاسی کرتی ہے۔ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عملی اور مستحکم شراکت داریوں کی ضرورت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اس پیچیدہ پس منظر میں ہندوستان-کینیڈا تعلقات میں تقریباً 360 ڈگری کا تغیر آیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک یہ تعلقات باہمی الزامات، سفارتی اخراج اور سیاسی اعتماد کے فقدان سے عبارت تھے۔ کینیڈا میں سیاسی قیادت کی تبدیلی اور اہم شراکت داریوں کی فوری بحالی کی جغرافیائی سیاسی ضرورت نے تعلقات کو بحال کرنے کی تدریجی لیکن مستحکم کوششوں کو ممکن بنایا ہے۔
گزشتہ دو برسوں میں جسے "ٹروڈو مسئلہ" کہا جانے لگا تھا، اس نے دوطرفہ روابط پر گہرا سایہ ڈالے رکھا۔ سیاسی بیان بازی اور عوامی سطح پر تنقید نے مشترکہ مفادات پر سنجیدہ مذاکرات کی جگہ لے لی۔ غیر ملکی مداخلت اور سرحد پار دباؤ کے الزامات—جو عوامی سطح پر پیش اور متنازع بنائے گئے—ایسے اختلافات کو نمایاں کرگئے جنہیں باضابطہ سفارتی چینلز کے ذریعے سنبھالا جا سکتا تھا۔
بین الاقوامی تعلقات میں اعتماد ایک ناپ تول سے بالاتر مگر نہایت اہم عنصر ہے، جس کے لیے مسلسل کاوش اور سیاسی عزم درکار ہوتا ہے۔ نئی دہلی اور اوٹاوا کے درمیان اعلیٰ سطح پر اعتماد کے فقدان نے سفارتی واپسی، مکالمے کے تعطل اور تجارتی مذاکرات میں جمود پیدا کیا۔ تاہم سفارت کاری کی تاریخ سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتی۔ اب جب کہ بہندوستان اور کینیڈا بیانات سے عملی اقدامات کی طرف بڑھ رہے ہیں، اختلافات ختم نہیں ہوئے، لیکن انہیں باضابطہ ادارہ جاتی طریقوں سے حل کرنے کی ضرورت کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔
مثال کے طور پر ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال اپنے کینیڈین ہم منصب نیتھالی جی ڈروئن (قومی سلامتی و انٹیلی جنس مشیر) سے باقاعدگی سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد طریقہ کار کو ادارہ جاتی بنانا اور بیان بازی میں کمی لانا ہے۔ وزیرِاعظم کارنی کے دورے کے بعد جاری مشترکہ بیان میں مخصوص سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے رابطہ نظام کے قیام اور معلومات کے تبادلے میں اضافے پر زور دیا گیا ہے۔
توانائی ہندوستان-کینیڈا تعلقات کی بحالی کا مرکزی ستون بن چکی ہے۔ کینیڈا-ہندوستان وزارتی توانائی مکالمے کی بحالی اور مجوزہ ہندوستان-کینیڈا اسٹریٹجک انرجی پارٹنرشپ اس شعبے کو ادارہ جاتی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے، جو جوہری توانائی کو اپنی صاف توانائی حکمتِ عملی کا اہم جزو سمجھتا ہے، یورینیم کی قابلِ اعتماد تجارتی فراہمی ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے۔
کینیڈا—جو ساسکیچیوان میں اعلیٰ معیار کے ذخائر کے ساتھ دنیا کے بڑے یورینیم پیدا کرنے والوں میں شامل ہے—اس مقصد میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ایل این جی، ایل پی جی، خام تیل، ریفائن شدہ پیٹرولیم مصنوعات اور پوٹاش کے حوالے سے جاری بات چیت توانائی کے تحفظ کو اس شراکت داری کی بنیاد بناتی ہے، جو تکمیلی معاشی مفادات پر مبنی ہے۔ اوٹاوا کی جانب سے امریکہ پر برآمداتی انحصار کم کرنے کے اشارے اس شعبے میں پیش رفت کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔
اگرچہ ہندوستان اور کینیڈا دونوں کے لیے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات خارجہ پالیسی میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن ان تعلقات میں غیر یقینی صورتحال نے ہندوستان-کینیڈا روابط کو ایک نئی اسٹریٹجک اہمیت دے دی ہے۔
اہم معدنیات کے لیے عالمی دوڑ اب جغرافیائی سیاست اور معاشی حکمتِ عملی کا مرکز بن چکی ہے۔ اس تناظر میں دونوں ممالک نے اہم معدنیات کے تعاون پر مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں، جو سپلائی چین کو محفوظ اور متنوع بنانے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
تجارت اب بھی محدود ہے۔ ٹو جی 20 معیشتوں کے لیے تقریباً 15 ارب کینیڈین ڈالر کی باہمی تجارت ناکافی ہے۔ 2010 سے زیرِ غور جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے)، جو سیاسی کشیدگی کے باعث بارہا تعطل کا شکار ہوا، اب دوبارہ رفتار پکڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ 2026 کے اختتام تک مذاکرات مکمل کرنے اور 2030 تک تجارت کو 70 ارب کینیڈین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف اہم پیش رفت ہے۔
ہندوستان-کینیڈا تعلقات میں بحالی دفاع اور بحری سلامتی تک بھی پھیل رہی ہے۔ ہندوستان-کینیڈا دفاعی مکالمے کو ادارہ جاتی شکل دینا، علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال اور دفاعی مواد و تربیت میں تعاون ایک منظم اور بامقصد شراکت کی نشاندہی کرتا ہے۔
کینیڈا کی جانب سے ہندوستان میں دفاعی اتاشی کی تقرری اور ہندوستان کی جانب سے واشنگٹن میں اپنے دفاعی اتاشی کو کینیڈا کے لیے بھی نامزد کرنا دیرپا ادارہ جاتی روابط کو مضبوط کرتا ہے۔ بحری سلامتی کے میدان میں بحرِ ہند کے خطے سے متعلق ہندوستان کا وژن اور کینیڈا کی انڈو-پیسفک حکمتِ عملی نئی اہمیت اختیار کر رہے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکہ کی خطے میں مستقل توجہ پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ ہندوستان کی جانب سے کینیڈا کی انڈین اوشن رم ایسوسی ایشن میں بطور ڈائیلاگ پارٹنر شمولیت کی حمایت، اوٹاوا کی انڈو-پیسفک حکمتِ عملی کو عملی جامہ پہنانے کی علامت ہے۔ عوامی روابط اور افرادی نقل و حرکت کو ہموار بنانا بھی اس تعلق کی بنیاد کو مضبوط رکھنے کے لیے ضروری ہوگا۔
یقیناً کچھ مسائل اب بھی باقی ہیں۔ سفارتی تسلسل میں خلل، سیاسی اعتماد کی کمی اور غیر ملکی مداخلت کے سنگین الزامات فوری طور پر ختم نہیں ہوں گے۔ اس شراکت داری کو فعال طور پر سنبھالنا ہوگا، اسے خودکار انداز پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
عالمی اور تجارتی نظام میں بڑی تبدیلیاں—جہاں باہمی انحصار کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، محصولات کو دباؤ کے آلے کے طور پر اپنایا جا رہا ہے اور عسکری طاقت کم پابندیوں کے ساتھ بروئے کار آ رہی ہے—ایسے حالات میں ہندوستان اور کینیڈا جیسے اہم ممالک کے لیے پالیسی جمود کی گنجائش کم رہ گئی ہے۔
اسی لیے دونوں ممالک پر لازم ہے کہ مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیں۔ دونوں وزرائے اعظم کی ملاقاتوں سے پیدا ہونے والی نئی رفتار اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ نئی دہلی اور اوٹاوا دونوں اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ عدم رابطہ کے خطرات زیادہ اور رابطے میں مواقع نمایاں ہیں۔
(مصنف چنتن ریسرچ فاؤنڈیشن، نئی دہلی میں فیلو ہیں۔ یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں)
یو این آئی۔ ع ا۔