featuresPosted at: Jan 23 2026 5:41PM انیتا بوس پف نیتا جی کی آسٹریلیائی اہلیہ کی ان کہی داستان پر کام کر رہی ہیں

از: جنیت رائے چودھری
نئی دہلی، 23 جنوری (یو این آئی) ہندوستان کے عظیم مجاہد آزادی سبھاش چندر بوس کی صاحبزادی، انیتا بوس پف، ایک ایسی کتاب پر کام کر رہی ہیں جس کا مقصد تاریخ کے ایک ایسے باب پر روشنی ڈالنا ہے جسے طویل عرصے سے نظر انداز کیا گیا ہے،اس کتاب کا عارضی عنوان ’سبھاش کی ایملی‘ رکھا گیا ہے۔ یہ کتاب اپنی توجہ خود بوس کے بجائے—جن پر پہلے ہی جلدوں کی جلدیں لکھی جا چکی ہیں—ان کی اہلیہ ایملی شینکل پر مرکوز کرتی ہے۔ ایملی ایک آسٹرین خاتون تھیں جن کی زندگی محبت، جنگ،مشکل حالات اور طویل خاموشی کے گرد گزری۔
انیتا بوس پف نے ’یو این آئی‘ سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران بتایا: ’’میری والدہ پہلی جنگِ عظیم سے قبل پیدا ہوئیں، دوسری جنگِ عظیم کے دوران وہ ایک نوجوان خاتون تھیں اور انہوں نے جنگ کے بعد کے یورپ میں انتہائی مشکل زندگی گزاری، لیکن وہ ہمیشہ ہمت اور استقامت کی علامت بن کر رہیں۔‘‘
ایملی شینکل ویانا کی رہنے والی تھیں اور انہوں نے نیتا جی کے ساتھ بطور سکریٹری کام کیا۔ دونوں نے شادی کی اور ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ اس کے فوراً بعد، دوسری جنگِ عظیم کی شدت کے دوران، نیتا جی ہندوستان کی جدوجہد آزادی کو آگے بڑھانے کے لیے جنوب مشرقی ایشیا روانہ ہو گئے۔
ایک طرف جہاں بوس نے آزاد ہند کی عارضی حکومت تشکیل دی اور برطانوی فوج کے خلاف انڈین نیشنل آرمی (آزاد ہند فوج) کی قیادت کی، وہیں ایملی یورپ میں رہ گئیں۔ انہوں نے دوسری جنگِ عظیم کے ہنگاموں اور اس کے بعد کے تباہ کن حالات میں ایک تنہا اور مشکل زندگی گزاری۔ انہوں نے وسائل کی شدید قلت، بے یقینی اور سیاسی شکوک و شبہات کے سائے میں اپنی بیٹی انیتا کی تنہا پرورش کی۔
یہ کتاب ایملی کی زندگی کا احاطہ کرے گی، جس میں دوسری جنگِ عظیم سے قبل کا دور، جنگ کے دوران ان کی جوانی اور اس کے بعد کے کٹھن سال شامل ہوں گے۔ انیتا بوس پف نے بتایا ’’ ہم بوس خاندان کے افراد سے پہلی بار 1947 میں مل سکے تھے (جب نیتا جی کے بھائی شرت چندر بوس نے ویانا کا سفر کیا تھا)۔‘‘
1910 میں ایک آسٹرین کیتھولک خاندان میں پیدا ہونے والی ایملی کو 1934 میں سبھاش چندر بوس نے اپنی سکریٹری کے طور پر رکھا تھا، جب وہ یورپ میں جبری جلاوطنی کے دوران اپنی کتاب ’دی انڈین اسٹرگل‘ لکھ رہے تھے۔ 1937 میں بوس کے ایک اور دورہ یورپ کے دوران ان کی شادی ہوئی، لیکن وہ ان کے ساتھ مستقل طور پر اسی وقت رہ سکیں جب بوس ہندوستان میں نظر بندی سے فرار ہو کر افغانستان اور روس کے راستے برلن پہنچے۔ ان کی بیٹی انیتا نومبر 1942 میں پیدا ہوئیں، اور 1943 میں بوس آبدوز کے ذریعے تین سمندروں کا پرخطر سفر طے کر کے جنوب مشرقی ایشیا چلے گئے تاکہ آزاد ہند فوج کی کمان سنبھال سکیں۔
جنگ کے بعد کے آسٹریا اور جرمنی میں، ایسے لوگ جن کا ’ایکسس پاورز‘ (محوری قوتوں) سے وابستہ شخصیات کے ساتھ معمولی سا تعلق بھی تھا، انہیں شدید شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ایملی، جو اس دور کے برطانوی مخالف بڑے رہنماؤں میں سے ایک (نیتا جی) سے وابستہ تھیں، اسی خوف اور سائے میں رہیں۔ انیتا بوس پف بتاتی ہیں کہ ان کی والدہ اور ہندوستان میں بوس خاندان کے درمیان رابطے کا نظام انتہائی سست اور ناقابلِ بھروسہ تھا۔ انہوں نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’1946 میں بھیجے گئے خطوط یا تو گم ہو گئے، تاخیر کا شکار ہوئے یا کبھی اپنی منزل تک پہنچ ہی نہ سکے‘، کیونکہ جنگ کے بعد کا یورپ تباہ حال انفراسٹرکچر اور ناقص مواصلاتی نظام سے جوجھ رہا تھا۔
اپنی والدہ کے ہمراہ انیتا بوس کا پہلا دورۂ ہندوستان بہت بعد میں، 1960 میں ہوا۔ 83 سالہ انیتا کہتی ہیں کہ اس وقت بہت کم عمر ہونے کے باوجود اس سفر کی چند واضح یادیں اب بھی ان کے ذہن میں نقش ہیں۔ وہ تسلیم کرتی ہیں کہ ’یادداشتوں میں کچھ خلا تو ہے ، لیکن یادیں، دستاویزات اور کہانیاں موجود ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب مکمل ہو جائے گی۔‘ وہ اس کام میں اکیلی نہیں ہیں۔ ان کی بیٹی ’مایا‘، جنہوں نے اپنی دادی کو ذاتی طور پر قریب سے دیکھا تھا، اس بیانیے کو ترتیب دینے میں مدد کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ شرت چندر بوس کی پوتی ’مادھوری بوس‘ بھی اس کوشش میں اپنا تعاون دے رہی ہیں۔
انیتا بوس پف اس کتاب کے مقصد کے بارے میں بالکل واضح ہیں۔ انہوں نے کہا ’یہ سبھاش بوس پر لکھی گئی کوئی عام روایتی کتاب نہیں ہے۔ وہ کہانی تو کئی بار سنائی جا چکی ہے، لیکن میری والدہ کی کہانی کبھی سامنے نہیں آئی۔‘ ’سبھاش کی ایملی‘ کا مقصد اس خاموشی کو ختم کرنا ہے اور ایک ایسی خاتون کا گہرا ذاتی احوال پیش کرنا ہے جو عالمی تاریخ کے حاشیے پر تو کھڑی تھی، مگر جس نے تاریخ کے تند و تیز طوفانوں کا سامنا کیا۔ ایک ایسی خاتون جوہندوستان کی ایک عظیم شخصیت کے ساتھ بندھی ہوئی تھی مگر اپنی زندگی کے کٹھن راستے اسے تنہا ہی طے کرنے پڑے۔
یواین آئی۔ایف اے