InternationalPosted at: Aug 16 2026 3:54PM یمن کی مخا بندرگاہ پر حوثی حملوں کے بعد کارروائیاں بند

تعز (یمن)، 16 اگست (یو این آئی) یمن کی اہم بحیرہ احمر میں واقع مخا بندرگاہ نے حالیہ دنوں میں 25 سے زیادہ میزائل حملوں کے بعد تجارتی اور بحری سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔ ان حملوں میں 7 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور تقریباً 1.6 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے بندرگاہ کے ڈائریکٹر نے کہا کہ میزائل حملوں سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا، جس کے باعث کارروائیاں روکنی پڑیں۔ مخا بندرگاہ باب المندب آبنائے کے قریب واقع ہے، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے جوڑنے والا اہم سمندری راستہ ہے۔
یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے مطابق حوثی باغیوں نے جمعہ کو مخا پر 6 بیلسٹک میزائل داغے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ ساری نے کہا کہ حملوں میں سعودی فوجیوں کے ٹھکانوں اور ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت سے وابستہ افواج کی فوجی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 9 اگست کو بھی مخا پر حوثیوں کے حملے میں 7 افراد کی ہلاکت اور 30 کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ حوثیوں نے اس وقت بھی سعودی فوجیوں کے ٹھکانوں اور اسلحہ کے گوداموں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
حالیہ حملوں سے یمن میں طویل عرصے سے جاری جنگ بندی کے کمزور پڑنے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ایران کی حمایت یافتہ حوثی، جنہیں انصار اللہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، شمالی یمن کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ ان علاقوں میں دارالحکومت صنعاء اور بحیرہ احمر کا وسیع ساحلی علاقہ شامل ہے۔ تنظیم نے علاقائی تنازعات کے دوران بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
یمن میں تنازع ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری ہے اور بنیادی طور پر حوثیوں اور سعودی عرب و دیگر علاقائی ممالک کی حمایت والی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان ہے۔ سعودی عرب نے 2015 میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی۔
اقوام متحدہ کی ثالثی میں 2022 میں ہوئی جنگ بندی سے لڑائی کی شدت کم ہوئی تھی، لیکن مستقل امن قائم نہیں ہو سکا۔ مخا بندرگاہ پر تازہ حملوں نے بحیرہ احمر میں بحری سلامتی اور علاقائی تجارت کے حوالے سے تشویش مزید بڑھا دی ہے۔
یو این آئی، ایم جے