NationalPosted at: Aug 10 2026 5:12PM لوک سبھا میں بغیر بحث کے ’ٹریبونل اصلاحات بل‘ منظور، کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

نئی دہلی، 10 اگست (یواین آئی) لوک سبھا میں مانسون اجلاس کے آخری ہفتے کے پہلے دن پیر کو بھی اپوزیشن ارکان کا ہنگامہ جاری رہا، جس کے باعث دو بار کارروائی ملتوی ہونے کے بعد پریزائیڈنگ افسر جگدمبیکا پال نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی دو بار کارروائی ملتوی ہونے کے بعد جب دوپہر دو بجے ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو اپوزیشن ارکان ہنگامہ کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں آ گئے اور گزشتہ ہفتے کی طرح نعرے بازی کرنے لگے۔ پریزائیڈنگ افسر نے ارکان سے ہنگامہ نہ کرنے اور ایوان کی کارروائی خوش اسلوبی سے چلانے میں تعاون کرنے کی اپیل کی۔
اس دوران پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ کانگریس اور اپوزیشن جماعتیں اجلاس کے پہلے دن سے ہی پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان کا مطالبہ کر رہی ہیں اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی بھی یہی مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ طلبہ کے خلاف ہوئی کارروائی کے معاملے پر بیان دینے کے لیے تیار ہیں اور حکومت اس معاملے پر بحث کے بعد مسٹر شاہ کے جواب کے لیے بھی تیار ہے۔
پریزائیڈنگ افسر نے کہا کہ جب پارلیمانی امور کے وزیر کہہ رہے ہیں کہ وزیر داخلہ بیان دینے کے لیے تیار ہیں تو تمام ارکان کو اپنی نشستوں پر واپس جانا چاہیے اور ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب وزیر داخلہ بحث کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں اور حکومت بھی بحث چاہتی ہے تو ایوان کو چلنے دیا جانا چاہیے۔
ہنگامے کے درمیان پریزائیڈنگ افسر نے قانون و انصاف کے وزیر مملکت ارجن رام میگھوال سے ’ٹریبونل اصلاحات بل، 2026‘ کو ایوان سے منظور کرانے کے لیے پیش کرنے کو کہا۔ مسٹر میگھوال نے بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی ٹریبونل کے دائرۂ اختیار میں کوئی تبدیلی نہیں کرتا بلکہ شفافیت اور قابل اعتماد نظام کو یقینی بنانے کے مقصد سے لایا گیا ہے۔
مسٹر جگدمبیکا پال نے بل پر بحث میں حصہ لینے کے لیے کئی ارکان کے نام پکارے، لیکن ہنگامے کے باعث کسی رکن کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔ اس کے بعد انہوں نے بل کو ایوان سے منظور کرنے کے لیے پیش کیا اور ہنگامے کے درمیان بل کو بغیر بحث کے صوتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔
پریزائیڈنگ افسر نے ارکان سے اپنی نشستوں پر واپس جانے اور ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی، لیکن ہنگامہ جاری رہنے پر انہوں نے لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی۔
یواین آئی۔ ظ ا