Friday, Feb 13 2026 | Time 03:01 Hrs(IST)
features

انیتا بوس پف نیتا جی کی آسٹریلیائی اہلیہ کی ان کہی داستان پر کام کر رہی ہیں

انیتا بوس پف نیتا جی کی آسٹریلیائی  اہلیہ کی ان کہی داستان  پر کام کر رہی ہیں

از: جنیت رائے چودھری
نئی دہلی، 23 جنوری (یو این آئی) ہندوستان کے عظیم مجاہد آزادی سبھاش چندر بوس کی صاحبزادی، انیتا بوس پف، ایک ایسی کتاب پر کام کر رہی ہیں جس کا مقصد تاریخ کے ایک ایسے باب پر روشنی ڈالنا ہے جسے طویل عرصے سے نظر انداز کیا گیا ہے،اس کتاب کا عارضی عنوان ’سبھاش کی ایملی‘ رکھا گیا ہے۔ یہ کتاب اپنی توجہ خود بوس کے بجائے—جن پر پہلے ہی جلدوں کی جلدیں لکھی جا چکی ہیں—ان کی اہلیہ ایملی شینکل پر مرکوز کرتی ہے۔ ایملی ایک آسٹرین خاتون تھیں جن کی زندگی محبت، جنگ،مشکل حالات اور طویل خاموشی کے گرد گزری۔
انیتا بوس پف نے ’یو این آئی‘ سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران بتایا: ’’میری والدہ پہلی جنگِ عظیم سے قبل پیدا ہوئیں، دوسری جنگِ عظیم کے دوران وہ ایک نوجوان خاتون تھیں اور انہوں نے جنگ کے بعد کے یورپ میں انتہائی مشکل زندگی گزاری، لیکن وہ ہمیشہ ہمت اور استقامت کی علامت بن کر رہیں۔‘‘
ایملی شینکل ویانا کی رہنے والی تھیں اور انہوں نے نیتا جی کے ساتھ بطور سکریٹری کام کیا۔ دونوں نے شادی کی اور ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ اس کے فوراً بعد، دوسری جنگِ عظیم کی شدت کے دوران، نیتا جی ہندوستان کی جدوجہد آزادی کو آگے بڑھانے کے لیے جنوب مشرقی ایشیا روانہ ہو گئے۔
ایک طرف جہاں بوس نے آزاد ہند کی عارضی حکومت تشکیل دی اور برطانوی فوج کے خلاف انڈین نیشنل آرمی (آزاد ہند فوج) کی قیادت کی، وہیں ایملی یورپ میں رہ گئیں۔ انہوں نے دوسری جنگِ عظیم کے ہنگاموں اور اس کے بعد کے تباہ کن حالات میں ایک تنہا اور مشکل زندگی گزاری۔ انہوں نے وسائل کی شدید قلت، بے یقینی اور سیاسی شکوک و شبہات کے سائے میں اپنی بیٹی انیتا کی تنہا پرورش کی۔
یہ کتاب ایملی کی زندگی کا احاطہ کرے گی، جس میں دوسری جنگِ عظیم سے قبل کا دور، جنگ کے دوران ان کی جوانی اور اس کے بعد کے کٹھن سال شامل ہوں گے۔ انیتا بوس پف نے بتایا ’’ ہم بوس خاندان کے افراد سے پہلی بار 1947 میں مل سکے تھے (جب نیتا جی کے بھائی شرت چندر بوس نے ویانا کا سفر کیا تھا)۔‘‘
1910 میں ایک آسٹرین کیتھولک خاندان میں پیدا ہونے والی ایملی کو 1934 میں سبھاش چندر بوس نے اپنی سکریٹری کے طور پر رکھا تھا، جب وہ یورپ میں جبری جلاوطنی کے دوران اپنی کتاب ’دی انڈین اسٹرگل‘ لکھ رہے تھے۔ 1937 میں بوس کے ایک اور دورہ یورپ کے دوران ان کی شادی ہوئی، لیکن وہ ان کے ساتھ مستقل طور پر اسی وقت رہ سکیں جب بوس ہندوستان میں نظر بندی سے فرار ہو کر افغانستان اور روس کے راستے برلن پہنچے۔ ان کی بیٹی انیتا نومبر 1942 میں پیدا ہوئیں، اور 1943 میں بوس آبدوز کے ذریعے تین سمندروں کا پرخطر سفر طے کر کے جنوب مشرقی ایشیا چلے گئے تاکہ آزاد ہند فوج کی کمان سنبھال سکیں۔
جنگ کے بعد کے آسٹریا اور جرمنی میں، ایسے لوگ جن کا ’ایکسس پاورز‘ (محوری قوتوں) سے وابستہ شخصیات کے ساتھ معمولی سا تعلق بھی تھا، انہیں شدید شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ایملی، جو اس دور کے برطانوی مخالف بڑے رہنماؤں میں سے ایک (نیتا جی) سے وابستہ تھیں، اسی خوف اور سائے میں رہیں۔ انیتا بوس پف بتاتی ہیں کہ ان کی والدہ اور ہندوستان میں بوس خاندان کے درمیان رابطے کا نظام انتہائی سست اور ناقابلِ بھروسہ تھا۔ انہوں نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’1946 میں بھیجے گئے خطوط یا تو گم ہو گئے، تاخیر کا شکار ہوئے یا کبھی اپنی منزل تک پہنچ ہی نہ سکے‘، کیونکہ جنگ کے بعد کا یورپ تباہ حال انفراسٹرکچر اور ناقص مواصلاتی نظام سے جوجھ رہا تھا۔
اپنی والدہ کے ہمراہ انیتا بوس کا پہلا دورۂ ہندوستان بہت بعد میں، 1960 میں ہوا۔ 83 سالہ انیتا کہتی ہیں کہ اس وقت بہت کم عمر ہونے کے باوجود اس سفر کی چند واضح یادیں اب بھی ان کے ذہن میں نقش ہیں۔ وہ تسلیم کرتی ہیں کہ ’یادداشتوں میں کچھ خلا تو ہے ، لیکن یادیں، دستاویزات اور کہانیاں موجود ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب مکمل ہو جائے گی۔‘ وہ اس کام میں اکیلی نہیں ہیں۔ ان کی بیٹی ’مایا‘، جنہوں نے اپنی دادی کو ذاتی طور پر قریب سے دیکھا تھا، اس بیانیے کو ترتیب دینے میں مدد کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ شرت چندر بوس کی پوتی ’مادھوری بوس‘ بھی اس کوشش میں اپنا تعاون دے رہی ہیں۔
انیتا بوس پف اس کتاب کے مقصد کے بارے میں بالکل واضح ہیں۔ انہوں نے کہا ’یہ سبھاش بوس پر لکھی گئی کوئی عام روایتی کتاب نہیں ہے۔ وہ کہانی تو کئی بار سنائی جا چکی ہے، لیکن میری والدہ کی کہانی کبھی سامنے نہیں آئی۔‘ ’سبھاش کی ایملی‘ کا مقصد اس خاموشی کو ختم کرنا ہے اور ایک ایسی خاتون کا گہرا ذاتی احوال پیش کرنا ہے جو عالمی تاریخ کے حاشیے پر تو کھڑی تھی، مگر جس نے تاریخ کے تند و تیز طوفانوں کا سامنا کیا۔ ایک ایسی خاتون جوہندوستان کی ایک عظیم شخصیت کے ساتھ بندھی ہوئی تھی مگر اپنی زندگی کے کٹھن راستے اسے تنہا ہی طے کرنے پڑے۔
یواین آئی۔ایف اے

خاص خبریں
ہندوستانی معیشت  اس وقت غیر معمولی متوازن ہے: سیتارمن

ہندوستانی معیشت اس وقت غیر معمولی متوازن ہے: سیتارمن

نئی دہلی، 12 فروری (یواین آئی) وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا ہے کہ ہندوستان معیشت اس وقت غیرمعمولی متوازن ہے جہاں بلند اقتصادی ترقی کے ساتھ افراطِ زر طویل عرصے تک نچلی سطح پر چل رہا ہے محترمہ سیتارمن نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں بجٹ 2026-27 پر چار روزہ عمومی بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بے روزگاری کی شرح بھی نچلی سطح پر ہے اور پچھلے ایک عشرے میں ٹیکس دہندگان کی تعداد دوگنی ہو کر 12 کروڑ سے زیادہ ہو گئی ہے۔

...مزید دیکھیں
بنگلہ دیش عام انتخابات: نتائج کے ابتدائی رجحانات میں جماعت اسلامی اور بی این پی کے درمیان سخت مقابلہ

بنگلہ دیش عام انتخابات: نتائج کے ابتدائی رجحانات میں جماعت اسلامی اور بی این پی کے درمیان سخت مقابلہ

ڈھاکہ، 12 فروری (یو این آئی) بنگلہ دیش کے تاریخی عام انتخابات کے ووٹوں کی گنتی شروع ہونے کے ساتھ انتخابی نتائج کے ابتدائی رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی اور بی این پی کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

...مزید دیکھیں
غیر ملکی دباؤ میں کیے گئے معاہدے ملک کے مفاد کے خلاف ہیں: کھڑگے

غیر ملکی دباؤ میں کیے گئے معاہدے ملک کے مفاد کے خلاف ہیں: کھڑگے

نئی دہلی، 12 فروری (یواین آئی) کانگریس کے صدر ملیکارجن کھڑگے نے مرکز کی حکومت پر سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ملکی دباؤ میں کیے گئے معاہدے ملک کے مفاد کے خلاف ہیں اور حکومت کی پالیسیاں کروڑوں محنت کش کسانوں، مزدوروں اور کارکنوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہیں کھڑگے نے نئے لیبر قوانین اور منریگا کو کمزور کرنے کے الزامات پر مودی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ ملک بھر میں ٹریڈ یونینیں، کسان اور مزدور حکومت کی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر اتر کر احتجاج کر رہے ہیں۔

...مزید دیکھیں
راہل گاندھی نے لیبر کوڈ اور تجارتی معاہدے پر مرکز سے سوال کیا

راہل گاندھی نے لیبر کوڈ اور تجارتی معاہدے پر مرکز سے سوال کیا

نئی دہلی، 12 فروری (یواین آئی) کانگریس رہنما راہل گاندھی نے جمعرات کو ملک بھر میں احتجاج کرنے والے مزدوروں اور کسانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مرکز کی حالیہ پالیسی فیصلے ان کے حقوق اور روزگار کو خطرے میں ڈال رہے ہیں ایکس پر ایک پوسٹ میں راہل گاندھی نے کہاکہ "ملک بھر میں لاکھوں مزدور اور کسان اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر ہیں" اور حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے ایسے فیصلے کرتے وقت اسٹیک ہولڈرز کو نظرانداز کیا جو ان کے مستقبل کو متاثر کرتے ہیں۔

...مزید دیکھیں
ہند۔امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا احتجاج

ہند۔امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا احتجاج

نئی دہلی، 12 فروری (یو این آئی) کانگریس اور انڈیا اتحاد کی مختلف پارٹیون کے رہنماؤں نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس کے مکر دوار کے باہر امریکہ کے ساتھ ہوئے تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاج کیا اور الزام لگایا کہ اس میں کسانوں کے مفادات کو نظر انداز کیا گیا ہے اتحاد کے رہنماؤں نے ہاتھوں میں بینر اور تختیاں لے کر حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کی۔

...مزید دیکھیں
ہندوستان نے فرانس کے ساتھ 36 ارب ڈالر کے رافیل معاہدے کو مقامی پیداوار پر زور دیتے ہوئے آگے بڑھایا

ہندوستان نے فرانس کے ساتھ 36 ارب ڈالر کے رافیل معاہدے کو مقامی پیداوار پر زور دیتے ہوئے آگے بڑھایا

جینت رائے چوہدری
نئی دہلی، 12 فروری (یواین آئی) ہندوستان فرانس سے 114 اضافی رافیل ایف-4 لڑاکا طیارے حاصل کرنے کے لیے ملٹی بلین ڈالر کے معاہدے کو آگے بڑھا رہا ہے، جن میں سے 96 طیارے ناگپور میں ڈسالٹ ریلائنس ایروسپیس لمیٹڈ کے پلانٹ میں تیار کیے جائیں گے یہ اقدام فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کے آئندہ منگل کو ہندوستان کے دورے سے پہلے کیا جا رہا ہے اس معاہدے میں 18 طیارے براہِ راست فراہم کیے جائیں گے، جبکہ باقی ہندوستان میں تیار ہوں گے۔

...مزید دیکھیں
بنگلہ دیش انتخابات: محمد یونس، شفیق الرحمان اور طارق رحمان نے ووٹ ڈال دیا

بنگلہ دیش انتخابات: محمد یونس، شفیق الرحمان اور طارق رحمان نے ووٹ ڈال دیا

ڈھاکہ، 12 فروری (یو این آئی) بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان، بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے سربراہ طارق رحمان، بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس اور جین زی پر مشتمل جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی کے کنوینر ناہید الاسلام نے اپنا حق رائے دہی استعمال کرلیا امیرِ جماعت اسلامی شفیق الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کے لیے یہ انتخابات ایک اہم موڑ ہیں، لوگوں کے مطالبات اور خواہشات بدل رہی ہیں، ہم بھی تبدیلی کے حق دار ہیں۔

...مزید دیکھیں

ایف آئی ایچ پرو لیگ: ارجنٹائن نے ہندوستان کو 8-0 سے ہرایا

12 Feb 2026 | 11:35 PM

راؤرکیلا،12 فروری ( یو این آئی)ایف آئی ایچ مردوں کی ہاکی پرو لیگ 2025-26 کے راؤرکیلا مرحلے میں جمعرات کو ہندوستان کو ارجنٹائن کے ہاتھوں بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ارجنٹائن نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندوستانی ٹیم کو 8-0 کے بڑے فرق سے ہرا کر ہوم گراؤنڈ پر موجود ہزاروں شائقین کو مایوس کر دیا۔.

ہروندر سنگھ سرنا کو فوری طور پر پنتھ سے خارج کیا جائے: ڈی ایس جی پی سی

12 Feb 2026 | 11:50 PM

امرتسر، 12 فروری (یو این آئی): دہلی سکھ گردوارہ منیجمنٹ کمیٹی (ڈی ایس جی پی سی) کے ایک وفد نے جمعرات کے روز کمیٹی کے سابق صدر ہروندر سنگھ سرنا کے خلاف جتھیدار شری اکال تخت صاحب گیانی کلدیپ سنگھ گڈگج کے روبرو اپنی شکایت درج کرائی ہے۔ وفد نے الزام لگایا ہے کہ مسٹر سرنا نے کانگریس رہنما راہل گاندھی کو مبینہ طور پر معافی دینے کی بات کہی ہے اور شری اکال تخت صاحب کو محض ایک 'عمارت' قرار دیا ہے، جو سکھ روایات کی کھلی توہین ہے۔.

ہندوستان مصنوعی ذہانت کی نئی عالمی طاقت

ہندوستان مصنوعی ذہانت کی نئی عالمی طاقت

11 Feb 2026 | 6:32 PM

نئی دہلی، 11 فروری (یو این آئی) ہندوستان کی ترقی میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایک مرکزی ستون بن کر ابھری ہے، جو نہ صرف حکمرانی اور عوامی خدمات کو بہتر بنا رہی ہے بلکہ بڑے پیمانے پر شہریوں کے مسائل کا حل بھی فراہم کر رہی ہے۔ انسانی ترقی کی تاریخ میں بجلی، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور موبائل فون نے جس طرح انقلابات برپا کیے، اب اے آئی اسی تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے زراعت، صحت، تعلیم اور ماحولیات جیسے شعبوں میں انسانوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ .