RegionalPosted at: May 13 2026 10:44PM عقیل احمد ندوی کی خدمات ان کے وسیع ظرف، دینی حمیت اور انسانی ہمدردی کا روشن ثبوت ہیں: عبید اللہ فیضی

لکھنو، ڈومریاگنج، 13 مئی، پریس ریلیز (یو این آئی) مقامی جماعت اسلامی ہند، بیدولہ گڑھ ڈومریاگنج کی جانب سے آج بروز بدھ عقیل احمد ندوی کی رحلت پر ایک تعزیتی نشست منعقد کی گئی، جس میں کثیر تعداد میں مقامی ذمہ داران، اراکینِ جماعت نے شرکت کی، اس تعزیتی نشست کی صدارت جماعت اسلامی ہند ضلع سدھارتھ نگر کے ناظم ضلع مولانا عبید اللہ فیضی نے کی، نشست کے دوران مولانا موصوف کی دینی، سماجی اور ملی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اپنے صدارتی خطاب میں مولانا عبید اللہ فیضی نے مرحوم عقیل احمد ندوی صاحب کی شخصیت اور خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کے موصوف سے تعلقات 1990 سے تھے اور اس طویل عرصے میں انہوں نے مرحوم کو ایک نہایت ملنسار، خوش مزاج، مخلص، امانت دار اور تحریکِ اسلامی کے تئیں بے حد سرگرم فرد پایا۔
انہوں نے کہا کہ موصوف نے اپنی پوری زندگی دین کی خدمت اور جماعت اسلامی ہند کے مشن کے لیے وقف کر دی تھی۔ اپنی ذاتی اور کاروباری مصروفیات کے باوجود وہ جماعتی سرگرمیوں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے اور علاقے میں دعوتِ دین کے کام کو اخلاص کے ساتھ انجام دیتے رہے۔ مولانا عبید اللہ فیضی نے مزید کہا کہ موصوف نے برادرانِ وطن تک اسلام کا صحیح پیغام پہنچانے کے لیے ڈومریاگنج اور اس کے اطراف میں نمایاں خدمات انجام دیں، جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے موصوف کی سماجی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افشاں بک ڈپو کے ذریعے وہ نہ صرف روزگار کرتے تھے بلکہ متعدد غیر مسلم بھائیوں کو مفت اسلامی کتابیں فراہم کرتے اور ضرورت مندوں کی خاموشی کے ساتھ مالی مدد بھی کیا کرتے تھے۔ ان کی یہ خدمات ان کے وسیع ظرف، دینی حمیت اور انسانی ہمدردی کا روشن ثبوت ہیں۔
اس موقع پر مولانا مشتاق احمد نے بھی اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ عقیل احمد ندوی نے کئی دہائیوں تک امیرِ مقامی کی حیثیت سے جماعتی خدمات انجام دیں۔ ان کے امیر مقامی ہونے کے دوران جماعتی نظم و نسق مضبوط ہوا اور دعوتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ موصوف اعلیٰ اخلاق کے مالک، نہایت مہمان نواز اور بے حد خوش اخلاق انسان تھے۔ ان کی امانت داری، خلوص اور خدمتِ خلق کا جذبہ عوام میں نمایاں تھا، یہی وجہ ہے کہ قرب و جوار کے لوگ ان سے بے لوث محبت اور عقیدت رکھتے تھے۔
تعزیتی نشست کے اختتام پر مرحوم کے لیے اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا، جس میں اللہ تعالیٰ سے ان کی مغفرت، درجات کی بلندی اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمانے کی دعا کی گئی۔ دعا میں یہ بھی کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی بشری لغزشوں کو معاف فرمائے، ان کی دینی و سماجی خدمات کو ان کے حق میں صدقۂ جاریہ بنائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
شرکاء نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ مرحوم کے مشن، اخلاص اور خدمتِ دین کے جذبے کو آگے بڑھایا جائے گا اور ان کی یادوں کو ہمیشہ زندہ رکھا جائے گا۔ شرکاء میں مولانا محمد اختر فلاحی تلکہنا، مولانا اظہرالدین فلاحی ، مولانا عبد الاول ندوی پرنسپل الجامعتہ الاسلامیہ تلکہنا، ماسٹر عبدالغفار تلکہنا، محمد نسیم فلاحی امیر مقامی ڈومریاگنج، ماسٹر احمد اسماعیل لیکچرار پی آئی سی انٹر کالج ڈومریاگنج، مولانا عبیدالرحمن فلاحی اقراء بک ڈپو بیدولہ، ڈاکٹر عبدالمبین علیگ، ابو بکر فلاحی، صحافی عبد المقیت یو این آئی دہلی کے علاوہ جامعہ مصباح العلوم چوکونیاں کے اساتذہ وغیرہ موجود تھے۔
یو این آئی۔ اے ایم۔